راز حیات پوچھ لے
راز حیات پوچھ لے خضر خجستہ گام سے
زندہ ہر ایک چیز ہے کوشش نا تمام سے
گیسوئے تابدار کو اور
گیسوئے تابدار کو اور بھی تابدار کر
ہوش و خرد شکار کر قلب و نظر شکار کر
پاس تھا ناکامی صیاد
پاس تھا ناکامی صیاد کا اے ہم صفیر
ورنہ میں اور اڑ کے آتا ایک دانے کے لیے
کمال جوش جنوں میں
کمال جوش جنوں میں رہا میں گرم طواف
خدا کا شکر سلامت رہا حرم کا غلاف
حکیم و عارف و
حکیم و عارف و صوفی تمام مست ظہور
کسے خبر کہ تجلی ہے عین مستوری
ترکوں کا جس نے
ترکوں کا جس نے دامن ہیروں سے بھر دیا تھا
میرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے
یہی زمانۂ حاضر کی
یہی زمانۂ حاضر کی کائنات ہے کیا
دماغ روشن و دل تیرہ و نگہ بیباک
ایک سرمستی و حیرت
ایک سرمستی و حیرت ہے سراپا تاریک
ایک سرمستی و حیرت ہے تمام آگاہی
اقبالؔ لکھنؤ سے نہ
اقبالؔ لکھنؤ سے نہ دلی سے ہے غرض
ہم تو اسیر ہیں خم زلف کمال کے
فطرت کو خرد کے
فطرت کو خرد کے روبرو کر
تسخیر مقام رنگ و بو کر
یہ ہے خلاصۂ علم
یہ ہے خلاصۂ علم قلندری کہ حیات
خدنگ جستہ ہے لیکن کماں سے دور نہیں
مرے جنوں نے زمانے
مرے جنوں نے زمانے کو خوب پہچانا
وہ پیرہن مجھے بخشا کہ پارہ پارہ نہیں
ہیں عقدہ کشا یہ
ہیں عقدہ کشا یہ خار صحرا
کم کر گلۂ برہنہ پائی
یہ مصرع لکھ دیا
یہ مصرع لکھ دیا کس شوخ نے محراب مسجد پر
یہ ناداں گر گئے سجدوں میں جب وقت قیام آیا
اسی اقبالؔ کی میں
اسی اقبالؔ کی میں جستجو کرتا رہا برسوں
بڑی مدت کے بعد آخر وہ شاہیں زیر دام آیا
اللہ کو پامردی مومن
اللہ کو پامردی مومن پہ بھروسہ
ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا
