Skip to content

Parveen Shakir

میری چادر تو چھنی

میری چادر تو چھنی تھی شام کی تنہائی میں

بے ردائی کو مری پھر دے گیا تشہیر کون

Explanation: عورت کی مجبوری اور سماج کی منافقت پر طنز ہے کہ جب مجھ پر اندھیرے اور تنہائی میں ظلم ہوا، تو وہ کون لوگ تھے جنہوں نے میری داد رسی کے بجائے صبح ہوتے ہی میری رسوائی کا چرچا پورے شہر میں کر دیا۔

دھیمے سروں میں کوئی

دھیمے سروں میں کوئی مدھر گیت چھیڑئیے

ٹھہری ہوئی ہواؤں میں جادو بکھیریے

Explanation: ایک انتہائی رومانوی اور پرسکون لمحے کی خواہش ہے، جس میں شاعرہ خاموش اور اداس فضا کو کسی مدھر اور میٹھے گیت کے ذریعے خوشگوار بنانے کی فرمائش کر رہی ہیں۔

رفاقتوں کا مری اس

رفاقتوں کا مری اس کو دھیان کتنا تھا

زمین لے لی مگر آسمان چھوڑ گیا

Explanation: طنزیہ انداز میں محبوب کے ظلم اور چھین لینے کی عادت کا ذکر ہے کہ اس نے میری زندگی کا ہر سہارا (زمین) چھین لیا، اور بے بسی میں تڑپنے کے لیے میرے پاس صرف دور کا آسمان چھوڑ دیا۔

پلٹ کر پھر یہیں

پلٹ کر پھر یہیں آ جائیں گے ہم

وہ دیکھے تو ہمیں آزاد کر کے

Explanation: یہ عشق کی وہ قید ہے جس میں قیدی خود اپنی مرضی سے گرفتار رہنا چاہتا ہے، شاعرہ کہتی ہیں کہ اگر محبوب ہمیں آزاد بھی کر دے گا تو ہم محبت کے ہاتھوں مجبور ہو کر لوٹ کر پھر اسی کے پاس آ جائیں گے۔

وہ میرے پاؤں کو

وہ میرے پاؤں کو چھونے جھکا تھا جس لمحے

جو مانگتا اسے دیتی امیر ایسی تھی

Explanation: محبت میں جھکنے والے کی قدر کا بیان ہے کہ جب محبوب نے اپنی انا کو ختم کر کے شاعرہ کو اتنی عزت اور محبت دی، تو اس ایک لمحے میں شاعرہ کو خود پر اتنا فخر محسوس ہوا کہ وہ اسے اپنی پوری زندگی دے دیتیں۔

جستجو کھوئے ہوؤں کی

جستجو کھوئے ہوؤں کی عمر بھر کرتے رہے

چاند کے ہم راہ ہم ہر شب سفر کرتے رہے

Explanation: کسی بچھڑے ہوئے کی تلاش میں گزری زندگی کی تھکن کا ذکر ہے کہ جس طرح چاند رات بھر آسمان کا سفر کرتا ہے، شاعرہ بھی اسی چاند کی طرح راتوں کو جاگ کر اپنے کھوئے ہوئے انسان کو ڈھونڈتی رہیں۔

خود اپنے سے ملنے

خود اپنے سے ملنے کا تو یارا نہ تھا مجھ میں

میں بھیڑ میں گم ہو گئی تنہائی کے ڈر سے

Explanation: یہ انسان کی باطنی ویرانی سے خوفزدہ ہونے کی کیفیت ہے، شاعرہ کو تنہائی میں اپنے ضمیر یا اپنے دکھوں کا سامنا کرنے سے اتنا ڈر لگتا تھا کہ اس نے خود کو دنیا کی جھوٹی محفلوں اور بھیڑ میں گم کر لیا。

صرف اس تکبر میں

صرف اس تکبر میں اس نے مجھ کو جیتا تھا

ذکر ہو نہ اس کا بھی کل کو نارساؤں میں

Explanation: محبوب کی خود غرضی پر افسوس ہے کہ اس نے مجھ سے محبت اس لیے نہیں کی کہ وہ مجھے چاہتا تھا، بلکہ صرف اس لیے میرا دل جیتا تاکہ دنیا اسے محبت میں ہارنے والا اور ناکام انسان نہ سمجھے۔

بند کر کے مری

بند کر کے مری آنکھیں وہ شرارت سے ہنسے

بوجھے جانے کا میں ہر روز تماشا دیکھوں

Explanation: محبت کی ان خوبصورت اور الہڑ شرارتوں کی یاد ہے جب محبوب پیچھے سے آ کر آنکھیں بند کر لیتا تھا، اور شاعرہ جان بوجھ کر اس کے کھیل اور ہنسی کا مزہ لینے کے لیے اسے پہچاننے کا جھوٹا تماشا کرتی تھیں۔

تھک گیا ہے دل

تھک گیا ہے دل وحشی مرا فریاد سے بھی

جی بہلتا نہیں اے دوست تری یاد سے بھی

Explanation: غم کی شدت سے دل اس قدر تھک اور مایوس ہو چکا ہے کہ اب وہ روتے ہوئے اور فریاد کرتے ہوئے بھی اکتا گیا ہے، یہاں تک کہ جس محبوب کی یادیں کبھی سکون دیتی تھیں، اب ان سے بھی تسلی نہیں ملتی۔

تری چاہت کے بھیگے

تری چاہت کے بھیگے جنگلوں میں

مرا تن مور بن کر ناچتا ہے

Explanation: محبوب کے عشق اور اس کی قربت میں سرمستی اور بے پناہ خوشی کا انتہائی خوبصورت اظہار ہے، جیسے بارش کے بعد جنگل میں مور خوشی سے رقص کرتا ہے۔

کسی کے دھیان میں

کسی کے دھیان میں ڈوبا ہوا دل

بہانے سے مجھے بھی ٹالتا ہے

Explanation: شاعرہ محسوس کرتی ہیں کہ ان کا اپنا ہی دل اب ان کے اختیار میں نہیں رہا، بلکہ وہ کسی کی محبت میں اتنا کھو چکا ہے کہ اب وہ شاعرہ کی عقلی باتوں کو بہانے بنا کر ٹال دیتا ہے۔

زندگی میری تھی لیکن

زندگی میری تھی لیکن اب تو

تیرے کہنے میں رہا کرتی ہے

Explanation: عشق میں انسان کی اپنی ذات اور مرضی ختم ہو جاتی ہے، شاعرہ اعتراف کرتی ہیں کہ یہ زندگی بظاہر میری ہے مگر اب اس پر پورا کنٹرول اور اختیار صرف محبوب کا چلتا ہے۔

جس جا مکین بننے

جس جا مکین بننے کے دیکھے تھے میں نے خواب

اس گھر میں ایک شام کی مہمان بھی نہ تھی

Explanation: ان ادھورے سپنوں کا دردناک بیان ہے جہاں شاعرہ نے کسی انسان یا رشتے میں ہمیشہ کے لیے اپنا گھر بنانے کا خواب دیکھا تھا، مگر انہیں وہاں ایک دن کے لیے بھی اپنائیت نہ مل سکی۔

جنگ کا ہتھیار طے

جنگ کا ہتھیار طے کچھ اور تھا

تیر سینے میں اتارا اور ہے

Explanation: دھوکے اور اپنوں کی منافقت کا ذکر ہے کہ مدِ مقابل سے کسی اور قسم کی مخالفت کی توقع تھی، مگر اس نے ایسے غیر متوقع اور چھپے ہوئے طریقے سے وار کیا جس نے سیدھا دل کو چھلنی کر دیا۔

قدموں میں بھی تکان

قدموں میں بھی تکان تھی گھر بھی قریب تھا

پر کیا کریں کہ اب کے سفر ہی عجیب تھا

Explanation: منزل کے قریب پہنچ کر بھی انسان کا دل اچاٹ ہو جانے کی کیفیت ہے، سب کچھ میسر ہونے کے باوجود بھی اس بار راستے کی الجھنیں اور دل کی اداسی ایسی تھی کہ گھر پہنچنے کی خوشی ہی ختم ہو گئی۔

اب ان دریچوں پہ

اب ان دریچوں پہ گہرے دبیز پردے ہیں

وہ تانک جھانک کا معصوم سلسلہ بھی گیا

Explanation: بچپن یا الہڑ پن کی معصومیت کھو جانے اور رشتوں میں دوریاں آ جانے کا ذکر ہے جب محبت کے چھوٹے چھوٹے بہانے ختم ہو گئے اور ان کی جگہ بھاری تکلفات اور پردوں نے لے لی۔

بے نام مسافت ہی

بے نام مسافت ہی مقدر ہے تو کیا غم

منزل کا تعین کبھی ہوتا ہے سفر سے

Explanation: یہ زندگی کو اس کی تمام تر بے یقینی کے ساتھ قبول کرنے کا حوصلہ ہے کہ اگر ہمیں اپنی منزل کا پتہ نہیں تو بھی کوئی دکھ نہیں، اکثر راستہ خود انسان کو اس کی صحیح منزل تک پہنچا دیتا ہے۔

شب وہی لیکن ستارہ

شب وہی لیکن ستارہ اور ہے

اب سفر کا استعارہ اور ہے

Explanation: حالات اور رات کے اندھیرے بظاہر وہی ہیں، مگر اب زندگی میں رہنمائی کرنے والی امیدیں اور منزل کے مقاصد پوری طرح سے تبدیل ہو چکے ہیں۔

بوجھ اٹھاتے ہوئے پھرتی

بوجھ اٹھاتے ہوئے پھرتی ہے ہمارا اب تک

اے زمیں ماں تری یہ عمر تو آرام کی تھی

Explanation: دھرتی اور ماں کے ساتھ محبت اور ہمدردی کا بے پناہ خوبصورت اظہار ہے، انسان اپنی زمین کو ماں کا درجہ دیتے ہوئے کہتا ہے کہ تو اتنا طویل عرصہ گزرنے کے بعد آج بھی ہم انسانوں کا بوجھ ڈھو رہی ہے، حالانکہ اب تجھے آرام کرنا چاہیے تھا۔