Skip to content

Allama iqbal

عقابی روح جب بیدار

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں

نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں

Explanation: جب نوجوانوں کے اندر شاہین جیسی اڑان، جذبہ اور بلند سوچ پیدا ہو جاتی ہے، تو وہ دنیاوی رکاوٹوں سے بالا تر ہو کر آسمانوں کو اپنی منزل بنا لیتے ہیں۔

اچھا ہے دل کے

اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبان عقل

لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے

Explanation: عقل اور دل (عشق) کا توازن پیش کیا گیا ہے کہ زندگی کے فیصلوں میں عقل کا ہونا ضروری ہے، مگر کبھی کبھار عشق کی بے خودی میں دل کو آزاد بھی چھوڑ دینا چاہیے۔

بے خطر کود پڑا

بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق

عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی

Explanation: حضرت ابراہیمؑ کے واقعے کی طرف اشارہ ہے کہ سچا عشق نتائج کی پرواہ کیے بغیر آگ میں بھی کود جاتا ہے، جبکہ عقل صرف دور کھڑی فائدے اور نقصان کا حساب لگاتی رہتی ہے۔

جس کھیت سے دہقاں

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزی

اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو

Explanation: یہ سرمایہ دارانہ نظام اور ظلم کے خلاف ایک انقلابی شعر ہے کہ جو نظام غریب مزدور یا کسان کو اس کی محنت کا پھل نہ دے سکے، ایسے ظالمانہ نظام کو تباہ کر دینا چاہیے۔

غلامی میں نہ کام

غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں

جو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں

Explanation: غلامی کے اندھیروں میں محض ہتھیار یا چالاکیاں آزادی نہیں دلا سکتیں، آزادی کے لیے سب سے ضروری چیز دل میں سچا ایمان اور آزادی کا غیر متزلزل یقین ہے۔

یقیں محکم عمل پیہم

یقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم

جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں

Explanation: زندگی کی جنگ جیتنے کے لیے تین چیزیں ناگزیر ہیں: پختہ ارادہ، مسلسل جدوجہد اور تمام کائنات کے لیے محبت۔ یہی سچے انسانوں کے اصل ہتھیار ہیں۔

حرم پاک بھی اللہ

حرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایک

کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک

Explanation: اقبال مسلم امہ کے بکھرنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں کہ جب ہمارا خدا، رسول، کتاب اور کعبہ ایک ہے، تو پھر مسلمانوں کا آپس میں ایک ہونا کیوں اتنا مشکل ہو گیا ہے۔

بتوں سے تجھ کو

بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نومیدی

مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے

Explanation: شاعر مسلمان کی عملی کمزوری پر طنز کرتا ہے کہ تم خدا سے مایوس ہو کر دنیاوی سہاروں (بتوں) پر بھروسہ کر رہے ہو، تو پھر کفر اور کس چیز کا نام ہے۔

وطن کی فکر کر

وطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہے

تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں

Explanation: یہ غفلت میں ڈوبی ہوئی قوم کو بیدار کرنے کی صدائے حق ہے کہ جاگ جاؤ اور اپنے وطن کو بچاؤ، کیونکہ دشمن تمہاری تباہی کی سازشیں مکمل کر چکے ہیں۔

جو میں سر بہ

جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا

ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں

Explanation: شاعر اپنے باطن کا جائزہ لیتے ہوئے کہتا ہے کہ جب انسان کا دل دنیاوی خواہشات (صنم) میں الجھا ہو، تو محض ظاہری سجدے اسے کوئی روحانی سکون یا فائدہ نہیں دے سکتے۔

جمہوریت اک طرز حکومت

جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں

بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے

Explanation: یہ مغربی جمہوریت پر اقبال کی کڑی تنقید ہے جس میں صرف اکثریت (ووٹوں کی گنتی) کو اہمیت دی جاتی ہے، جبکہ انسانوں کی قابلیت اور ذہانت (تولنے) کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

تمنا درد دل کی

تمنا درد دل کی ہو تو کر خدمت فقیروں کی

نہیں ملتا یہ گوہر بادشاہوں کے خزینوں میں

Explanation: سچی ہمدردی اور عشقِ حقیقی حاصل کرنے کے لیے غریبوں اور درویشوں کی خدمت کرنی پڑتی ہے، کیونکہ یہ انمول خزانہ بادشاہوں کے محلات میں نہیں ملتا۔

نگہ بلند سخن دل

نگہ بلند سخن دل نواز جاں پرسوز

یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے

Explanation: ایک سچے اور عظیم رہنما کی خوبیاں بیان کی گئی ہیں کہ اس کی سوچ بلند، گفتگو دل جیتنے والی اور دل میں سچا جذبہ ہونا چاہیے، یہی خوبیاں قوم کی رہنمائی کے لیے ضروری ہیں۔

ترے آزاد بندوں کی

ترے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا نہ وہ دنیا

یہاں مرنے کی پابندی وہاں جینے کی پابندی

Explanation: آزاد روح رکھنے والے انسانوں کی کشمکش کا بیان ہے جو نہ اس دنیا کی پابندیوں سے مطمئن ہیں اور نہ ہی آخرت کی طے شدہ زندگی پر راضی ہیں، وہ مستقل آزادی کے متلاشی ہیں۔

حیا نہیں ہے زمانے

حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی

خدا کرے کہ جوانی تری رہے بے داغ

Explanation: اقبال نوجوانوں کے لیے دعا گو ہیں کہ آج کے اس بے حیا اور پرفتن دور میں، جہاں ہر طرف اخلاقی گراوٹ ہے، اللہ ان کی جوانی کو گناہوں سے پاک اور بے داغ رکھے۔

علم میں بھی سرور

علم میں بھی سرور ہے لیکن

یہ وہ جنت ہے جس میں حور نہیں

Explanation: شاعر تسلیم کرتا ہے کہ علم حاصل کرنے میں بھی ایک نشہ اور لطف ہے، مگر یہ ایسی خشک جنت ہے جس میں عشق کی چاشنی، جذبہ اور خوبصورتی (حور) موجود نہیں۔

ڈھونڈتا پھرتا ہوں میں

ڈھونڈتا پھرتا ہوں میں اقبالؔ اپنے آپ کو

آپ ہی گویا مسافر آپ ہی منزل ہوں میں

Explanation: خودی کی تلاش کا فلسفہ ہے کہ میں خود اپنی ذات کی پہچان کے سفر پر نکلا ہوں، جہاں سفر کرنے والا بھی میں خود ہوں اور جس کو پانا ہے (منزل) وہ بھی میں ہی ہوں۔

انداز بیاں گرچہ بہت

انداز بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے

شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات

Explanation: اقبال بڑی عاجزی سے کہتے ہیں کہ میری باتوں میں کوئی ظاہری چمک دمک یا شوخی نہیں، مگر ان میں جو سچائی ہے، شاید وہ سیدھی تمہارے دل میں اتر جائے۔

باطل سے دبنے والے

باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم

سو بار کر چکا ہے تو امتحاں ہمارا

Explanation: مسلمانوں کی شاندار تاریخ اور بہادری کا حوالہ ہے کہ ہم حق پرست ہیں اور کسی جھوٹ کے آگے جھکنے والے نہیں، آسمان (حالات) ہمارا یہ حوصلہ کئی بار آزما چکا ہے۔

تو قادر و عادل

تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں

ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات

Explanation: شاعر خدا سے مزدور کی حالتِ زار کی فریاد کرتا ہے کہ تو انصاف کرنے والا ہے، مگر تیری اس دنیا میں غریب مزدور کی زندگی انتہا سے زیادہ تکلیف دہ اور مشکل ہے۔