Skip to content

Allama iqbal

جب عشق سکھاتا ہے

جب عشق سکھاتا ہے آداب خودآگاہی

کھلتے ہیں غلاموں پر اسرار شہنشاہی

Explanation: جب انسان کے دل میں سچا عشق جاگتا ہے تو اسے اپنی اصل پہچان مل جاتی ہے، اور پھر عام غلاموں کو بھی وہ راز سمجھ آ جاتے ہیں جو بادشاہوں کو بھی نصیب نہیں ہوتے۔

زندگانی کی حقیقت کوہ

زندگانی کی حقیقت کوہ کن کے دل سے پوچھ

جوئے شیر و تیشہ و سنگ گراں ہے زندگی

Explanation: فرہاد (پہاڑ کاٹنے والے) کی مثال دے کر سمجھایا گیا ہے کہ زندگی کوئی پھولوں کی سیج نہیں، بلکہ یہ پہاڑ کاٹنے جیسی کٹھن محنت، اوزار (تیشہ) اور رکاوٹوں سے لڑنے کا نام ہے۔

ستارہ کیا مری تقدیر

ستارہ کیا مری تقدیر کی خبر دے گا

وہ خود فراخی افلاک میں ہے خوار و زبوں

Explanation: نجومیوں پر طنز ہے کہ وہ ستارے انسان کی قسمت کیا بتائیں گے جو خود اس لامحدود آسمان کی وسعتوں میں مجبور اور بے بس ہو کر گردش کر رہے ہیں۔

ہر شے مسافر ہر

ہر شے مسافر ہر چیز راہی

کیا چاند تارے کیا مرغ و ماہی

Explanation: کائنات کے مسلسل سفر کا بیان ہے کہ دنیا کی ہر چیز متحرک ہے، چاہے وہ آسمان کے چاند تارے ہوں یا زمین پر اڑنے والے پرندے اور تیرنے والی مچھلیاں۔

ہوئی نہ عام جہاں

ہوئی نہ عام جہاں میں کبھی حکومت عشق

سبب یہ ہے کہ محبت زمانہ ساز نہیں

Explanation: دنیا میں سچے عشق کا راج اس لیے قائم نہیں ہو سکا کیونکہ محبت کبھی مصلحتوں کا شکار نہیں ہوتی اور نہ ہی وقت کے تقاضوں کے مطابق سمجھوتہ کرتی ہے۔

تو ہے محیط بیکراں

تو ہے محیط بیکراں میں ہوں ذرا سی آب جو

یا مجھے ہمکنار کر یا مجھے بے کنار کر

Explanation: خدا کی وسعت اور اپنی حقیقت کا اعتراف ہے، شاعر کہتا ہے کہ تو ایک بہت بڑا سمندر ہے اور میں چھوٹی سی ندی، مجھے یا تو خود میں ملا لے یا پھر مجھے بھی لامحدود کر دے۔

سمندر سے ملے پیاسے

سمندر سے ملے پیاسے کو شبنم

بخیلی ہے یہ رزاقی نہیں ہے

Explanation: خدا کی وسیع رحمت کے سامنے انسان کا شکوہ ہے کہ اتنے بڑے سمندر (خزانے) میں سے اگر کسی پیاسے کو محض شبنم کا ایک قطرہ ملے، تو یہ کنجوسی کہلائے گی، عطا نہیں۔

کبھی چھوڑی ہوئی منزل

کبھی چھوڑی ہوئی منزل بھی یاد آتی ہے راہی کو

کھٹک سی ہے جو سینے میں غم منزل نہ بن جائے

Explanation: ماضی کی کھوئی ہوئی شان و شوکت یاد کرتے ہوئے شاعر ڈرتا ہے کہ پیچھے رہ جانے والی منزل کا یہ دکھ، کہیں میرے سینے میں ایک مستقل درد اور مایوسی نہ بن جائے۔

عشق تری انتہا عشق

عشق تری انتہا عشق مری انتہا

تو بھی ابھی نا تمام میں بھی ابھی نا تمام

Explanation: عشق کے لا محدود سفر کا بیان ہے، شاعر کہتا ہے کہ نہ تو خدا کی تجلیات کی کوئی حد ہے اور نہ ہی انسان کے عشق کی، دونوں کا یہ سفر ابھی نامکمل اور جاری ہے۔

زمانہ عقل کو سمجھا

زمانہ عقل کو سمجھا ہوا ہے مشعل راہ

کسے خبر کہ جنوں بھی ہے صاحب ادراک

Explanation: دنیا والے صرف عقل و منطق کو ہی کامیابی کا راستہ سمجھتے ہیں، حالانکہ وہ اس حقیقت سے ناواقف ہیں کہ سچا عشق (جنون) بھی اپنی ایک الگ اور گہری بصیرت رکھتا ہے۔

محبت کے لئے دل

محبت کے لئے دل ڈھونڈھ کوئی ٹوٹنے والا

یہ وہ مے ہے جسے رکھتے ہیں نازک آبگینوں میں

Explanation: سچی محبت کو برداشت کرنے کے لیے ایک حساس اور نرم دل چاہیے، جس طرح قیمتی اور تیز شراب کو ہمیشہ نازک اور شیشے کے برتنوں میں محفوظ کیا جاتا ہے۔

من کی دولت ہاتھ

من کی دولت ہاتھ آتی ہے تو پھر جاتی نہیں

تن کی دولت چھاؤں ہے آتا ہے دھن جاتا ہے دھن

Explanation: روحانی اور مادی دولت کا موازنہ ہے، جسمانی دولت (پیسہ) دھوپ چھاؤں کی طرح آنی جانی چیز ہے، لیکن اگر انسان کو باطنی سکون اور شعور کی دولت مل جائے تو وہ کبھی ختم نہیں ہوتی۔

ہوا ہو ایسی کہ

ہوا ہو ایسی کہ ہندوستاں سے اے اقبالؔ

اڑا کے مجھ کو غبار رہ حجاز کرے

Explanation: اقبال کی اپنے محبوب نبیﷺ اور مدینے سے عقیدت کا اظہار ہے، وہ دعا کرتے ہیں کہ کوئی ایسی ہوا چلے جو انہیں اڑا کر حجاز (مکہ مدینہ) کی مقدس مٹی میں ملا دے۔

اٹھو مری دنیا کے

اٹھو مری دنیا کے غریبوں کو جگا دو

کاخ امرا کے در و دیوار ہلا دو

Explanation: یہ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف انقلاب کا پیغام ہے، جس میں خدا کی طرف سے فرشتوں کو حکم ہے کہ ظالم امیروں کے محلات گرا دو اور پسے ہوئے غریبوں میں بیداری پیدا کرو۔

روز حساب جب مرا

روز حساب جب مرا پیش ہو دفتر عمل

آپ بھی شرمسار ہو مجھ کو بھی شرمسار کر

Explanation: یہ خدا سے ایک انتہائی منفرد اور گہرا مکالمہ ہے جس میں شاعر اپنے گناہوں کے پیشِ نظر کہتا ہے کہ قیامت کے دن میرے اعمال دیکھ کر تو بھی شرمندہ ہو جائے گا کہ میں نے کیسی مخلوق بنائی۔

نہیں اس کھلی فضا

نہیں اس کھلی فضا میں کوئی گوشۂ فراغت

یہ جہاں عجب جہاں ہے نہ قفس نہ آشیانہ

Explanation: دنیا کی عارضی اور کشمکش بھری زندگی کا بیان ہے کہ یہ کائنات نہ تو مکمل قید خانہ ہے اور نہ ہی سکون کا گھر، یہاں انسان کو کبھی حقیقی فرصت اور سکون نہیں ملتا۔

رشی کے فاقوں سے

رشی کے فاقوں سے ٹوٹا نہ برہمن کا طلسم

عصا نہ ہو تو کلیمیؑ ہے کار بے بنیاد

Explanation: صرف ظاہری عبادات (فاقوں) سے دنیا میں تبدیلی یا باطل کا خاتمہ نہیں کیا جا سکتا، جس طرح حضرت موسیٰؑ کے پاس ڈنڈے (طاقت) کے بغیر ان کا پیغام ادھورا تھا، حق کو نافذ کرنے کے لیے طاقت بھی ضروری ہے۔

خودی وہ بحر ہے

خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں

تو آب جو اسے سمجھا اگر تو چارہ نہیں

Explanation: خودی (اپنی ذات کی پہچان) ایک لامحدود سمندر ہے، اگر انسان اپنی صلاحیتوں کو پہچاننے کے بجائے خود کو محض ایک چھوٹی سی ندی سمجھے تو اس کی محرومی کا کوئی علاج نہیں۔

کشادہ دست کرم جب

کشادہ دست کرم جب وہ بے نیاز کرے

نیاز مند نہ کیوں عاجزی پہ ناز کرے

Explanation: اللہ کی لامحدود سخاوت کا بیان ہے کہ جب وہ بے نیاز ہو کر اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے، تو پھر مانگنے والے کو اپنی عاجزی اور فقیری پر فخر کیوں نہیں ہونا چاہیے۔

وہ حرف راز کہ

وہ حرف راز کہ مجھ کو سکھا گیا ہے جنوں

خدا مجھے نفس جبرئیل دے تو کہوں

Explanation: عشق نے شاعر کو کائنات کے جو گہرے راز سمجھا دیے ہیں، ان رازوں کو عام انسانوں تک پہنچانے کے لیے اسے حضرت جبرائیلؑ جیسی روحانی طاقت اور آواز کی ضرورت ہے۔