Skip to content

Faiz Ahmed Faiz

رقص مے تیز کرو

رقص مے تیز کرو ساز کی لے تیز کرو

سوئے مے خانہ سفیران حرم آتے ہیں

Explanation: یہ مذہبی ٹھیکیداروں پر چوٹ ہے جو دن کے اجالے میں تو پارسا بنتے ہیں مگر چھپ کر برائیاں کرتے ہیں، شاعر کہتا ہے کہ مے خانے کا ماحول گرم کرو کیونکہ یہی مقدس لوگ چھپ کر شراب پینے آ رہے ہیں۔

ہم اہل قفس تنہا

ہم اہل قفس تنہا بھی نہیں ہر روز نسیم صبح وطن

یادوں سے معطر آتی ہے اشکوں سے منور جاتی ہے

Explanation: جیل کی کوٹھری میں بند شاعر کو اپنے ملک کی ہوا تسلی دیتی ہے، جو ہر صبح اپنے ساتھ اپنوں کی پیاری یادیں لاتی ہے، اور شاعر کے آنسوؤں کا سلام لے کر واپس لوٹ جاتی ہے۔

متاع لوح و قلم

متاع لوح و قلم چھن گئی تو کیا غم ہے

کہ خون دل میں ڈبو لی ہیں انگلیاں میں نے

Explanation: آمرانہ سنسر شپ پر شاعر کا بھرپور اور دلیرانہ جواب ہے کہ اگر ظالموں نے مجھ سے کاغذ اور قلم چھین لیا ہے تو کوئی پرواہ نہیں، میں سچائی لکھنے کے لیے اپنے دل کا خون استعمال کروں گا۔

یوں سجا چاند کہ

یوں سجا چاند کہ جھلکا ترے انداز کا رنگ

یوں فضا مہکی کہ بدلا مرے ہم راز کا رنگ

Explanation: خوبصورت رات کی منظر کشی ہے کہ چاند ایسا روشن ہوا جیسے اس میں سے محبوب کا چہرہ جھلک رہا ہو، اور ہوا میں ایسی خوشبو پھیلی جیسے محبوب کے قرب کا احساس ہو۔

جو طلب پہ عہد

جو طلب پہ عہد وفا کیا تو وہ آبروئے وفا گئی

سر عام جب ہوئے مدعی تو ثواب صدق و وفا گیا

Explanation: سچی وفا بے غرض اور خاموش ہوتی ہے، اگر تم نے بدلے میں کچھ مانگ کر وفا کی، یا دنیا کو دکھانے کے لیے اپنی محبت کا شور مچایا، تو پھر اس محبت کی پاکیزگی اور عظمت ختم ہو گئی۔

وہ بتوں نے ڈالے

وہ بتوں نے ڈالے ہیں وسوسے کہ دلوں سے خوف خدا گیا

وہ پڑی ہیں روز قیامتیں کہ خیال روز جزا گیا

Explanation: دنیاوی طاقتوں (بتوں) نے ایسا خوف اور ظلم مسلط کر دیا ہے کہ لوگ خدا کو بھول گئے ہیں، اور روزمرہ زندگی میں اس قدر قیامتیں ٹوٹ رہی ہیں کہ اب آخرت کے دن کا خوف ہی ختم ہو گیا ہے۔

چمن پہ غارت گلچیں

چمن پہ غارت گلچیں سے جانے کیا گزری

قفس سے آج صبا بے قرار گزری ہے

Explanation: قید میں بند شخص اپنی قوم کی حالت کے لیے پریشان ہے کہ ظالم حکمرانوں (پھول توڑنے والوں) نے آج نہ جانے وطن (چمن) پر کیا قیامت ڈھائی ہے، کیونکہ آج صبح کی ہوا میں بہت زیادہ بے قراری اور کرب ہے۔

سب قتل ہو کے

سب قتل ہو کے تیرے مقابل سے آئے ہیں

ہم لوگ سرخ رو ہیں کہ منزل سے آئے ہیں

Explanation: شہیدانِ وفا کا فخر اور وقار ہے کہ حق کی جنگ میں جان قربان کرنے والے لوگ شرمندہ نہیں، بلکہ ان کے چہرے فخر سے سرخ ہیں کیونکہ وہ اپنی سب سے بڑی منزل (شہادت) پا کر آ رہے ہیں۔

فریب آرزو کی سہل

فریب آرزو کی سہل انگاری نہیں جاتی

ہم اپنے دل کی دھڑکن کو تری آواز پا سمجھے

Explanation: عاشق کے دل کی خام خیالی اور امیدوں کے دھوکے کا بیان ہے کہ وہ محبوب کی راہ اتنی بے تابی سے تکتا ہے کہ اسے اپنے ہی دل کی تیز دھڑکن میں محبوب کے قدموں کی آہٹ سنائی دینے لگتی ہے۔

بہت ملا نہ ملا

بہت ملا نہ ملا زندگی سے غم کیا ہے

متاع درد بہم ہے تو بیش و کم کیا ہے

Explanation: شاعر کہتا ہے کہ زندگی نے مجھے خوشیاں یا دولت دی یا نہیں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، کیونکہ میرے پاس درد اور احساس کی وہ عظیم دولت موجود ہے جو دنیا کے ہر خزانے سے بڑھ کر ہے۔

زیر لب ہے ابھی

زیر لب ہے ابھی تبسم دوست

منتشر جلوۂ بہار نہیں

Explanation: محبوب کی مسکراہٹ کے اثرات کا ذکر ہے کہ اس نے ابھی محض ایک ہلکی سی دبی ہوئی مسکراہٹ دی ہے، اگر وہ کھل کر مسکرا دے تو پوری کائنات میں بہار کا رنگ پھیل جائے۔

گرمئ شوق نظارہ کا

گرمئ شوق نظارہ کا اثر تو دیکھو

گل کھلے جاتے ہیں وہ سایۂ تر تو دیکھو

Explanation: شاعر کے دیکھنے کی شدت اور عشق کی گرمی اتنی طاقتور ہے کہ اس کی تڑپ کے زیرِ اثر محبوب کے نرم و نازک گال (سایۂ تر) گلاب کی طرح سرخ ہو کر کھل اٹھے ہیں۔

وہ جب بھی کرتے

وہ جب بھی کرتے ہیں اس نطق و لب کی بخیہ گری

فضا میں اور بھی نغمے بکھرنے لگتے ہیں

Explanation: آمروں کی سنسر شپ پر بہت گہری چوٹ ہے کہ ظالم جب بھی سچ بولنے والوں کی زبانیں بند کرنے (ہونٹ سینے) کی کوشش کرتے ہیں، تو بغاوت کی آوازیں دبنے کے بجائے فضا میں اور زیادہ پھیل جاتی ہیں۔

نہیں شکایت ہجراں کہ

نہیں شکایت ہجراں کہ اس وسیلے سے

ہم ان سے رشتۂ دل استوار کرتے رہے

Explanation: شاعر کو جدائی کے کرب سے اس لیے شکایت نہیں کیونکہ ہجر کی تنہائیوں اور دکھوں نے ہی دراصل اس کے دل کو محبوب کی یاد اور احساسات کے ساتھ مضبوطی سے جوڑ کر رکھا ہے۔

جو نفس تھا خار

جو نفس تھا خار گلو بنا جو اٹھے تھے ہاتھ لہو ہوئے

وہ نشاط آہ سحر گئی وہ وقار دست دعا گیا

Explanation: انتہائی مایوسی اور घुटन (گھٹن) کا ماحول ہے جہاں سانس لینا بھی کانٹے چبھنے کے مترادف ہے، اور ظلم اتنا ہے کہ اب دعاؤں کی تاثیر اور صبح کی آہ و زاری کا اثر بھی ختم ہو چکا ہے۔

جل اٹھے بزم غیر

جل اٹھے بزم غیر کے در و بام

جب بھی ہم خانماں خراب آئے

Explanation: عاشق کے دل کی اندرونی آگ اور جذبے کا کمال ہے کہ جب وہ کسی پرائی اور بے رونق محفل میں بھی گیا تو اس کی موجودگی کی بدولت وہاں کی دیواریں اور محفلیں بھی روشن ہو گئیں۔

مے خانہ سلامت ہے

مے خانہ سلامت ہے تو ہم سرخیٔ مے سے

تزئین در و بام حرم کرتے رہیں گے

Explanation: جب تک سچائی کا سرچشمہ قائم ہے، ہم اپنے خون اور اپنے نظریات کی طاقت سے اس بے جان اور فرسودہ نظام (حرم) کو سجانے اور بیدار کرنے کی کوشش جاری رکھیں گے۔

جواں مردی اسی رفعت

جواں مردی اسی رفعت پہ پہنچی

جہاں سے بزدلی نے جست کی تھی

Explanation: بہادری کی ابتدا دراصل خوف کے اسی مقام سے ہوتی ہے جہاں سے عام انسان گھبرا کر پیچھے ہٹ جاتا ہے، جو خوف کا سامنا کر کے آگے بڑھ جائے وہی بہادر کہلاتا ہے۔

حدیث یار کے عنواں

حدیث یار کے عنواں نکھرنے لگتے ہیں

تو ہر حریم میں گیسو سنورنے لگتے ہیں

Explanation: جب محبت کرنے والے محبوب کا تذکرہ چھیڑتے ہیں، تو اس کے ذکر کی خوبصورتی اور تازگی سے پورا ماحول مہک جاتا ہے اور محسوس ہوتا ہے جیسے ہر طرف اس کے حسن کے جلوے بکھر رہے ہوں۔

اپنی نظریں بکھیر دے

اپنی نظریں بکھیر دے ساقی

مے بہ اندازۂ خمار نہیں

Explanation: شاعر کو دی جانے والی شراب اس کی طلب کو بجھانے کے لیے ناکافی ہے، اس لیے وہ ساقی (محبوب) سے التجا کرتا ہے کہ شراب چھوڑو، بس اپنی مست نگاہوں سے کام لو کیونکہ ان کا نشہ زیادہ گہرا ہے۔