Skip to content

Ahmed Faraz

تمام عمر کہاں کوئی

تمام عمر کہاں کوئی ساتھ دیتا ہے

یہ جانتا ہوں مگر تھوڑی دور ساتھ چلو

Explanation: انسانوں کی ناپائیداری کا علم ہونے کے باوجود، شاعر محبوب سے التجا کرتا ہے کہ بے شک عمر بھر کا ساتھ نہ ہو، لیکن کچھ لمحوں کے لیے ہی سہی، میرے ہم سفر بن جاؤ۔

میں نے دیکھا ہے

میں نے دیکھا ہے بہاروں میں چمن کو جلتے

ہے کوئی خواب کی تعبیر بتانے والا

Explanation: شاعر نے خوشیوں اور عروج کے دنوں میں اچانک آنے والی تباہی کو محسوس کیا ہے، اور وہ حیرت زدہ ہے کہ عین بہار کے موسم میں یہ بربادی کیوں مقدر بنی۔

ضبط لازم ہے مگر

ضبط لازم ہے مگر دکھ ہے قیامت کا فرازؔ

ظالم اب کے بھی نہ روئے گا تو مر جائے گا

Explanation: شاعر خود کلامی کرتے ہوئے کہتا ہے کہ برداشت اور خاموشی ضروری ہے، لیکن اندر کا دکھ اتنا شدید ہے کہ اگر اب آنسوؤں کی شکل میں نہ نکلا تو جان لے لے گا۔

ہو دور اس طرح

ہو دور اس طرح کہ ترا غم جدا نہ ہو

پاس آ تو یوں کہ جیسے کبھی تو ملا نہ ہو

Explanation: محبت کی ایک نازک کیفیت کا بیان ہے جس میں شاعر چاہتا ہے کہ دوری میں بھی محبوب کی یاد سلامت رہے، اور جب قربت ہو تو وہ اتنی شدت سے ملے جیسے پہلی بار مل رہا ہو۔

فرازؔ ترک تعلق تو

فرازؔ ترک تعلق تو خیر کیا ہوگا

یہی بہت ہے کہ کم کم ملا کرو اس سے

Explanation: محبوب سے مکمل طور پر رشتہ توڑنا شاعر کے بس میں نہیں، اس لیے وہ خود کو یہ سمجھا کر تسلی دیتا ہے کہ کم از کم اس سے ملاقاتیں ہی کم کر دینی چاہئیں۔

کتنے ناداں ہیں ترے

کتنے ناداں ہیں ترے بھولنے والے کہ تجھے

یاد کرنے کے لیے عمر پڑی ہو جیسے

Explanation: شاعر محبوب کو فراموش کرنے والوں کی بے وقوفی پر حیران ہے کہ ایسی ہستی کو کیسے بھلایا جا سکتا ہے، زندگی تو اتنی مختصر ہے اور محبوب کی یادوں کے لیے ایک عمر بھی کم ہے۔

سنا ہے اس کو

سنا ہے اس کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف

سو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں

Explanation: محبوب کی شاعری سے دلچسپی کی خبر سن کر شاعر کو امید پیدا ہوئی ہے کہ شاید وہ اپنے شاندار اشعار کے ذریعے اس کے دل میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو جائے۔

تو سامنے ہے تو

تو سامنے ہے تو پھر کیوں یقیں نہیں آتا

یہ بار بار جو آنکھوں کو مل کے دیکھتے ہیں

Explanation: محبوب کا وصل اتنا غیر متوقع اور خوشگوار ہے کہ شاعر کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا، اور وہ بار بار آنکھیں مل کر حقیقت کی تصدیق کر رہا ہے۔

ٹوٹا تو ہوں مگر

ٹوٹا تو ہوں مگر ابھی بکھرا نہیں فرازؔ

میرے بدن پہ جیسے شکستوں کا جال ہو

Explanation: شاعر مصائب اور دکھوں سے اندر تک ٹوٹ چکا ہے لیکن اس نے ابھی تک حوصلہ نہیں ہارا اور خود کو مکمل طور پر بکھرنے سے روکا ہوا ہے۔

سلسلے توڑ گیا وہ

سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے

ورنہ اتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتے

Explanation: شاعر دکھ کا اظہار کر رہا ہے کہ محبوب جاتے وقت تمام رشتے اور رابطے ختم کر گیا، حالانکہ تعلقات اس قدر گہرے تھے کہ کم از کم آنا جانا تو رہنا چاہیے تھا۔

تیرے بغیر بھی تو

تیرے بغیر بھی تو غنیمت ہے زندگی

خود کو گنوا کے کون تری جستجو کرے

Explanation: شاعر کی انا اور خودداری جاگ اٹھتی ہے، وہ کہتا ہے کہ محبوب کے بغیر بھی زندگی بری نہیں ہے، اور اپنی ذات کی توہین کر کے محبوب کو پانا سودا مہنگا ہے۔

زندگی پر اس سے

زندگی پر اس سے بڑھ کر طنز کیا ہوگا فرازؔ

اس کا یہ کہنا کہ تو شاعر ہے دیوانہ نہیں

Explanation: محبوب کا یہ سمجھنا کہ شاعر کا جنون صرف اس کی شاعری کی حد تک ہے اور وہ واقعی دیوانہ نہیں، شاعر کی سچی محبت اور جذبوں کی شدید توہین ہے۔

تیرے ہوتے ہوئے محفل

تیرے ہوتے ہوئے محفل میں جلاتے ہیں چراغ

لوگ کیا سادہ ہیں سورج کو دکھاتے ہیں چراغ

Explanation: محبوب کے حسن کو سورج کی روشنی سے تشبیہ دی گئی ہے کہ اس کی موجودگی میں چراغ جلانا بالکل ویسا ہی بے وقوفی کا کام ہے جیسے دن کے اجالے میں دیا جلانا۔

ایسی تاریکیاں آنکھوں میں

ایسی تاریکیاں آنکھوں میں بسی ہیں کہ فرازؔ

رات تو رات ہے ہم دن کو جلاتے ہیں چراغ

Explanation: شاعر کے اندر اور اس کی زندگی میں اتنی گہری مایوسی اور اندھیرا چھا گیا ہے کہ دن کی روشنی بھی اسے تاریک لگتی ہے اور اسے دن میں بھی چراغوں کی ضرورت پڑتی ہے۔

فرازؔ عشق کی دنیا

فرازؔ عشق کی دنیا تو خوبصورت تھی

یہ کس نے فتنۂ ہجر و وصال رکھا ہے

Explanation: محبت بذات خود ایک انتہائی خوبصورت جذبہ ہے، لیکن شاعر شکایت کرتا ہے کہ ملنے اور بچھڑنے (وصال و ہجر) کے مراحل نے اس رشتے کو ایک اذیت ناک کشمکش بنا دیا ہے۔

جب بھی دل کھول

جب بھی دل کھول کے روئے ہوں گے

لوگ آرام سے سوئے ہوں گے

Explanation: دنیا کی بے حسی کا شکوہ ہے کہ جب عاشق اپنے درد کی شدت سے راتوں کو تڑپتا اور روتا ہے، تو دنیا والے بے پرواہ ہو کر مزے کی نیند سو رہے ہوتے ہیں۔

نہ مرے زخم کھلے

نہ مرے زخم کھلے ہیں نہ ترا رنگ حنا

موسم آئے ہی نہیں اب کے گلابوں والے

Explanation: اس شعر میں مایوسی کا اظہار ہے کہ اس بار بہار کا موسم کچھ ایسی اداسی لے کر آیا کہ نہ تو دل کے پرانے زخم تازہ ہوئے اور نہ ہی محبوب کے ہاتھوں کی مہندی رچی۔

جدائیاں تو مقدر ہیں

جدائیاں تو مقدر ہیں پھر بھی جان سفر

کچھ اور دور ذرا ساتھ چل کے دیکھتے ہیں

Explanation: شاعر جانتا ہے کہ آخر کار اس تعلق کا انجام جدائی ہے، لیکن پھر بھی وہ محبوب سے التجا کرتا ہے کہ اس خوبصورت سفر میں کچھ دیر اور ایک دوسرے کا ساتھ نبھا لیں۔

کسے خبر وہ محبت

کسے خبر وہ محبت تھی یا رقابت تھی

بہت سے لوگ تجھے دیکھ کر ہمارے ہوئے

Explanation: محبوب کا دلکشی اور کشش ایسی ہے کہ اسے دیکھنے کے بعد کئی لوگ شاعر کے دوست بن گئے، چاہے اس کے پیچھے سچی محبت ہو یا محبوب سے جڑنے کی کوئی حسد بھری رقابت۔

مدتیں ہو گئیں فرازؔ

مدتیں ہو گئیں فرازؔ مگر

وہ جو دیوانگی کہ تھی ہے ابھی

Explanation: وقت گزرنے کے باوجود شاعر کے دل میں محبت کی آگ اور جذبے کی شدت میں کوئی کمی نہیں آئی، اس کی دیوانگی آج بھی پہلے دن جیسی ہے۔