Skip to content

Faiz Ahmed Faiz

''آپ کی یاد آتی

''آپ کی یاد آتی رہی رات بھر''

چاندنی دل دکھاتی رہی رات بھر

Explanation: چاندنی رات کا خوبصورت ماحول شاعر کے لیے باعثِ اذیت بن گیا ہے، کیونکہ یہ دلفریب منظر اسے شدت سے اس کے بچھڑے ہوئے محبوب کی کمی کا احساس دلا رہا ہے۔

ہم پرورش لوح و

ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے

جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے

Explanation: یہ شاعر کا اپنے نظریے اور فن سے عزم ہے کہ چاہے کیسے بھی حالات ہوں، وہ اپنے قلم کے ذریعے معاشرے اور اپنے دل پر ہونے والے مظالم کو سچائی کے ساتھ لکھتا رہے گا۔

جانتا ہے کہ وہ

جانتا ہے کہ وہ نہ آئیں گے

پھر بھی مصروف انتظار ہے دل

Explanation: محبت کی بے بسی کی کیفیت ہے کہ دل حقیقت سے پوری طرح واقف ہے کہ محبوب لوٹ کر نہیں آئے گا، اس کے باوجود وہ ناامید ہو کر انتظار کرنے کی عادت نہیں چھوڑتا۔

اٹھ کر تو آ

اٹھ کر تو آ گئے ہیں تری بزم سے مگر

کچھ دل ہی جانتا ہے کہ کس دل سے آئے ہیں

Explanation: شاعر اپنی مجبوری کا دکھ بیان کر رہا ہے کہ وہ ظاہری طور پر تو محبوب کی محفل سے اٹھ کر چلا آیا ہے، مگر اس کا دل خون کے آنسو رو رہا ہے اور روح وہیں قید ہے۔

یہ آرزو بھی بڑی

یہ آرزو بھی بڑی چیز ہے مگر ہم دم

وصال یار فقط آرزو کی بات نہیں

Explanation: صرف خواہش کرنے سے محبت کی منزل نہیں ملتی، محبوب کو پانے کے لیے بے تحاشا قربانیاں اور عملی جدوجہد درکار ہوتی ہے، آرزو تو محض سفر کی شروعات ہے۔

بے دم ہوئے بیمار

بے دم ہوئے بیمار دوا کیوں نہیں دیتے

تم اچھے مسیحا ہو شفا کیوں نہیں دیتے

Explanation: عاشق محبت کے مرض میں مرنے کے قریب ہے اور وہ اپنے محبوب (جو اس کا علاج ہے) سے گلہ کر رہا ہے کہ اگر تم علاج کر سکتے ہو تو مجھے قربت دے کر شفا کیوں نہیں دیتے۔

فیضؔ تھی راہ سر

فیضؔ تھی راہ سر بسر منزل

ہم جہاں پہنچے کامیاب آئے

Explanation: فیض کی مستقل مزاجی کا اظہار ہے کہ ان کا مقصد اور نظریہ اتنا سچا تھا کہ راستے کی ہر مشکل انہیں ایک منزل معلوم ہوئی، اور انہوں نے ہر قدم پر اخلاقی کامیابی حاصل کی۔

نہ گل کھلے ہیں

نہ گل کھلے ہیں نہ ان سے ملے نہ مے پی ہے

عجیب رنگ میں اب کے بہار گزری ہے

Explanation: شاعر کو قید (جیل) کے دوران آنے والی بہار کا تذکرہ ہے، جہاں اسے نہ پھول دیکھنے کو ملے، نہ محبوب کا ساتھ نصیب ہوا اور نہ ہی شراب، یہ بہار اس کے لیے انتہائی بے رنگ تھی۔

تیرے قول و قرار

تیرے قول و قرار سے پہلے

اپنے کچھ اور بھی سہارے تھے

Explanation: شاعر محبوب کو بتاتا ہے کہ تم سے محبت کرنے اور تمہارے وعدوں پر بھروسہ کرنے سے پہلے ہماری زندگی میں اور بھی مقاصد اور خوشیاں تھیں، جنہیں ہم نے تمہارے لیے چھوڑ دیا۔

آئے کچھ ابر کچھ

آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے

اس کے بعد آئے جو عذاب آئے

Explanation: یہ سرمستی اور دیوانگی کی انتہا ہے کہ شاعر کہتا ہے مجھے بادلوں کا موسم اور شراب مل جائے تاکہ میں کچھ پل سکون سے گزار لوں، اس کے بعد چاہے کوئی بھی قیامت آ جائے مجھے پرواہ نہیں۔

ساری دنیا سے دور

ساری دنیا سے دور ہو جائے

جو ذرا تیرے پاس ہو بیٹھے

Explanation: محبوب کی صحبت اور اس کی باتوں میں ایسا جادو اور سکون ہے کہ جو انسان بھی کچھ دیر کے لیے اس کے پاس بیٹھ جائے، وہ دنیا کی تمام فکروں اور لوگوں کو بھول جاتا ہے۔

دل سے تو ہر

دل سے تو ہر معاملہ کر کے چلے تھے صاف ہم

کہنے میں ان کے سامنے بات بدل بدل گئی

Explanation: محبت کی جھجک کا بیان ہے کہ عاشق نے محبوب سے جا کر شکایت کرنے کا پورا ارادہ کر لیا تھا، لیکن محبوب کے سامنے جاتے ہی اس کے حسن کی ہیبت سے وہ سب کچھ بھول گیا اور بات کچھ کی کچھ بن گئی۔

رات یوں دل میں

رات یوں دل میں تری کھوئی ہوئی یاد آئی

جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آ جائے

Explanation: اداس رات میں محبوب کی بھولی ہوئی یاد اچانک اس طرح دل میں اتر آئی، جیسے کسی بنجر اور ویران زمین پر خاموشی سے بہار آ کر ہر طرف خوشبو بکھیر دے۔

جب تجھے یاد کر

جب تجھے یاد کر لیا صبح مہک مہک اٹھی

جب ترا غم جگا لیا رات مچل مچل گئی

Explanation: محبوب کا تصور شاعر کے لیے اس قدر خوشگوار ہے کہ جب وہ دن میں اسے یاد کرتا ہے تو اس کی صبح روشن ہو جاتی ہے، اور جب رات کو اس کے ہجر میں تڑپتا ہے تو وہ رات بھی رنگین معلوم ہوتی ہے۔

کٹتے بھی چلو بڑھتے

کٹتے بھی چلو بڑھتے بھی چلو بازو بھی بہت ہیں سر بھی بہت

چلتے بھی چلو کہ اب ڈیرے منزل ہی پہ ڈالے جائیں گے

Explanation: یہ انقلابیوں کے لیے زبردست حوصلہ افزائی ہے کہ راستے میں چاہے جانیں قربان ہوں اور بازو کٹ جائیں، مگر یہ قافلہ رکنا نہیں چاہیے، اب ہم صرف آزادی اور منزل پر ہی رکیں گے۔

انہیں کے فیض سے

انہیں کے فیض سے بازار عقل روشن ہے

جو گاہ گاہ جنوں اختیار کرتے رہے

Explanation: دنیا کی عقلی اور سائنسی ترقی دراصل ان دیوانوں (عاشقوں اور محققین) کی مرہونِ منت ہے جنہوں نے اپنی جان اور سکون کی پرواہ کیے بغیر جنون کی حد تک علم کی تلاش کی۔

میری خاموشیوں میں لرزاں

میری خاموشیوں میں لرزاں ہے

میرے نالوں کی گم شدہ آواز

Explanation: شاعر کہتا ہے کہ اگرچہ میں ظاہری طور پر خاموش ہوں اور کوئی شکوہ نہیں کر رہا، لیکن غور سے سنو تو میری اس گہری خاموشی میں میرے دبے ہوئے دکھوں کا زبردست شور موجود ہے۔

ہم شیخ نہ لیڈر

ہم شیخ نہ لیڈر نہ مصاحب نہ صحافی

جو خود نہیں کرتے وہ ہدایت نہ کریں گے

Explanation: فیض معاشرے کے دوغلے رہنماؤں پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم ان جھوٹے لیڈروں اور ملاؤں کی طرح نہیں جو لوگوں کو تو وعظ کرتے ہیں مگر خود اس پر عمل نہیں کرتے۔

غم جہاں ہو رخ

غم جہاں ہو رخ یار ہو کہ دست عدو

سلوک جس سے کیا ہم نے عاشقانہ کیا

Explanation: شاعر کے ظرف کی بلندی ہے کہ اس نے زندگی میں کسی سے نفرت نہیں کی، چاہے وہ محبوب ہو، دنیا کا کوئی دکھ ہو، یا دشمن کے وار ہوں، اس نے سب کو محبت اور مسکراہٹ کے ساتھ سہا۔

اب اپنا اختیار ہے

اب اپنا اختیار ہے چاہے جہاں چلیں

رہبر سے اپنی راہ جدا کر چکے ہیں ہم

Explanation: جب انسان اپنے رہنما کی منافقت یا کمزوری دیکھ لے تو وہ بغاوت کر دیتا ہے، شاعر کہتا ہے کہ ہم نے غلط رہنماؤں کو چھوڑ دیا ہے اور اب ہم اپنے ضمیر کے مطابق اپنا راستہ خود چنیں گے۔