Explanation: عاشق کی کمزوری کا عالم یہ ہے کہ وہ ملاقات کے خوشگوار لمحے میں بھی محبوب کے حسن کی ہیبت سے پیلا پڑ گیا، وہ سوچتا ہے کہ جب وصل میں میری یہ حالت ہے تو میں جدائی کا کرب کیسے برداشت کروں گا۔
عشق معشوق عشق عاشق
عشق معشوق عشق عاشق ہے
یعنی اپنا ہی مبتلا ہے عشق
Explanation: یہ عشق کی ہمہ گیر اور صوفیانہ حقیقت ہے کہ دراصل عشق ہی سب کچھ ہے، پیار کرنے والا (عاشق) بھی عشق ہے اور جس سے پیار کیا جائے (معشوق) وہ بھی خود عشق کی ہی ایک شکل ہے۔
مجھ کو شاعر نہ
مجھ کو شاعر نہ کہو میرؔ کہ صاحب میں نے
درد و غم کتنے کیے جمع تو دیوان کیا
Explanation: میر کہتے ہیں کہ میری شاعری محض قافیہ ردیف ملانا نہیں، بلکہ میری کتاب (دیوان) دراصل میری زندگی کے ان گنت سچے دکھوں اور تکلیفوں کا مجموعہ ہے، اس لیے مجھے روایتی شاعر مت سمجھو۔
جائے ہے جی نجات
جائے ہے جی نجات کے غم میں
ایسی جنت گئی جہنم میں
Explanation: اگر انسان کو روحانی نجات اور جنت پانے کے لیے بھی مسلسل فکر اور غم میں گھلنا پڑے، تو شاعر کہتا ہے کہ ایسی فکر والی جنت سے جہنم ہی بہتر ہے جہاں کوئی دکھاوا تو نہیں۔
میرؔ بندوں سے کام
میرؔ بندوں سے کام کب نکلا
مانگنا ہے جو کچھ خدا سے مانگ
Explanation: شاعر خود کو نصیحت کرتا ہے کہ انسانوں کے آگے ہاتھ پھیلانے اور ان سے امید رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں، کیونکہ اصل دینے والی ذات صرف اللہ کی ہے، اس لیے جو مانگنا ہے اسی سے مانگو۔
زخم جھیلے داغ بھی
زخم جھیلے داغ بھی کھائے بہت
دل لگا کر ہم تو پچھتائے بہت
Explanation: محبت کے انجام پر پچھتاوا ہے کہ عشق کرنے کے بعد ہمیں خوشی ملنے کے بجائے صرف رسوائی، زخم اور بدنامی کے داغ ہی ملے، اور اب ہم اس محبت پر سخت نادم ہیں۔
اب آیا دھیان اے
اب آیا دھیان اے آرام جاں اس نا مرادی میں
کفن دینا تمہیں بھولے تھے ہم اسباب شادی میں
Explanation: یہ انتہائی کرب ناک شعر ہے جب کوئی عاشق یا باپ کسی جوان بیٹی کو رخصت (شادی) کرتا ہے اور وہ مر جائے، تو دکھ ہوتا ہے کہ ہم نے جہیز تو سارا دیا مگر اپنی بدقسمتی میں کفن دینا بھول گئے۔
عشق میں جی کو
عشق میں جی کو صبر و تاب کہاں
اس سے آنکھیں لڑیں تو خواب کہاں
Explanation: محبت شروع ہوتے ہی انسان کا سارا سکون اور صبر ختم ہو جاتا ہے، اور جب محبوب کی آنکھوں سے آنکھیں مل جائیں تو پھر ساری زندگی کے لیے نیند اور خواب اڑ جاتے ہیں۔
کہا میں نے کتنا
کہا میں نے کتنا ہے گل کا ثبات
کلی نے یہ سن کر تبسم کیا
Explanation: دنیا کی ناپائیداری کا منظر ہے، شاعر نے جب پوچھا کہ ایک پھول کی زندگی کتنی لمبی ہوتی ہے؟ تو بند کلی نے خاموشی سے مسکرا کر (کھل کر) جواب دیا، جس کا مطلب تھا کہ میری مسکراہٹ (کھلنا) ہی دراصل میری موت کا آغاز ہے۔
مرے سلیقے سے میری
مرے سلیقے سے میری نبھی محبت میں
تمام عمر میں ناکامیوں سے کام لیا
Explanation: شاعر کہتا ہے کہ میں نے عشق کے رشتے کو اپنی شرافت اور صبر کے ساتھ ایسا نبھایا کہ محبوب کی تمام بے وفائیوں اور اپنی مسلسل ناکامیوں کو خندہ پیشانی سے برداشت کرتا رہا۔
گفتگو ریختے میں ہم
گفتگو ریختے میں ہم سے نہ کر
یہ ہماری زبان ہے پیارے
Explanation: میر تقی میر کو اردو زبان (ریختہ) پر اپنی دسترس کا بے پناہ غرور ہے، وہ کسی دوسرے شاعر کو تنبیہ کرتے ہیں کہ اردو شاعری میں ہمارے سامنے مت بولو، کیونکہ یہ زبان ہم پر ختم ہے۔
سخت کافر تھاجن نے
سخت کافر تھاجن نے پہلے میرؔ
مذہب عشق اختیار کیا
Explanation: شاعر مزاحیہ اور تلخ انداز میں کہتا ہے کہ دنیا میں جس شخص نے سب سے پہلے محبت (عشق) کا آغاز کیا تھا وہ ضرور کوئی بہت بڑا ظالم اور کافر ہوگا جس نے اتنی اذیت ناک روایت شروع کی۔
ہم جانتے تو عشق
ہم جانتے تو عشق نہ کرتے کسو کے ساتھ
لے جاتے دل کو خاک میں اس آرزو کے ساتھ
Explanation: عشق کے نقصانات دیکھ کر پچھتاوا ہے کہ اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ محبت میں اتنی تکلیف ملتی ہے، تو ہم یہ تمنا اپنے دل میں دبا کر خاموشی سے قبر میں چلے جاتے مگر کبھی عشق نہ کرتے۔
میرؔ ہم مل کے
میرؔ ہم مل کے بہت خوش ہوئے تم سے پیارے
اس خرابے میں مری جان تم آباد رہو
Explanation: یہ ایک اداس الوداعی التجا ہے کہ اگرچہ میں تباہ اور ویران ہو چکا ہوں، لیکن تم سے مل کر بہت خوشی ہوئی، اب میری دعا ہے کہ تم ہمیشہ اس ویران دنیا میں آباد اور سلامت رہو۔
سارے عالم پر ہوں
سارے عالم پر ہوں میں چھایا ہوا
مستند ہے میرا فرمایا ہوا
Explanation: میر کا اپنے فن اور شاعری پر زبردست فخر ہے کہ میری شاعری پوری دنیا میں مقبول اور مستند (حوالے کے طور پر) مانی جاتی ہے، اور میرے الفاظ سند کا درجہ رکھتے ہیں۔
دل وہ نگر نہیں
دل وہ نگر نہیں کہ پھر آباد ہو سکے
پچھتاؤ گے سنو ہو یہ بستی اجاڑ کر
Explanation: محبوب کو وارننگ دی جا رہی ہے کہ میرا دل کوئی عام شہر نہیں جسے ٹوٹنے کے بعد دوبارہ تعمیر کیا جا سکے، اگر تم نے اسے ایک بار ویران کر دیا تو پھر زندگی بھر پچھتاؤ گے۔
دل مجھے اس گلی
دل مجھے اس گلی میں لے جا کر
اور بھی خاک میں ملا لایا
Explanation: عاشق کا دل اسے مجبور کر کے محبوب کی گلی میں تو لے گیا، مگر وہاں جا کر جب محبوب نے ذلت اور رسوائی دی، تو عاشق کی عزت مزید مٹی میں مل گئی۔
پیدا کہاں ہیں ایسے
پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ
افسوس تم کو میرؔ سے صحبت نہیں رہی
Explanation: میر کی خود پسندی اور اپنی حساسیت کا اعلان ہے کہ مجھ جیسا بکھرا ہوا، حساس اور گہرا انسان صدیوں میں پیدا ہوتا ہے، افسوس کہ تمہیں مجھ جیسے عظیم شخص کو جاننے کا موقع نہیں ملا۔
دلی کے نہ تھے
دلی کے نہ تھے کوچے اوراق مصور تھے
جو شکل نظر آئی تصویر نظر آئی
Explanation: پرانی دہلی کی خوبصورتی اور اس کے باسیوں کے حسن کی تعریف ہے کہ دہلی کی گلیاں تصویروں کی کتاب تھیں، وہاں جس شخص پر بھی نظر پڑتی تھی وہ کسی حسین تصویر کی طرح دلکش تھا۔
جب کہ پہلو سے
جب کہ پہلو سے یار اٹھتا ہے
درد بے اختیار اٹھتا ہے
Explanation: وصل کے بعد جدائی کا کرب ہے کہ محبوب ابھی پاس سے اٹھ کر جاتا ہی ہے کہ اس کی دوری کے احساس سے فوراً دل میں ایک بے قابو اور شدید درد اٹھنے لگتا ہے۔