Skip to content

Allama iqbal

راز حیات پوچھ لے

راز حیات پوچھ لے خضر خجستہ گام سے

زندہ ہر ایک چیز ہے کوشش نا تمام سے

Explanation: زندگی کی اصل حقیقت جدوجہد ہے، حضرت خضرؑ سے سیکھو کہ کائنات میں وہی چیز زندہ اور قائم رہتی ہے جو مسلسل اور نہ ختم ہونے والی کوشش میں لگی رہے۔

گیسوئے تابدار کو اور

گیسوئے تابدار کو اور بھی تابدار کر

ہوش و خرد شکار کر قلب و نظر شکار کر

Explanation: محبوب حقیقی (خدا) سے عرض ہے کہ تو اپنے حسن کے جلووں کو اس قدر تیز کر دے کہ عقل والوں کے ہوش اڑ جائیں اور ہر دیکھنے والے کا دل تیری محبت میں گرفتار ہو جائے۔

پاس تھا ناکامی صیاد

پاس تھا ناکامی صیاد کا اے ہم صفیر

ورنہ میں اور اڑ کے آتا ایک دانے کے لیے

Explanation: آزادی کی قدر کا بیان ہے، پرندہ کہتا ہے کہ میں شکاری کے بچھائے ہوئے معمولی دانے کی لالچ میں نہیں آیا تھا، بلکہ مجھے اس شکاری کی مایوسی پر ترس آ گیا تھا اس لیے خود کو قید کروایا۔

کمال جوش جنوں میں

کمال جوش جنوں میں رہا میں گرم طواف

خدا کا شکر سلامت رہا حرم کا غلاف

Explanation: عشق کی انتہا اور بے خودی کا ذکر ہے، شاعر کہتا ہے کہ مکہ میں کعبے کا طواف کرتے ہوئے مجھ پر اتنی زبردست دیوانگی طاری تھی کہ شکر ہے کعبے کا غلاف میرے ہاتھوں سے پھٹنے سے بچ گیا۔

حکیم و عارف و

حکیم و عارف و صوفی تمام مست ظہور

کسے خبر کہ تجلی ہے عین مستوری

Explanation: فلسفی اور صوفی خدا کو ظاہری جلووں میں تلاش کرتے ہیں، لیکن انہیں یہ نہیں معلوم کہ خدا کا پوری طرح ظاہر ہونا ہی دراصل اس کے چھپے ہونے کا سب سے بڑا راز ہے۔

ترکوں کا جس نے

ترکوں کا جس نے دامن ہیروں سے بھر دیا تھا

میرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے

Explanation: اسلامی تاریخ کے شاندار دور اور نبیﷺ کی ذات سے محبت کا اظہار ہے کہ جس পবিত্র دھرتی کی بدولت مسلمانوں (ترکوں) کو دنیا کی بادشاہت ملی، وہی حجاز میری اصلی جائے پناہ ہے۔

یہی زمانۂ حاضر کی

یہی زمانۂ حاضر کی کائنات ہے کیا

دماغ روشن و دل تیرہ و نگہ بیباک

Explanation: جدید مغربی تہذیب پر سخت تنقید ہے جس نے انسان کا دماغ تو علم سے روشن کر دیا ہے، مگر ان کے دل اندھیرے اور بے حسی کا شکار ہیں اور نظروں میں بے شرمی آ چکی ہے۔

ایک سرمستی و حیرت

ایک سرمستی و حیرت ہے سراپا تاریک

ایک سرمستی و حیرت ہے تمام آگاہی

Explanation: جاہل اور دانا کی حیرت کا فرق ہے، ایک شخص بغیر علم کے بے ہوش اور اندھیرے میں ہے، جبکہ دوسرا شخص (عاشق) کائنات کے کمالات دیکھ کر علم کے باوجود حیران و مست ہے۔

اقبالؔ لکھنؤ سے نہ

اقبالؔ لکھنؤ سے نہ دلی سے ہے غرض

ہم تو اسیر ہیں خم زلف کمال کے

Explanation: زبان اور ادب میں دہلی اور لکھنؤ کی رقابت کے حوالے سے اقبال فرماتے ہیں کہ مجھے کسی خاص علاقے سے کوئی دلچسپی نہیں، میں تو صرف علم اور کمال کے حسن کا دیوانہ ہوں۔

فطرت کو خرد کے

فطرت کو خرد کے روبرو کر

تسخیر مقام رنگ و بو کر

Explanation: مسلمانوں کو کائنات پر تحقیق اور سائنس کی دعوت دی گئی ہے کہ قدرت کے قوانین کو اپنی عقل سے پرکھو اور اس دنیا کو تسخیر کر کے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرو۔

یہ ہے خلاصۂ علم

یہ ہے خلاصۂ علم قلندری کہ حیات

خدنگ جستہ ہے لیکن کماں سے دور نہیں

Explanation: سچے درویش (قلندر) کا فلسفہ یہ ہے کہ انسان کی زندگی اس تیر کی طرح ہے جو کمان (خدا) سے نکل تو چکا ہے، لیکن پھر بھی وہ تیر اس کمان کے دائرہ اختیار سے باہر نہیں۔

مرے جنوں نے زمانے

مرے جنوں نے زمانے کو خوب پہچانا

وہ پیرہن مجھے بخشا کہ پارہ پارہ نہیں

Explanation: شاعر کو اپنی دیوانگی پر فخر ہے کہ عشق نے اسے ایسا لباس پہنا دیا ہے جو دنیاوی رسم و رواج سے بالاتر ہے، اور زمانے کی چالیں اس لباس کو پھاڑ نہیں سکتیں۔

ہیں عقدہ کشا یہ

ہیں عقدہ کشا یہ خار صحرا

کم کر گلۂ برہنہ پائی

Explanation: مشکلات کا سامنا کرنے کا حوصلہ ہے، کہ راستے کے جو کانٹے تمہیں چبھ رہے ہیں دراصل وہی تمہاری منزل کی رکاوٹیں دور کریں گے، اس لیے ننگے پاؤں چلنے کا شکوہ مت کرو۔

یہ مصرع لکھ دیا

یہ مصرع لکھ دیا کس شوخ نے محراب مسجد پر

یہ ناداں گر گئے سجدوں میں جب وقت قیام آیا

Explanation: مسلمانوں کی بے عملی پر انتہائی سخت طنز ہے کہ جب میدان عمل میں کھڑے ہونے (قیام) کا وقت آتا ہے، تو یہ بزدل ہو کر صرف سجدوں اور ظاہری عبادتوں میں چھپ جاتے ہیں۔

اسی اقبالؔ کی میں

اسی اقبالؔ کی میں جستجو کرتا رہا برسوں

بڑی مدت کے بعد آخر وہ شاہیں زیر دام آیا

Explanation: خودی کو پانے کی طویل محنت کا اعتراف ہے، شاعر کہتا ہے کہ جس عظیم کردار اور شاہین جیسی اڑان کو میں برسوں تلاش کرتا رہا، آج بڑی مشکل سے میں نے وہ مقام حاصل کر لیا ہے۔

اللہ کو پامردی مومن

اللہ کو پامردی مومن پہ بھروسہ

ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا

Explanation: مومن کی روحانی طاقت اور شیطان کی مادی طاقت کا موازنہ ہے، اللہ کو سچے مسلمان کی غیرت اور ہمت پر یقین ہے، جبکہ ابلیس صرف جدید ٹیکنالوجی کے سہارے کھڑا ہے۔