Skip to content

Mir Taqi Mir

نازکی اس کے لب

نازکی اس کے لب کی کیا کہئے

پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے

Explanation: میر تقی میر کا یہ مشہور ترین شعر محبوب کے ہونٹوں کی نزاکت اور خوبصورتی کو گلاب کی نرم و نازک پتی سے تشبیہ دیتا ہے۔

راہ دور عشق میں

راہ دور عشق میں روتا ہے کیا

آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا

Explanation: عشق کی منزل کا آغاز ہے، شاعر کہتا ہے کہ ابھی سے کیوں رونے لگے ہو، عشق کا راستہ بہت طویل اور کٹھن ہے، ابھی تو آگے اور بھی مشکلیں آئیں گی۔

پتا پتا بوٹا بوٹا

پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے

جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے

Explanation: عاشق کی حالتِ زار سب کو معلوم ہے سوائے محبوب کے، جیسے باغ کا ہر پتا اور پودا عاشق کے حال سے واقف ہے لیکن صرف وہ ایک پھول (محبوب) ہی اس سے بے خبر ہے۔

کوئی تم سا بھی

کوئی تم سا بھی کاش تم کو ملے

مدعا ہم کو انتقام سے ہے

Explanation: شاعر محبوب کو بددعا نہیں بلکہ ایک انوکھا طنز کرتا ہے کہ کاش تمہیں بھی کوئی تمہارے ہی جیسا ظالم اور بے وفا ملے، تب تمہیں احساس ہوگا کہ محبت میں ہمارا کیا حال ہوا ہے۔

اب تو جاتے ہیں

اب تو جاتے ہیں بت کدے سے میرؔ

پھر ملیں گے اگر خدا لایا

Explanation: شاعر مایوسی اور بے بسی کے عالم میں محبوب کے شہر (بت کدے) سے رخصت ہو رہا ہے کہ اب ہم جا رہے ہیں، اگر قسمت یا خدا نے چاہا تو کبھی پھر ملاقات ہوگی۔

ہم ہوئے تم ہوئے

ہم ہوئے تم ہوئے کہ میرؔ ہوئے

اس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے

Explanation: محبوب کے حسن اور اس کی زلفوں کا جادو ایسا ہے کہ کوئی عام انسان ہو یا میر جیسا عظیم شاعر، سبھی اس کے حسن کی قید میں گرفتار ہو گئے ہیں۔

آگ تھے ابتدائے عشق

آگ تھے ابتدائے عشق میں ہم

اب جو ہیں خاک انتہا ہے یہ

Explanation: عشق کے سفر کا انجام ہے کہ جب ہم نے محبت شروع کی تھی تو ہم میں آگ جیسی گرمی اور جوش تھا، مگر عشق کے دکھوں نے ہمیں جلا کر خاک کر دیا ہے اور یہی محبت کی آخری منزل ہے۔

الٹی ہو گئیں سب

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا

دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا

Explanation: مرضِ عشق کا لاعلاج ہونا بیان کیا گیا ہے کہ محبت کی بیماری میں کوئی علاج اور کوشش کام نہیں آئی، اور بالآخر اس دل کے روگ نے عاشق کی جان لے لی۔

لے سانس بھی آہستہ

لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام

آفاق کی اس کارگہ شیشہ گری کا

Explanation: زندگی اور کائنات کی نزاکت کا ذکر ہے، دنیا ایک شیشہ بنانے کے کارخانے کی طرح ہے جہاں ذرا سی بھی بے احتیاطی یا اونچی سانس کسی نازک شیشے (زندگی یا رشتے) کو توڑ سکتی ہے۔

مت سہل ہمیں جانو

مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں

تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں

Explanation: انسان کی قدر و قیمت اور عظمت کا بیان ہے کہ انسان کو معمولی نہ سمجھو، آسمان اور کائنات برسوں محنت کرتے ہیں تب جا کر مٹی کے اس ڈھیر سے ایک کامل اور سچا انسان پیدا ہوتا ہے۔

میر کیا سادے ہیں

میر کیا سادے ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب

اسی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں

Explanation: یہ عشق کی انتہائی سادگی اور بیوقوفی ہے کہ جس حکیم (عطار کے لڑکے) کے عشق میں مبتلا ہو کر میر بیمار پڑے ہیں، اب اسی سے اپنے اس مرض کی دوا بھی مانگ رہے ہیں۔

یاد اس کی اتنی

یاد اس کی اتنی خوب نہیں میرؔ باز آ

نادان پھر وہ جی سے بھلایا نہ جائے گا

Explanation: شاعر خود کو خبردار کر رہا ہے کہ ہر وقت محبوب کو یاد کرنا ٹھیک نہیں، اگر یہ عادت پختہ ہو گئی تو پھر اس ظالم کو کبھی دل سے بھلانا ناممکن ہو جائے گا۔

بارے دنیا میں رہو

بارے دنیا میں رہو غم زدہ یا شاد رہو

ایسا کچھ کر کے چلو یاں کہ بہت یاد رہو

Explanation: زندگی گزارنے کا سبق ہے کہ دنیا میں چاہے خوشی ملے یا غم، اس سے فرق نہیں پڑتا، اصل چیز یہ ہے کہ مرنے سے پہلے کوئی ایسا عظیم کام کر جاؤ کہ دنیا ہمیشہ تمہیں یاد رکھے۔

پھول گل شمس و

پھول گل شمس و قمر سارے ہی تھے

پر ہمیں ان میں تمہیں بھائے بہت

Explanation: دنیا میں پھولوں، چاند اور سورج جیسی کئی خوبصورت چیزیں موجود تھیں، لیکن عاشق کی نظروں میں صرف اس کا محبوب ہی سب سے زیادہ حسین اور دلکش لگا۔

پھرتے ہیں میرؔ خوار

پھرتے ہیں میرؔ خوار کوئی پوچھتا نہیں

اس عاشقی میں عزت سادات بھی گئی

Explanation: محبت میں رسوائی کا المیہ ہے کہ میر (جو سادات گھرانے سے تھے) عشق کی وجہ سے گلیوں میں اتنے ذلیل و خوار ہو رہے ہیں کہ ان کے خاندان کی بچی کھچی عزت بھی مٹی میں مل گئی ہے۔

میرؔ کے دین و

میرؔ کے دین و مذہب کو اب پوچھتے کیا ہو ان نے تو

قشقہ کھینچا دیر میں بیٹھا کب کا ترک اسلام کیا

Explanation: عشق میں دیوانگی کی انتہا ہے کہ میر نے محبوب (یا ہندو بت) کی خاطر اپنے ماتھے پر تلک (قشقہ) لگا لیا ہے، مندر میں جا بیٹھا ہے اور اپنا مذہب تک چھوڑ دیا ہے۔

عشق اک میرؔ بھاری

عشق اک میرؔ بھاری پتھر ہے

کب یہ تجھ ناتواں سے اٹھتا ہے

Explanation: شاعر خود کو کمزور محسوس کرتے ہوئے کہتا ہے کہ عشق ایک انتہائی بھاری بوجھ (پتھر) ہے جسے اٹھانا اور برداشت کرنا مجھ جیسے ناتواں انسان کے بس کی بات نہیں۔

شام سے کچھ بجھا

شام سے کچھ بجھا سا رہتا ہوں

دل ہوا ہے چراغ مفلس کا

Explanation: اداسی اور غریبی کی انتہائی خوبصورت تشبیہ ہے کہ شام ہوتے ہی میرا دل کسی غریب کے اس چراغ کی طرح مدھم اور اداس ہو جاتا ہے جس میں جلنے کے لیے تیل تک نہ ہو۔

سرہانے میرؔ کے کوئی

سرہانے میرؔ کے کوئی نہ بولو

ابھی ٹک روتے روتے سو گیا ہے

Explanation: مسلسل کرب اور رونے کے بعد کی تھکن کا ذکر ہے، شاعر کہتا ہے کہ میر کے پاس شور مت کرو کیونکہ وہ دکھ سے طویل عرصہ رونے کے بعد ابھی بڑی مشکل سے تھوڑی دیر کے لیے سویا ہے۔

اقرار میں کہاں ہے

اقرار میں کہاں ہے انکار کی سی خوبی

ہوتا ہے شوق غالب اس کی نہیں نہیں پر

Explanation: محبوب کی ناز و ادا کا ذکر ہے کہ اس کے ہاں (اقرار) کرنے میں وہ مزہ اور کشش نہیں جو اس کے شرما کر یا نخرے سے 'نہیں' کہنے میں ہے، جس سے عاشق کا شوق مزید بڑھ جاتا ہے۔