Explanation: حق کی راہ میں مرنے والے کا فخر ہے، وہ وصیت کرتا ہے کہ میری لاش پر بھی کفن اکڑ اور شان کے ساتھ رکھنا تاکہ ظالموں کو پتا چلے کہ ہم مر کر بھی عشق کا غرور اور بہادری نہیں چھوڑتے۔
شام فراق اب نہ
شام فراق اب نہ پوچھ آئی اور آ کے ٹل گئی
دل تھا کہ پھر بہل گیا جاں تھی کہ پھر سنبھل گئی
Explanation: جدائی کی جس رات سے شاعر کو موت کا ڈر تھا، وہ انتہائی اذیت کے باوجود گزر گئی، دل نے پھر سے کوئی جھوٹی تسلی ڈھونڈ لی اور جان اس کرب کو سہہ کر دوبارہ بحال ہو گئی۔
جدا تھے ہم تو
جدا تھے ہم تو میسر تھیں قربتیں کتنی
بہم ہوئے تو پڑی ہیں جدائیاں کیا کیا
Explanation: ایک تلخ نفسیاتی حقیقت ہے کہ جب تک محبوب دور تھا تو اس کی یادیں قریب تھیں، لیکن جب وہ جسمانی طور پر قریب آ گیا تو درمیان میں انا اور شکووں کی نئی دوریاں پیدا ہو گئیں۔
ہم سہل طلب کون
ہم سہل طلب کون سے فرہاد تھے لیکن
اب شہر میں تیرے کوئی ہم سا بھی کہاں ہے
Explanation: شاعر عاجزی سے مانتا ہے کہ وہ فرہاد کی طرح پہاڑ کاٹنے والا کوئی بہت بڑا عاشق نہیں تھا، مگر آج کے اس منافق دور میں اس کے جیسا سچا انسان بھی اس شہر میں ڈھونڈنا مشکل ہے۔
ہم ایسے سادہ دلوں
ہم ایسے سادہ دلوں کی نیاز مندی سے
بتوں نے کی ہیں جہاں میں خدائیاں کیا کیا
Explanation: سیاسی اور سماجی طنز ہے کہ ظالم اور جھوٹے لوگ خود سے طاقتور نہیں بنے، بلکہ یہ ہم جیسے سیدھے سادے لوگوں کی غلامی اور عقیدت ہی تھی جس نے ان بتوں کو خدا بنا دیا۔
مری جان آج کا
مری جان آج کا غم نہ کر کہ نہ جانے کاتب وقت نے
کسی اپنے کل میں بھی بھول کر کہیں لکھ رکھی ہوں مسرتیں
Explanation: فیض انتہائی شاندار انداز میں امید کا دامن تھامتے ہیں اور تسلی دیتے ہیں کہ آج کے دکھ سے مایوس مت ہو، ممکن ہے قسمت لکھنے والے نے ہمارے مستقبل میں کوئی بہت بڑی خوشی چھپا رکھی ہو۔
ادائے حسن کی معصومیت
ادائے حسن کی معصومیت کو کم کر دے
گناہ گار نظر کو حجاب آتا ہے
Explanation: محبوب کا حسن اس قدر پاکیزہ، معصوم اور فرشتوں جیسا ہے کہ شاعر جیسا گناہ گار انسان اسے دیکھنے کی ہمت نہیں کر پاتا اور اسے اپنی ہی نگاہوں پر شرم آنے لگتی ہے۔
خیر دوزخ میں مے
خیر دوزخ میں مے ملے نہ ملے
شیخ صاحب سے جاں تو چھوٹے گی
Explanation: ملاؤں کی منافقت سے بیزار ہو کر شاعر طنزیہ طور پر کہتا ہے کہ جہنم کا اس سے بڑا کیا فائدہ ہوگا کہ وہاں شراب ملے نہ ملے، مگر کم از کم جنت کے ٹھیکیدار مولویوں سے تو جان چھوٹ جائے گی۔
اگر شرر ہے تو
اگر شرر ہے تو بھڑکے جو پھول ہے تو کھلے
طرح طرح کی طلب تیرے رنگ لب سے ہے
Explanation: محبوب کے سرخ ہونٹوں کی کشش دیکھ کر شاعر کے دل میں مختلف قسم کی تمنائیں جاگ رہی ہیں، وہ چاہتا ہے کہ ان ہونٹوں سے اگر کوئی چنگاری (غصہ) نکلے یا مسکراہٹ (پھول)، بس کچھ تو اظہار ہو۔
پھر نظر میں پھول
پھر نظر میں پھول مہکے دل میں پھر شمعیں جلیں
پھر تصور نے لیا اس بزم میں جانے کا نام
Explanation: محبوب کی گلی یا اس کی محفل کا محض خیال آنے سے ہی شاعر کی اداس زندگی میں روشنی، خوشبوئیں اور امیدیں پھر سے جاگ اٹھی ہیں اور دل وہاں جانے کے لیے مچلنے لگا ہے۔
منت چارہ ساز کون
منت چارہ ساز کون کرے
درد جب جاں نواز ہو جائے
Explanation: عشق کی انتہا یہ ہے کہ جب انسان کو محبت کا درد سہنے میں ہی مزہ آنے لگے اور وہ درد ہی اس کی جان کا سکون بن جائے، تو پھر وہ کسی ڈاکٹر سے اس درد کے علاج کی بھیک کیوں مانگے۔
تم آئے ہو نہ
تم آئے ہو نہ شب انتظار گزری ہے
تلاش میں ہے سحر بار بار گزری ہے
Explanation: شاعر محبوب اور انقلاب دونوں کی راہ دیکھ رہا ہے کہ نہ تو تم آئے اور نہ ہی اندھیری رات ختم ہوئی، صبح (امید) کی کرن بار بار آ کر جھانکتی رہی مگر مکمل روشنی نہ ہو سکی۔
ہر صدا پر لگے
ہر صدا پر لگے ہیں کان یہاں
دل سنبھالے رہو زباں کی طرح
Explanation: قید خانے یا آمرانہ دور کی سخت نگرانی کا ذکر ہے جہاں دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں، شاعر نصیحت کرتا ہے کہ اپنی زبان کے ساتھ ساتھ اپنے دل کی دھڑکن پر بھی قابو رکھو تاکہ کوئی تمہارا راز نہ جان لے۔
تیز ہے آج درد
تیز ہے آج درد دل ساقی
تلخیٔ مے کو تیز تر کر دے
Explanation: آج دنیاوی اور عشقیہ غم اس قدر شدید ہو گیا ہے کہ معمول کا نشہ اسے بھلانے کے لیے ناکافی ہے، اس لیے شاعر ساقی سے انتہائی کڑوی اور تیز شراب کا تقاضا کر رہا ہے۔
اے ظلم کے ماتو
اے ظلم کے ماتو لب کھولو چپ رہنے والو چپ کب تک
کچھ حشر تو ان سے اٹھے گا کچھ دور تو نالے جائیں گے
Explanation: یہ مظلوم عوام کو بغاوت پر اکسانے والی للکار ہے کہ خاموش مت رہو، اپنے حق کے لیے شور مچاؤ، اگرچہ فورا انقلاب نہ آئے مگر تمہاری آوازوں سے کوئی ہلچل اور خوف تو پیدا ہوگا۔
ہم سے کہتے ہیں
ہم سے کہتے ہیں چمن والے غریبان چمن
تم کوئی اچھا سا رکھ لو اپنے ویرانے کا نام
Explanation: یہ دنیا داروں پر طنز ہے جو محض ظاہری خوبصورتی کے قائل ہیں، وہ سچے عاشقوں سے کہتے ہیں کہ تمہاری زندگی تباہ اور ویران ہو چکی ہے، کم از کم اس کو کوئی اچھا سا نام ہی دے دو۔
ہر چارہ گر کو
ہر چارہ گر کو چارہ گری سے گریز تھا
ورنہ ہمیں جو دکھ تھے بہت لا دوا نہ تھے
Explanation: شاعر کو اس بات کا افسوس نہیں کہ اس کے زخم لاعلاج تھے، بلکہ اسے دکھ اس بات کا ہے کہ جن اپنوں نے اس کا علاج کرنا تھا، وہ جان بوجھ کر اس کے درد سے لاپرواہ بنے رہے۔
شیخ صاحب سے رسم
شیخ صاحب سے رسم و راہ نہ کی
شکر ہے زندگی تباہ نہ کی
Explanation: مذہبی پیشواؤں کی منافقت پر سیدھا وار ہے کہ شاعر اللہ کا شکر ادا کر رہا ہے کہ وہ نام نہاد مولویوں کی صحبت اور ان کی گمراہ کن تعلیمات سے بچ گیا، ورنہ اس کی سچی زندگی برباد ہو جاتی۔
ان میں لہو جلا
ان میں لہو جلا ہو ہمارا کہ جان و دل
محفل میں کچھ چراغ فروزاں ہوئے تو ہیں
Explanation: انقلابی جدوجہد کے اثرات پر اطمینان ہے کہ ہم نے چاہے اپنی جان دے دی یا خون بہا دیا، مگر ہماری قربانی رائیگاں نہیں گئی کیونکہ اس سے اندھیرے معاشرے میں کچھ امید کے چراغ تو جلے۔
مری چشم تن آساں
مری چشم تن آساں کو بصیرت مل گئی جب سے
بہت جانی ہوئی صورت بھی پہچانی نہیں جاتی
Explanation: جب انسان کو شعور، سچائی اور بصیرت حاصل ہو جائے تو پھر ظاہری شکلیں اہمیت کھو دیتی ہیں، اور جن لوگوں کو وہ بہت اچھا سمجھتا تھا، ان کے بھیانک چہرے دیکھ کر وہ انہیں پہچاننے سے انکاری ہو جاتا ہے۔