Explanation: فیض کا یہ مشہور شعر سماجی حقیقت پسندی کی عکاس ہے کہ زندگی محض عشق اور محبوب کے ملنے تک محدود نہیں، بلکہ دنیا میں دیگر کئی اہم مسائل، دکھ اور خوشیاں بھی موجود ہیں۔
دل ناامید تو نہیں
دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
Explanation: یہ شعر انتہائی کٹھن حالات میں بھی امید نہ ہارنے کا پیغام دیتا ہے کہ بے شک ظالمانہ حالات کی رات بہت طویل ہے، لیکن یہ دائمی نہیں، بالآخر اسے ختم ہونا ہے۔
کر رہا تھا غم
کر رہا تھا غم جہاں کا حساب
آج تم یاد بے حساب آئے
Explanation: جب شاعر دنیا کے الجھے ہوئے مسائل اور دکھوں میں مبتلا تھا، تو ان پریشانیوں کے دوران اسے اچانک اپنے محبوب کی یاد بہت شدت اور بے پناہ طریقے سے ستانے لگی۔
اور کیا دیکھنے کو
اور کیا دیکھنے کو باقی ہے
آپ سے دل لگا کے دیکھ لیا
Explanation: شاعر کو محبت میں اتنی تکلیف اور مایوسی ملی ہے کہ وہ کہتا ہے، جب تم سے محبت کر کے بدترین انجام دیکھ لیا، تو اب زندگی میں آزمانے یا دیکھنے کو کچھ اور باقی نہیں بچا۔
دونوں جہان تیری محبت
دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے
وہ جا رہا ہے کوئی شب غم گزار کے
Explanation: اس شعر میں عشق کی انتہائی قربانی کا ذکر ہے کہ عاشق نے محبوب کی خاطر اپنی دنیا اور آخرت دونوں تباہ کر لیں، اور اب وہ ساری زندگی کے دکھ سمیٹ کر خاموشی سے رخصت ہو رہا ہے۔
دنیا نے تیری یاد
دنیا نے تیری یاد سے بیگانہ کر دیا
تجھ سے بھی دل فریب ہیں غم روزگار کے
Explanation: شاعر اعتراف کرتا ہے کہ زندگی اور روٹی کمانے کی مجبوریاں (غم روزگار) اس قدر کٹھن اور توجہ طلب ہیں کہ ان کی وجہ سے وہ اپنے حسین محبوب کی یادوں کو بھی بھولنے پر مجبور ہو گیا۔
تمہاری یاد کے جب
تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں
کسی بہانے تمہیں یاد کرنے لگتے ہیں
Explanation: محبت کا عجیب نشہ ہے کہ جب وقت کے ساتھ محبوب کی دی ہوئی تکلیف کم ہونے لگتی ہے، تو شاعر خود جان بوجھ کر کوئی بہانہ ڈھونڈ کر اس درد کو دوبارہ تازہ کر لیتا ہے۔
اک طرز تغافل ہے
اک طرز تغافل ہے سو وہ ان کو مبارک
اک عرض تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے
Explanation: شاعر محبوب کی بے رخی پر کہتا ہے کہ اگر ان کا شیوہ ہمیں نظر انداز کرنا ہے تو انہیں یہ مبارک ہو، لیکن ہمارا کام مستقل محبت اور التجا کرنا ہے اور ہم وہ کرتے رہیں گے۔
گر بازی عشق کی
گر بازی عشق کی بازی ہے جو چاہو لگا دو ڈر کیسا
گر جیت گئے تو کیا کہنا ہارے بھی تو بازی مات نہیں
Explanation: عشق کے میدان میں نقصان کا کوئی تصور نہیں، اگر تم نے محبت پالی تو یہ سب سے بڑی جیت ہے، اور اگر اس راہ میں جان بھی چلی جائے تو یہ موت بھی انسان کو امر کر دیتی ہے۔
وہ بات سارے فسانے
وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا
وہ بات ان کو بہت نا گوار گزری ہے
Explanation: اکثر لوگ اصل مقصد کو چھوڑ کر ان چھوٹی اور غیر اہم باتوں کو دل پر لے لیتے ہیں جن کا ذکر کبھی کیا ہی نہیں گیا ہوتا، یہ شعر মানুষের نفسیات کی ایک نازک خامی کو بیان کرتا ہے۔
نہیں نگاہ میں منزل
نہیں نگاہ میں منزل تو جستجو ہی سہی
نہیں وصال میسر تو آرزو ہی سہی
Explanation: اگر انسان کو منزل نہ مل رہی ہو تب بھی اسے تلاش نہیں چھوڑنی چاہیے، بالکل ویسے ہی جیسے اگر محبوب کا ملنا ناممکن ہو، تو کم از کم اس کی تمنا اور امید تو دل میں زندہ رکھنی چاہیے۔
آئے تو یوں کہ
آئے تو یوں کہ جیسے ہمیشہ تھے مہربان
بھولے تو یوں کہ گویا کبھی آشنا نہ تھے
Explanation: محبوب کے رویے کی دو انتہاؤں کا ذکر ہے کہ جب وہ ملتا تھا تو ایسا لگتا تھا کہ اس سے زیادہ کوئی اپنا نہیں، اور جب اس نے بے رخی دکھائی تو یوں جیسے وہ ہمیں جانتا ہی نہیں۔
مقام فیضؔ کوئی راہ
مقام فیضؔ کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے
Explanation: فیض کے نزدیک عشق کا راستہ یا تو محبوب کے قدموں تک جاتا ہے یا پھر سیدھا تختہ دار (پھانسی) تک، اس کے علاوہ دنیا کا کوئی اور مقام ان کے لیے اہمیت نہیں رکھتا۔
وہ آ رہے ہیں
وہ آ رہے ہیں وہ آتے ہیں آ رہے ہوں گے
شب فراق یہ کہہ کر گزار دی ہم نے
Explanation: جدائی کی طویل اور کرب ناک رات گزارنے کے لیے شاعر نے خود کو جھوٹی تسلیاں دیں کہ محبوب بس آنے ہی والا ہے، اسی امید پر اس نے جاگ کر رات کاٹ لی۔
زندگی کیا کسی مفلس
زندگی کیا کسی مفلس کی قبا ہے جس میں
ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں
Explanation: زندگی کی تکلیفوں کی تشبیہ ایک غریب انسان کے پھٹے ہوئے لباس سے دی گئی ہے، جس طرح اس کے کپڑوں پر بار بار پیوند لگتے ہیں، ویسے ہی زندگی میں نئے نئے دکھ ملتے رہتے ہیں۔
گلوں میں رنگ بھرے
گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے
چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے
Explanation: بہار کا موسم آ چکا ہے اور فطرت نے اپنے رنگ بکھیر دیے ہیں، اب بس محبوب (یا انقلاب) کی آمد کا انتظار ہے تاکہ اس اداس باغ (دنیا) کی رونق مکمل طور پر بحال ہو سکے۔
کب ٹھہرے گا درد
کب ٹھہرے گا درد اے دل کب رات بسر ہوگی
سنتے تھے وہ آئیں گے سنتے تھے سحر ہوگی
Explanation: مسلسل انتظار سے تھک کر شاعر شکوہ کرتا ہے کہ ہمیں تسلی دی گئی تھی کہ محبوب آئے گا اور حالات کی رات ختم ہوگی، مگر یہ دکھ کی اندھیری رات جانے کا نام ہی نہیں لے رہی۔
یہ داغ داغ اجالا
یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں
Explanation: یہ فیض کی نظم 'صبح آزادی' کا مشہور شعر ہے، جس میں وہ بتاتے ہیں کہ جو آزادی (صبح) ہمیں خونریزی اور فسادات کے بعد ملی ہے، یہ وہ روشن صبح نہیں جس کا ہم نے خواب دیکھا تھا۔
اک فرصت گناہ ملی
اک فرصت گناہ ملی وہ بھی چار دن
دیکھے ہیں ہم نے حوصلے پروردگار کے
Explanation: زندگی کی ناپائیداری پر ہلکا سا شکوہ ہے کہ انسان کو دنیا میں اپنی خواہشات پوری کرنے کے لیے اتنی مختصر سی مہلت ملی ہے کہ وہ خدا کی پیدا کردہ خوبصورتیوں کا پوری طرح لطف بھی نہیں اٹھا سکتا۔
نہ جانے کس لیے
نہ جانے کس لیے امیدوار بیٹھا ہوں
اک ایسی راہ پہ جو تیری رہ گزر بھی نہیں
Explanation: شاعر خود اپنی دیوانگی اور سادگی پر حیران ہے کہ وہ محبوب کے انتظار میں ایک ایسے راستے پر آس لگائے بیٹھا ہے، جہاں سے محبوب کے گزرنے کا کوئی امکان تک نہیں۔