Skip to content

Faiz Ahmed Faiz

ساری دنیا سے دور

ساری دنیا سے دور ہو جائے

جو ذرا تیرے پاس ہو بیٹھے

Explanation: محبوب کی قربت میں ایک عجیب سا جادو اور سحر ہے، کہ جو انسان بھی کچھ لمحوں کے لیے اس کے ساتھ بیٹھ جائے، وہ ارد گرد کی تمام دنیا اور اس کے غموں کو فراموش کر دیتا ہے۔

ہر چارہ گر کو

ہر چارہ گر کو چارہ گری سے گریز تھا

ورنہ ہمیں جو دکھ تھے بہت لا دوا نہ تھے

Explanation: شاعر کہتا ہے کہ ہمارے دل کے زخم اور مسائل کوئی ایسے لاعلاج نہیں تھے کہ جن کا کوئی حل نہ ہو، بس المیہ یہ ہوا کہ جن مسیحاؤں نے ہمارا علاج کرنا تھا، وہی ہم سے کنی کتراتے رہے۔

سجاؤ بزم غزل گاؤ

سجاؤ بزم غزل گاؤ جام تازہ کرو

''بہت سہی غم گیتی شراب کم کیا ہے''

Explanation: یہ شعر زندگی کو بھرپور انداز میں جینے کی ترغیب دیتا ہے کہ بے شک دنیا میں بے تحاشا غم ہیں، مگر زندگی کی خوبصورتیوں اور خوشیوں کے سہارے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے۔

ہاں نکتہ ورو لاؤ

ہاں نکتہ ورو لاؤ لب و دل کی گواہی

ہاں نغمہ گرو ساز صدا کیوں نہیں دیتے

Explanation: یہ ظلم کے خلاف دانشوروں اور فنکاروں کو پکارنے کا شعر ہے کہ صرف باتیں نہ بناؤ، اب وقت آ گیا ہے کہ سچ کے حق میں اپنے قلم اور آواز کے ذریعے عملی گواہی دو اور ظلم کو للکارو۔

چنگ و نے رنگ

چنگ و نے رنگ پہ تھے اپنے لہو کے دم سے

دل نے لے بدلی تو مدھم ہوا ہر ساز کا رنگ

Explanation: ہر فن اور محفل کی رونق ہمارے سچے جذبوں اور خون پسینے سے قائم تھی، جب ہم نے ظلم سہنے کے بجائے بغاوت کا راستہ (دل کی لے بدلنا) چنا تو پھر وہ تمام جھوٹی محفلیں اور خوشیاں مانند پڑ گئیں۔

گر انتظار کٹھن ہے

گر انتظار کٹھن ہے تو جب تلک اے دل

کسی کے وعدۂ فردا کی گفتگو ہی سہی

Explanation: محبت کے انتظار کے درد کو کم کرنے کا خوبصورت طریقہ ہے، شاعر کہتا ہے کہ اگر جدائی کاٹنا مشکل ہو رہا ہے تو کم از کم ان وعدوں پر ہی بات کر لی جائے جو محبوب نے کل ملنے کے لیے کیے تھے۔

نہ تن میں خون

نہ تن میں خون فراہم نہ اشک آنکھوں میں

نماز شوق تو واجب ہے بے وضو ہی سہی

Explanation: عشق کی انتہا یہ ہے کہ اگرچہ جسم میں طاقت نہیں اور رونے کے لیے آنسو بھی ختم ہو چکے ہیں، مگر پھر بھی محبت کی یہ ریاضت (عشق کی نماز) ہر حال میں ادا کرنی ضروری ہے۔