Skip to content

Allama iqbal

باغ بہشت سے مجھے

باغ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوں

کار جہاں دراز ہے اب مرا انتظار کر

Explanation: انسان کی خدا سے شوخی کا اظہار ہے کہ تم نے مجھے خود ہی جنت سے نکال کر دنیا میں بھیجا تھا، اب دنیاوی کاموں میں اس قدر الجھ گیا ہوں کہ واپس آنے میں ابھی بہت وقت لگے گا۔

آنکھ جو کچھ دیکھتی

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں

محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی

Explanation: شاعر مستقبل کے امکانات اور تبدیلیوں کو اپنی باطنی آنکھ سے دیکھ رہا ہے، مگر ان حالات کی نزاکت اتنی ہے کہ وہ انہیں بیان کرنے سے قاصر اور حیران ہے۔

سو سو امیدیں بندھتی

سو سو امیدیں بندھتی ہے اک اک نگاہ پر

مجھ کو نہ ایسے پیار سے دیکھا کرے کوئی

Explanation: محبت بھری نگاہوں کا اثر ہے کہ جب کوئی اتنے پیار سے دیکھتا ہے تو دل میں سینکڑوں تمنائیں جاگ اٹھتی ہیں، اسی لیے شاعر کہتا ہے کہ مجھے اس طرح مت دیکھو۔

عروج آدم خاکی سے

عروج آدم خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں

کہ یہ ٹوٹا ہوا تارا مہ کامل نہ بن جائے

Explanation: انسان کی مسلسل ترقی کو دیکھ کر آسمان کے ستارے بھی حیران اور خوفزدہ ہیں کہ مٹی سے بنا یہ حقیر انسان کہیں ترقی کر کے پوری کائنات پر حاوی نہ ہو جائے۔

فرقہ بندی ہے کہیں

فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں

کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں

Explanation: اقبال مسلمانوں کے زوال کی وجہ بیان کرتے ہیں کہ جو قوم فرقوں اور ذات پات کے چھوٹے چھوٹے گروہوں میں بٹ جائے، وہ دنیا میں کبھی بھی ترقی نہیں کر سکتی۔

عشق بھی ہو حجاب

عشق بھی ہو حجاب میں حسن بھی ہو حجاب میں

یا تو خود آشکار ہو یا مجھے آشکار کر

Explanation: شاعر خدا کے سامنے بے تابی کا اظہار کرتا ہے کہ جب حسن اور عشق دونوں پردے میں ہیں تو ملاقات کیونکر ہو؟ یا تو تو اپنے جلوے ظاہر کر دے یا مجھے پردوں سے آزاد کر دے۔

ہے رام کے وجود

ہے رام کے وجود پہ ہندوستاں کو ناز

اہل نظر سمجھتے ہیں اس کو امام ہند

Explanation: اقبال ہندوؤں کے دیوتا 'شری رام' کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ ہندوستان کو ان پر فخر ہے، اور سچے علم والے انہیں ہندوستان کا روحانی پیشوا مانتے ہیں۔

سارے جہاں سے اچھا

سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا

ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا

Explanation: یہ اقبال کا مشہور قومی ترانہ ہے جس میں وہ برصغیر سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے اسے پوری دنیا سے بہتر اور اپنا پیارا وطن قرار دیتے ہیں۔

آئین جواں مرداں حق

آئین جواں مرداں حق گوئی و بیباکی

اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی

Explanation: سچے اور بہادر مسلمانوں کا شیوہ ہے کہ وہ ہمیشہ سچ بولتے ہیں اور نڈر رہتے ہیں، خدا کے ماننے والوں کو لومڑی جیسی مکاری اور چالاکی کبھی نہیں آتی۔

موتی سمجھ کے شان

موتی سمجھ کے شان کریمی نے چن لیے

قطرے جو تھے مرے عرق انفعال کے

Explanation: خدا کی رحمت کا بیان ہے کہ جب میں نے اپنے گناہوں پر شرمندہ ہو کر ندامت کے آنسو بہائے، تو خدا نے ان آنسوؤں کو سچے موتی سمجھ کر قبول فرما لیا۔

گلا تو گھونٹ دیا

گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے ترا

کہاں سے آئے صدا لا الٰہ الا اللہ

Explanation: مذہبی تعلیم کے موجودہ نظام پر سخت تنقید ہے کہ روایتی مدرسوں نے مسلمانوں کی روح اور سچے عقیدے کو دبا دیا ہے، اس لیے اب دلوں سے سچے ایمان کی آواز نہیں نکلتی۔

میں تجھ کو بتاتا

میں تجھ کو بتاتا ہوں تقدیر امم کیا ہے

شمشیر و سناں اول طاؤس و رباب آخر

Explanation: قوموں کے عروج و زوال کا قانون ہے کہ عروج پانے والی قومیں تلوار اور طاقت (شمشیر و سناں) سے کام لیتی ہیں، اور زوال کے وقت وہ رقص و موسیقی (طاؤس و رباب) میں کھو جاتی ہیں۔

تو نے یہ کیا

تو نے یہ کیا غضب کیا مجھ کو بھی فاش کر دیا

میں ہی تو ایک راز تھا سینۂ کائنات میں

Explanation: انسان کی پیدائش پر شاعر خدا سے مکالمہ کرتا ہے کہ پوری کائنات میں انسان ہی سب سے بڑا راز اور پیچیدہ حقیقت تھا، تو نے اسے دنیا میں بھیج کر یہ راز بھی کھول دیا۔

بھری بزم میں راز

بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی

بڑا بے ادب ہوں سزا چاہتا ہوں

Explanation: عشق و سرمستی میں شاعر نے سرعام وہ روحانی حقائق یا عشق کے راز بیان کر دیے جو پوشیدہ رہنے چاہیے تھے، اور اب وہ اس گستاخی پر خود سزا کا طلب گار ہے۔

یہ جنت مبارک رہے

یہ جنت مبارک رہے زاہدوں کو

کہ میں آپ کا سامنا چاہتا ہوں

Explanation: سچے عاشق کی نظر میں جنت کی نعمتیں کوئی معنی نہیں رکھتیں، وہ خشک زاہدوں کے لیے جنت چھوڑ کر صرف اپنے رب کے دیدار اور قربت کا طالب ہوتا ہے۔

جلال پادشاہی ہو کہ

جلال پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو

جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

Explanation: اقبال کا مشہور سیاسی نظریہ ہے کہ حکومت چاہے بادشاہت ہو یا جمہوریت، اگر سیاست میں مذہب (اخلاقیات) نہ رہے تو وہ سراسر ظلم اور بربریت کا نظام بن جاتی ہے۔

تیرا امام بے حضور

تیرا امام بے حضور تیری نماز بے سرور

ایسی نماز سے گزر ایسے امام سے گزر

Explanation: مسلمانوں کی بے روح عبادات پر طنز ہے کہ جب نماز پڑھانے والے امام کے دل میں تڑپ نہیں اور تیری نماز میں خشوع نہیں، تو ایسی رسم کو چھوڑ دینا بہتر ہے۔

پھول کی پتی سے

پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر

مرد ناداں پر کلام نرم و نازک بے اثر

Explanation: یہ ناممکن ہے کہ پھول کی نازک پتی سے سخت ہیرا کٹ جائے، بالکل اسی طرح کسی جاہل اور بیوقوف انسان پر نرم اور دانش مندانہ باتوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔

میر عرب کو آئی

میر عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے

میرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے

Explanation: یہ حدیث نبویﷺ کا مفہوم ہے جس میں آپﷺ نے ہندوستان کی طرف سے ٹھنڈی ہوا محسوس کی تھی، اقبال اسی مناسبت سے فخر سے کہتے ہیں کہ وہی مقدس سرزمین میرا وطن ہے۔

تجھے کتاب سے ممکن

تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تو

کتاب خواں ہے مگر صاحب کتاب نہیں

Explanation: شاعر کہتا ہے کہ تم محض کتابوں کے حافظ ہو، تم نے قرآن کو پڑھا ضرور ہے مگر اس کی روح کو اپنے اندر جذب کر کے اس پر عمل کرنے والے سچے مومن نہیں بنے۔