Skip to content

Allama iqbal

مانا کہ تیری دید

مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں

تو میرا شوق دیکھ مرا انتظار دیکھ

Explanation: شاعر عاجزی کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اگرچہ میں تیرے جلوے یا قربت کے لائق نہیں، مگر میری سچی تڑپ اور صبر آزما انتظار کو تو اہمیت دے۔

خودی کو کر بلند

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

Explanation: یہ اقبال کا انتہائی مشہور فلسفہِ خودی ہے، جس میں وہ پیغام دیتے ہیں کہ انسان کو اپنا کردار اور عمل اتنا بلند کرنا چاہیے کہ خدا بھی اس کی تقدیر لکھنے سے پہلے اس کی مرضی پوچھے۔

ہزاروں سال نرگس اپنی

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

Explanation: شاعر بتاتا ہے کہ دنیا میں حقیقی بصیرت رکھنے والے اور عظیم رہنما بہت مشکل اور صدیوں کے طویل انتظار کے بعد پیدا ہوتے ہیں۔

تو شاہیں ہے پرواز

تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا

ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں

Explanation: اقبال نوجوانوں کو شاہین سے تشبیہ دیتے ہوئے مسلسل جدوجہد کا پیغام دیتے ہیں کہ تمہارا کام بلندیوں کی طرف اڑنا ہے، اور تمہارے مقاصد اور منزلیں کبھی ختم نہیں ہوتیں۔

نہیں تیرا نشیمن قصر

نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر

تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

Explanation: شاعر مردِ مومن کو تلقین کرتا ہے کہ وہ دنیاوی آسائشوں اور شاہی محلات کا طلب گار نہ بنے، بلکہ شاہین کی طرح سخت کوشی اور آزادی کی زندگی اختیار کرے۔

ستاروں سے آگے جہاں

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

Explanation: یہ مسلسل ترقی اور جستجو کا پیغام ہے کہ کائنات محدود نہیں، اور عشق حقیقی کی منازل میں انسان کے لیے قدم قدم پر نئی آزمائشیں اور کامیابیاں منتظر ہیں۔

مسجد تو بنا دی

مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے

من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا

Explanation: شاعر ظاہری اور باطنی دینداری کا فرق بتاتا ہے کہ جذباتی ہو کر راتوں رات مسجد تو تعمیر کی جا سکتی ہے، مگر انسان کے نفس کو سچا نمازی بننے میں برسوں لگ جاتے ہیں۔

اپنے من میں ڈوب

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی

تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن

Explanation: انسان کو خود شناسی کی دعوت دی گئی ہے کہ اپنے اندر جھانک کر زندگی کا مقصد تلاش کرو، اگر تم خدا کے فرماں بردار نہیں بن سکتے، تو کم از کم اپنی ذات کے تو وفادار بنو۔

دنیا کی محفلوں سے

دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا رب

کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو

Explanation: شاعر دنیا کی رنگینیوں اور ظاہری محفلوں سے بیزار ہو چکا ہے، کیونکہ جب اندر کا دل ہی اداس اور ویران ہو تو کوئی بھی میلہ یا محفل خوشی نہیں دے سکتی۔

نہیں ہے ناامید اقبالؔ

نہیں ہے ناامید اقبالؔ اپنی کشت ویراں سے

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

Explanation: اقبال اپنی قوم کی موجودہ حالت سے مایوس نہیں، انہیں یقین ہے کہ مسلمانوں کے دلوں میں اگر تھوڑا سا عشق اور جذبہ بیدار ہو جائے تو وہ دوبارہ عروج پا سکتے ہیں۔

اے طائر لاہوتی اس

اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی

جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی

Explanation: اس شعر میں غیرت اور آزادی کی تعلیم ہے کہ ایسا رزق یا سہولت جو تمہاری خودداری کو ختم کر دے اور تمہاری ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنے، اس سے موت بہتر ہے۔

عمل سے زندگی بنتی

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی

یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

Explanation: انسان نہ تو فرشتوں (نوری) کی طرح پیدائشی معصوم ہے اور نہ شیطان (ناری) کی طرح پیدائشی برا، بلکہ یہ اس کے اعمال ہیں جو اس کی زندگی کو جنت یا جہنم بناتے ہیں۔

نہ سمجھو گے تو

نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے اے ہندوستاں والو

تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

Explanation: یہ برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک تنبیہ ہے کہ اگر انہوں نے وقت کی نزاکت کو نہ سمجھا اور غفلت میں رہے، تو تاریخ کے صفحات سے ان کا نام و نشان مٹ جائے گا۔

ترے عشق کی انتہا

ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں

مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں

Explanation: شاعر خدا کے عشق میں اتنی بلندی چاہتا ہے جس کی کوئی حد نہ ہو، اور پھر اپنی اس معصومانہ اور لامحدود خواہش پر خود ہی حیران ہوتا ہے۔

وجود زن سے ہے

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں

Explanation: کائنات میں عورت کے مقام اور اہمیت کا بیان ہے کہ دنیا کی ساری خوبصورتی، رنگ اور زندگی کی اندرونی حرارت عورت کے وجود اور اس کے کردار سے ہی قائم ہے۔

نشہ پلا کے گرانا

نشہ پلا کے گرانا تو سب کو آتا ہے

مزا تو جب ہے کہ گرتوں کو تھام لے ساقی

Explanation: دنیا والے تو لوگوں کو گمراہ کر کے گرانے کا فن جانتے ہیں، لیکن حقیقی ساقی (رہنما) وہ ہے جو بھٹکے ہوئے اور گرتے ہوئے لوگوں کو سنبھال لے۔

دل سے جو بات

دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے

پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے

Explanation: شاعر خلوص کی طاقت بیان کرتا ہے کہ جو بات سچے دل اور نیت سے کہی جائے، اس میں ظاہری طاقت نہ بھی ہو، پھر بھی وہ دوسروں کے دلوں تک پہنچ کر اثر ضرور دکھاتی ہے۔

مذہب نہیں سکھاتا آپس

مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا

ہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستاں ہمارا

Explanation: یہ شعر قومی یکجہتی کا پیغام ہے کہ کوئی بھی سچا مذہب آپس میں نفرت اور دشمنی کی تعلیم نہیں دیتا، بلکہ تمام ہم وطنوں کو پیار سے مل جل کر رہنا چاہیے۔

فقط نگاہ سے ہوتا

فقط نگاہ سے ہوتا ہے فیصلہ دل کا

نہ ہو نگاہ میں شوخی تو دلبری کیا ہے

Explanation: عشق میں دلوں کے فیصلے محض ایک نظر سے ہو جاتے ہیں، اور اگر محبوب کی نگاہوں میں وہ خاص شرارت اور کشش نہ ہو تو محبت کا کوئی مزہ نہیں۔

یوں تو سید بھی

یوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو

تم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہو

Explanation: اقبال مسلمانوں کو ان کی ذات پات اور نسل پرستی پر طنز کرتے ہیں کہ تم نے خود کو مختلف قومیتوں میں تو بانٹ لیا ہے، لیکن کیا تمہارے اندر ایک سچے مسلمان کی خوبیاں باقی ہیں؟