Skip to content

Mir Taqi Mir

دل کی ویرانی کا

دل کی ویرانی کا کیا مذکور ہے

یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا

Explanation: دل کی تباہی کی تشبیہ ایک ایسے شہر سے دی گئی ہے جسے حملہ آوروں نے بار بار لوٹا ہو، شاعر کہتا ہے کہ میرے دل کی ویرانی کا کیا پوچھتے ہو، اسے محبت نے سینکڑوں بار اجاڑا ہے۔

ہوگا کسی دیوار کے

ہوگا کسی دیوار کے سائے میں پڑا میرؔ

کیا ربط محبت سے اس آرام طلب کو

Explanation: میر اپنی سستی اور دیوانگی پر خود ہی طنز کر رہے ہیں کہ مجھ جیسے آرام طلب اور سست انسان کا محبت کی مشکلوں سے کیا تعلق، میں تو کہیں کسی دیوار کے سائے میں بے سدھ پڑا ہوں گا۔

کیا کہوں تم سے

کیا کہوں تم سے میں کہ کیا ہے عشق

جان کا روگ ہے بلا ہے عشق

Explanation: عشق کی حقیقت بیان کی گئی ہے کہ اسے کوئی خوبصورت جذبہ مت سمجھو، یہ دراصل انسان کی جان کو لگ جانے والی ایک خطرناک بیماری اور مصیبت (بلا) کا نام ہے۔

ناحق ہم مجبوروں پر

ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی

چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا

Explanation: یہ جبریہ عقیدے اور انسان کی بے بسی کا فلسفہ ہے کہ خدا انسان پر جھوٹا الزام لگاتا ہے کہ انسان آزاد ہے، حالانکہ ہر کام خدا کی مرضی سے ہوتا ہے اور بدنامی ناحق انسان کی ہوتی ہے۔

روتے پھرتے ہیں ساری

روتے پھرتے ہیں ساری ساری رات

اب یہی روزگار ہے اپنا

Explanation: عشق کی وجہ سے انسان کا تمام سکون اور کام کاج تباہ ہو گیا ہے، اب شاعر کے پاس کوئی اور کام نہیں سوائے اس کے کہ وہ رات بھر جاگ کر اپنے درد پر روتا رہے۔

بے خودی لے گئی

بے خودی لے گئی کہاں ہم کو

دیر سے انتظار ہے اپنا

Explanation: محبوب کے عشق میں عاشق اس قدر اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھا ہے کہ اسے خود اپنی ہی ذات کا کوئی ہوش نہیں رہا، اور وہ اپنے آپ کو ہی تلاش کر رہا ہے۔

بے وفائی پہ تیری

بے وفائی پہ تیری جی ہے فدا

قہر ہوتا جو باوفا ہوتا

Explanation: یہ محبوب پر انتہائی شاندار طنز ہے کہ جب تمہاری بے وفائی میں اتنی کشش اور جادو ہے، تو ذرا سوچو کہ اگر تم مجھ سے وفا کرتے تو وہ کتنا غضب ناک اور خوبصورت لمحہ ہوتا۔

میرؔ ان نیم باز

میرؔ ان نیم باز آنکھوں میں

ساری مستی شراب کی سی ہے

Explanation: محبوب کی نشیلی اور آدھی کھلی ہوئی آنکھوں کی تعریف ہے کہ ان آنکھوں کو دیکھنے پر بالکل ویسا ہی خمار اور مستی محسوس ہوتی ہے جیسی تیز شراب پینے کے بعد ہوتی ہے۔

میرؔ صاحب تم فرشتہ

میرؔ صاحب تم فرشتہ ہو تو ہو

آدمی ہونا تو مشکل ہے میاں

Explanation: انسان بننے کی مشکلات کا ذکر ہے کہ فرشتہ بن کر گناہوں سے بچنا پھر بھی آسان ہے، لیکن ایک مکمل، سچا اور درد دل رکھنے والا انسان بننا دنیا کا سب سے کٹھن کام ہے۔

گل ہو مہتاب ہو

گل ہو مہتاب ہو آئینہ ہو خورشید ہو میر

اپنا محبوب وہی ہے جو ادا رکھتا ہو

Explanation: محض ظاہری خوبصورتی (جیسے پھول، چاند، سورج) کافی نہیں، شاعر کے نزدیک سچا محبوب وہ ہے جس کے اندر دل موہ لینے والی ادائیں اور نخرہ بھی موجود ہو۔

دکھائی دیئے یوں کہ

دکھائی دیئے یوں کہ بے خود کیا

ہمیں آپ سے بھی جدا کر چلے

Explanation: محبوب کے اچانک اور شاندار جلوے کا اثر ہے کہ عاشق اسے دیکھ کر اس قدر بے خود ہو گیا کہ اب اسے اپنے وجود تک کا ہوش باقی نہیں رہا۔

میرؔ عمداً بھی کوئی

میرؔ عمداً بھی کوئی مرتا ہے

جان ہے تو جہان ہے پیارے

Explanation: شاعر خود کو یا کسی عاشق کو سمجھا رہا ہے کہ عشق میں جان بوجھ کر جان گنوانا بے وقوفی ہے، زندگی سب سے بڑی نعمت ہے، اگر جان سلامت رہے گی تو کائنات کی ہر خوشی مل سکتی ہے۔

کیا کہیں کچھ کہا

کیا کہیں کچھ کہا نہیں جاتا

اب تو چپ بھی رہا نہیں جاتا

Explanation: عشق کے کرب کی وہ بے بس کیفیت جہاں درد اس قدر شدید ہے کہ ہونٹ سینے کا حال بیان نہیں کر سکتے، مگر تکلیف اتنی زیادہ ہے کہ خاموش رہنا بھی ناممکن ہو گیا ہے۔

اب کر کے فراموش

اب کر کے فراموش تو ناشاد کرو گے

پر ہم جو نہ ہوں گے تو بہت یاد کرو گے

Explanation: شاعر محبوب کو بتاتا ہے کہ بے شک آج تم ہمیں نظر انداز کر کے دکھ دے رہے ہو، لیکن جب ہم اس دنیا سے چلے جائیں گے تو تمہیں ہماری سچی محبت اور قدر بہت یاد آئے گی۔

دلی میں آج بھیک

دلی میں آج بھیک بھی ملتی نہیں انہیں

تھا کل تلک دماغ جنہیں تاج و تخت کا

Explanation: یہ دہلی کی تباہی (نادر شاہ اور ابدالی کے حملوں) کے بعد کا منظر اور قسمت کی ستم ظریفی ہے کہ جو نواب کل تک تخت کے مالك تھے، آج وہ سڑکوں پر بھیک مانگنے کو بھی ترس رہے ہیں۔

یہی جانا کہ کچھ

یہی جانا کہ کچھ نہ جانا ہائے

سو بھی اک عمر میں ہوا معلوم

Explanation: یہ انسان کی عقل کی محدودیت کا اعتراف ہے کہ ساری زندگی علم حاصل کرنے کے بعد مجھے صرف یہ سمجھ آیا ہے کہ مجھے کائنات کے رازوں کا کچھ بھی علم نہیں، اور یہ بات جاننے میں بھی پوری عمر لگ گئی۔

امیر زادوں سے دلی

امیر زادوں سے دلی کے مل نہ تا مقدور

کہ ہم فقیر ہوئے ہیں انہیں کی دولت سے

Explanation: یہ ایک طبقاتی اور سماجی طنز ہے کہ ان امیروں سے دور رہو کیونکہ ان کی دولت اور محلات اسی غریب عوام (فقیروں) کا خون چوس کر اور ان کی محنت لوٹ کر بنائے گئے ہیں۔

شرط سلیقہ ہے ہر

شرط سلیقہ ہے ہر اک امر میں

عیب بھی کرنے کو ہنر چاہئے

Explanation: دنیا کے ہر کام میں قرینہ اور سلیقہ ضروری ہے، شاعر طنز کرتا ہے کہ صرف اچھے کاموں کے لیے ہی نہیں بلکہ برائی اور عیب چھپانے کے لیے بھی کمال ہنر اور مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس کے فروغ حسن

اس کے فروغ حسن سے جھمکے ہے سب میں نور

شمع حرم ہو یا کہ دیا سومنات کا

Explanation: یہ 'وحدت الوجود' کا عظیم پیغام ہے کہ خدا کا نور اور جلوہ ہر جگہ موجود ہے، چاہے وہ کعبے (مسجد) کی پاکیزہ شمع ہو یا سومنات کے مندر کا دیا، سب اسی کے نور سے روشن ہیں۔

ہمارے آگے ترا جب

ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیا

دل ستم زدہ کو ہم نے تھام تھام لیا

Explanation: محبوب کا نام سنتے ہی عاشق کے پرانے زخم اتنی شدت سے تازہ ہو جاتے ہیں کہ اس کا دل بے قابو ہو کر دھڑکنے لگتا ہے اور وہ بڑی مشکل سے اپنے اس دکھی دل کو سنبھالتا ہے۔