Skip to content

Parveen Shakir

وہ تو خوش بو

وہ تو خوش بو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا

مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا

Explanation: اس شعر میں شاعرہ کہتی ہیں کہ محبوب تو خوشبو کی طرح آزاد ہے جو ہواؤں میں بکھر کر کہیں بھی چلا جائے گا، لیکن اصل مسئلہ اس عاشق (پھول) کا ہے جس کا وجود محبوب کے بغیر بے معنی ہے۔

حسن کے سمجھنے کو

حسن کے سمجھنے کو عمر چاہیئے جاناں

دو گھڑی کی چاہت میں لڑکیاں نہیں کھلتیں

Explanation: شاعرہ عورت کے حسن اور اس کے جذبات کی گہرائی کا ذکر کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ عورت کے دل کو سمجھنے کے لیے پوری عمر درکار ہوتی ہے، یہ چند لمحوں کی عارضی محبت سے نہیں کھلتا۔

میں سچ کہوں گی

میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاؤں گی

وہ جھوٹ بولے گا اور لا جواب کر دے گا

Explanation: اس شعر میں محبت کی بے بسی اور محبوب کے سحر کا بیان ہے کہ عاشق سچ بول کر بھی ہار جاتا ہے، جبکہ محبوب اپنے جھوٹے دعووں اور دلائل سے عاشق کو لاجواب کر دیتا ہے۔

وہ کہیں بھی گیا

وہ کہیں بھی گیا لوٹا تو مرے پاس آیا

بس یہی بات ہے اچھی مرے ہرجائی کی

Explanation: شاعرہ اپنے بے وفا محبوب کی ایک خوبی بیان کرتی ہیں کہ وہ چاہے کتنی ہی جگہوں پر بھٹکتا رہے، لیکن آخر کار لوٹ کر اسی کے پاس آتا ہے، اور یہی بات اس کی محبت کی تسلی ہے۔

کیسے کہہ دوں کہ

کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اس نے

بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی

Explanation: شاعرہ اپنے دل کا درد اور انا کی کشمکش بیان کر رہی ہیں کہ اگرچہ محبوب نے اسے چھوڑ دیا ہے، لیکن وہ دنیا کے سامنے اس سچائی کا اقرار اس لیے نہیں کر سکتیں کیونکہ اس میں ان کی رسوائی ہے۔

اتنے گھنے بادل کے

اتنے گھنے بادل کے پیچھے

کتنا تنہا ہوگا چاند

Explanation: یہ ایک خوبصورت استعارہ ہے جس میں بادلوں کے پیچھے چھپے چاند کو دیکھ کر شاعرہ کو کسی ایسے حسین مگر تنہا انسان کا خیال آیا ہے جو ہجوم کے باوجود اندر سے اکیلا ہو۔

میری طلب تھا ایک

میری طلب تھا ایک شخص وہ جو نہیں ملا تو پھر

ہاتھ دعا سے یوں گرا بھول گیا سوال بھی

Explanation: شاعرہ کی واحد اور سچی خواہش صرف اپنا محبوب تھا، جب وہ نہ ملا تو اس کی مایوسی اتنی گہری ہو گئی کہ اس نے خدا سے کچھ بھی مانگنا اور دعا کرنا ہی چھوڑ دیا۔

کچھ تو ہوا بھی

کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھی

دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی

Explanation: اس شعر میں سرد رات اور محبوب کی یادوں کی ملی جلی کیفیت کا بیان ہے جہاں پرانی حسین یادیں خوشی تو دیتی ہیں لیکن محبوب کے پاس نہ ہونے کا دکھ (ملال) بھی ستاتا ہے۔

کچھ تو ترے موسم

کچھ تو ترے موسم ہی مجھے راس کم آئے

اور کچھ مری مٹی میں بغاوت بھی بہت تھی

Explanation: تعلق ٹوٹنے کی وجہ بیان کی گئی ہے کہ ایک طرف محبوب کا رویہ یا حالات شاعرہ کے موافق نہ تھے، اور دوسری طرف خود شاعرہ کی فطرت میں بھی ایک خودداری اور بغاوت موجود تھی جو جھکنے کو تیار نہ تھی۔

وہ نہ آئے گا

وہ نہ آئے گا ہمیں معلوم تھا اس شام بھی

انتظار اس کا مگر کچھ سوچ کر کرتے رہے

Explanation: اس شعر میں محبت کے اس دردناک انتظار کا ذکر ہے جب دل کو حقیقت کا علم ہوتا ہے کہ محبوب نہیں آئے گا، مگر پھر بھی ایک جھوٹی امید کے سہارے انسان راہ تکتا رہتا ہے۔

وہ مجھ کو چھوڑ

وہ مجھ کو چھوڑ کے جس آدمی کے پاس گیا

برابری کا بھی ہوتا تو صبر آ جاتا

Explanation: محبوب کی بے وفائی سے زیادہ اس کی پسند پر دکھ کا اظہار ہے کہ اس نے جس شخص کی خاطر شاعرہ کو چھوڑا، وہ شخص کسی بھی خوبی میں شاعرہ کے برابر یا اس سے بہتر نہیں تھا۔

ہم تو سمجھے تھے

ہم تو سمجھے تھے کہ اک زخم ہے بھر جائے گا

کیا خبر تھی کہ رگ جاں میں اتر جائے گا

Explanation: شاعرہ محبت کے درد کی شدت پر حیران ہیں کہ شروع میں انہوں نے اس دکھ کو محض ایک عارضی زخم سمجھا تھا، مگر آہستہ آہستہ یہ درد ان کی روح اور جان کا حصہ بن گیا۔

چلنے کا حوصلہ نہیں

چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کر دیا

عشق کے اس سفر نے تو مجھ کو نڈھال کر دیا

Explanation: عشق کے کٹھن راستے کی تھکن کا بیان ہے کہ عاشق کے پاس مزید آگے بڑھنے کی ہمت نہیں رہی، مگر پیچھے ہٹنا یا رکنا بھی اس کے بس میں نہیں، یوں وہ مکمل طور پر لاچار ہو چکا ہے۔

اب تو اس راہ

اب تو اس راہ سے وہ شخص گزرتا بھی نہیں

اب کس امید پہ دروازے سے جھانکے کوئی

Explanation: محبوب کے مکمل طور پر روٹھ جانے اور راستہ بدل لینے کا دکھ ہے، شاعرہ کہتی ہیں کہ جب اس کے آنے کا کوئی امکان ہی نہیں بچا، تو اب دروازے پر کھڑے ہو کر انتظار کرنا بھی بے معنی ہے۔

دشمنوں کے ساتھ میرے

دشمنوں کے ساتھ میرے دوست بھی آزاد ہیں

دیکھنا ہے کھینچتا ہے مجھ پہ پہلا تیر کون

Explanation: دنیا کی منافقت پر ایک تلخ طنز ہے کہ آج میرے برے وقت میں میرے دوست بھی دشمنوں کی صف میں کھڑے ہیں، اب دیکھنا یہ ہے کہ مجھے پہلا زخم کوئی غیر دیتا ہے یا اپنا دوست۔

یوں بچھڑنا بھی بہت

یوں بچھڑنا بھی بہت آساں نہ تھا اس سے مگر

جاتے جاتے اس کا وہ مڑ کر دوبارہ دیکھنا

Explanation: جدائی کے وقت کے کرب کا منظر ہے کہ بچھڑنا تو ویسے ہی بہت تکلیف دہ تھا، مگر محبوب کا جاتے ہوئے آخری بار مڑ کر دیکھنا اس درد اور کسک میں بے پناہ اضافہ کر گیا۔

بات وہ آدھی رات

بات وہ آدھی رات کی رات وہ پورے چاند کی

چاند بھی عین چیت کا اس پہ ترا جمال بھی

Explanation: محبوب کے ساتھ گزاری گئی ایک انتہائی رومانوی رات کی منظر کشی ہے، جہاں بہار کے پورے چاند کی چاندنی اور محبوب کے حسن نے مل کر اس لمحے کو ناقابلِ فراموش بنا دیا۔

رات کے شاید ایک

رات کے شاید ایک بجے ہیں

سوتا ہوگا میرا چاند

Explanation: یہ ایک سادہ مگر انتہائی گہرے احساس اور محبت کا اظہار ہے جس میں شاعرہ رات کی تنہائی میں اپنے محبوب کے تصور میں کھو کر بڑی نزاکت سے اسے یاد کر رہی ہیں۔

ممکنہ فیصلوں میں ایک

ممکنہ فیصلوں میں ایک ہجر کا فیصلہ بھی تھا

ہم نے تو ایک بات کی اس نے کمال کر دیا

Explanation: شاعرہ کو محبوب کی جلد بازی پر حیرت اور دکھ ہے کہ میں نے تو محض غصے یا بحث میں جدائی کی ایک بات کی تھی، مگر محبوب نے اسے سنجیدہ لے کر واقعی رشتہ ختم کر کے کمال ہی کر دیا۔

بس یہ ہوا کہ

بس یہ ہوا کہ اس نے تکلف سے بات کی

اور ہم نے روتے روتے دوپٹے بھگو لئے

Explanation: سچی محبت میں محبوب کی ذرا سی بے رخی بھی ناقابلِ برداشت ہوتی ہے، محبوب کے بات کرنے کے انداز میں محض رسمی سا پن تھا جس نے شاعرہ کے حساس دل کو توڑ کر رکھ دیا۔