Skip to content

Parveen Shakir

اس نے مجھے دراصل

اس نے مجھے دراصل کبھی چاہا ہی نہیں تھا

خود کو دے کر یہ بھی دھوکا، دیکھ لیا ہے

Explanation: ایک تلخ حقیقت کا انکشاف ہے کہ شاعرہ خود فریبی کا شکار تھیں، انہیں بالآخر یہ احساس ہو گیا ہے کہ ان کے محبوب نے درحقیقت کبھی ان سے سچی محبت کی ہی نہیں تھی۔

چہرہ و نام ایک

چہرہ و نام ایک ساتھ آج نہ یاد آ سکے

وقت نے کس شبیہ کو خواب و خیال کر دیا

Explanation: وقت کی دھول کا اثر ہے کہ وہ چہرہ جو کبھی زندگی کا مرکز تھا، آج اس کا نام اور نقوش تک حافظے سے دھندلے ہو چکے ہیں اور وہ محض ایک بھولا ہوا خواب بن کر رہ گیا ہے۔

کون جانے کہ نئے

کون جانے کہ نئے سال میں تو کس کو پڑھے

تیرا معیار بدلتا ہے نصابوں کی طرح

Explanation: محبوب کی مستقل بے وفائی اور ہر روز بدلتی ہوئی پسند پر طنز ہے کہ جس طرح ہر سال کتابوں کا نصاب بدل جاتا ہے، اسی طرح تم بھی ہر نئے سال کوئی نیا دل بہلانے والا ڈھونڈ لیتے ہو۔

تو بدلتا ہے تو

تو بدلتا ہے تو بے ساختہ میری آنکھیں

اپنے ہاتھوں کی لکیروں سے الجھ جاتی ہیں

Explanation: جب محبوب بے رخی اختیار کرتا ہے تو شاعرہ کو اپنی بدقسمتی پر رونا آتا ہے اور وہ بے ساختہ اپنے ہاتھوں کی لکیروں (قسمت) کو دیکھنے لگتی ہیں کہ شاید ان کی تقدیر میں ہی دکھ لکھا ہے۔

رائے پہلے سے بنا

رائے پہلے سے بنا لی تو نے

دل میں اب ہم ترے گھر کیا کرتے

Explanation: جب محبوب نے پہلے سے ہی دل میں بدگمانی پال لی اور تعلق توڑنے کا فیصلہ کر لیا تھا، تو پھر شاعرہ کہتی ہیں کہ ہماری کسی بھی وضاحت یا محبت کا اس پر کوئی اثر نہیں ہونا تھا۔

اپنے قاتل کی ذہانت

اپنے قاتل کی ذہانت سے پریشان ہوں میں

روز اک موت نئے طرز کی ایجاد کرے

Explanation: محبوب کے ظلم کے نت نئے طریقوں کا شکوہ ہے کہ وہ اس قدر ہوشیار اور ظالم ہے کہ ہر روز ایک نئی قسم کی اذیت اور بے رخی کے ذریعے مجھے اندر سے مارتا ہے۔

عکس خوشبو ہوں بکھرنے

عکس خوشبو ہوں بکھرنے سے نہ روکے کوئی

اور بکھر جاؤں تو مجھ کو نہ سمیٹے کوئی

Explanation: شاعرہ اپنی حساس اور آزاد فطرت کو خوشبو سے تشبیہ دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ میں ٹوٹ کر بکھرنا چاہتی ہوں، اور میری خواہش ہے کہ کوئی بھی مجھے اس بکھرنے اور فنا ہونے سے نہ روکے۔

اپنی رسوائی ترے نام

اپنی رسوائی ترے نام کا چرچا دیکھوں

اک ذرا شعر کہوں اور میں کیا کیا دیکھوں

Explanation: شاعرہ کے لیے شاعری اپنے درد کے اظہار کا ذریعہ ہے، مگر جب وہ شعر کہتی ہیں تو دنیا ان کی رسوائی کا تماشا بناتی ہے اور ساتھ ہی ان کے محبوب کا نام بھی لوگوں کی زبان پر آ جاتا ہے۔

نہ جانے کون سا

نہ جانے کون سا آسیب دل میں بستا ہے

کہ جو بھی ٹھہرا وہ آخر مکان چھوڑ گیا

Explanation: مسلسل رشتے ٹوٹنے کا دکھ ہے کہ میرے دل کے اندر شاید کسی بدقسمتی کا سایہ ہے، کیونکہ جو بھی شخص اس دل میں آ کر بسا، وہ کچھ عرصے بعد یہ گھر (دل) ویران کر کے چلا گیا۔

رستہ میں مل گیا

رستہ میں مل گیا تو شریک سفر نہ جان

جو چھاؤں مہرباں ہو اسے اپنا گھر نہ جان

Explanation: زندگی کے تلخ حقائق کی تلقین ہے کہ راستے میں چند قدم ساتھ چلنے والوں یا وقتی سہارا دینے والوں کو کبھی مستقل اپنا نہ سمجھو، کیونکہ یہ سب عارضی ہوتے ہیں۔

دروازہ جو کھولا تو

دروازہ جو کھولا تو نظر آئے کھڑے وہ

حیرت ہے مجھے آج کدھر بھول پڑے وہ

Explanation: طویل عرصے تک روٹھے رہنے والے محبوب کے اچانک واپس آ جانے پر شاعرہ کی حیرانی کا اظہار ہے، کہ جو شخص میرا راستہ بھول چکا تھا وہ آج غلطی سے میرے دروازے پر کیسے آ گیا۔

ظلم سہنا بھی تو

ظلم سہنا بھی تو ظالم کی حمایت ٹھہرا

خامشی بھی تو ہوئی پشت پناہی کی طرح

Explanation: یہ معاشرے میں ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے کا پیغام ہے کہ جب آپ ظلم کے خلاف نہیں بولتے اور اسے خاموشی سے برداشت کرتے ہیں، تو دراصل آپ بھی اس ظالم کا ساتھ دے رہے ہوتے ہیں۔

دینے والے کی مشیت

دینے والے کی مشیت پہ ہے سب کچھ موقوف

مانگنے والے کی حاجت نہیں دیکھی جاتی

Explanation: اللہ کی رضا اور تقدیر کے فیصلوں کا بیان ہے کہ انسان چاہے کتنا ہی محتاج کیوں نہ ہو، اسے وہی کچھ ملتا ہے جو خدا کی مرضی اور حکمت میں اس کے لیے بہتر ہوتا ہے۔

کانٹوں میں گھرے پھول

کانٹوں میں گھرے پھول کو چوم آئے گی لیکن

تتلی کے پروں کو کبھی چھلتے نہیں دیکھا

Explanation: یہ عشق میں دیوانگی اور احتیاط کے خوبصورت امتزاج کی مثال ہے کہ سچا چاہنے والا تمام مشکلات (کانٹوں) کے باوجود اپنے محبوب (پھول) تک پہنچ بھی جاتا ہے اور اسے کوئی نقصان بھی نہیں پہنچتا۔

پاس جب تک وہ

پاس جب تک وہ رہے درد تھما رہتا ہے

پھیلتا جاتا ہے پھر آنکھ کے کاجل کی طرح

Explanation: محبوب کے پاس ہونے سے تمام دکھ درد عارضی طور پر رک جاتے ہیں، لیکن جیسے ہی وہ دور جاتا ہے تو اداسی اور تکلیف آنسوؤں میں بہتے کاجل کی طرح پوری ذات پر سیاہی بن کر پھیل جاتے ہیں۔

کو بہ کو پھیل

کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی

اس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی

Explanation: محبت کا راز چھپائے نہیں چھپتا، محبوب نے شاعرہ کو اس قدر چاہت اور اہمیت دی کہ ان کے عشق کی خبر ہوا میں اڑتی ہوئی خوشبو کی طرح پورے زمانے میں پھیل گئی۔

نہیں نہیں یہ خبر

نہیں نہیں یہ خبر دشمنوں نے دی ہوگی

وہ آئے آ کے چلے بھی گئے ملے بھی نہیں

Explanation: محبوب کی بے رخی پر شاعرہ کو اب بھی یقین نہیں آ رہا، وہ اپنے دل کو جھوٹی تسلی دیتی ہیں کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ محبوب آئے اور مجھ سے ملے بغیر چلا جائے، یہ ضرور دشمنوں کی اڑائی ہوئی جھوٹی خبر ہے۔

میرے چہرے پہ غزل

میرے چہرے پہ غزل لکھتی گئیں

شعر کہتی ہوئی آنکھیں اس کی

Explanation: محبوب کی آنکھوں میں اتنی کشش اور گہرائی ہے کہ وہ جب شاعرہ کو دیکھتا ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اس کی خاموش مگر بولتی ہوئی نگاہیں شاعرہ کے چہرے پر ایک خوبصورت غزل تخلیق کر رہی ہوں۔

یہ کیا کہ وہ

یہ کیا کہ وہ جب چاہے مجھے چھین لے مجھ سے

اپنے لئے وہ شخص تڑپتا بھی تو دیکھوں

Explanation: عشق میں محبوب کی حاکمیت پر ایک پیاری سی شکایت ہے کہ وہ جب چاہتا ہے اپنے سحر سے مجھ پر قابو پا لیتا ہے، میری خواہش ہے کہ کبھی وہ خود بھی میری محبت میں تڑپ کر دکھائے۔

ہاتھ میرے بھول بیٹھے

ہاتھ میرے بھول بیٹھے دستکیں دینے کا فن

بند مجھ پر جب سے اس کے گھر کا دروازہ ہوا

Explanation: محبوب کی طرف سے رد کیے جانے کے بعد شاعرہ اس قدر مایوس ہو چکی ہیں کہ انہوں نے زندگی کے ہر دروازے پر دستک دینا اور امید کرنا چھوڑ دیا ہے۔