دل عجب شہر کہ
دل عجب شہر کہ جس پر بھی کھلا در اس کا
وہ مسافر اسے ہر سمت سے برباد کرے
Explanation: دل کی سادگی اور انسانوں کی بے وفائی کا شکوہ ہے کہ میرے دل نے جس انسان کو بھی محبت سے اپنے اندر جگہ دی، اس نے قدر کرنے کے بجائے اس دل کی بستی کو ہر طرح سے برباد اور تباہ ہی کیا۔
غیر ممکن ہے ترے
غیر ممکن ہے ترے گھر کے گلابوں کا شمار
میرے رستے ہوئے زخموں کے حسابوں کی طرح
Explanation: محبوب کی خوشیوں اور اپنی اذیتوں کا موازنہ ہے کہ جس طرح تیرے پاس دنیا بھر کی ان گنت خوشیاں اور حسن ہے، اسی طرح تو نے مجھے جو رستے ہوئے زخم دیے ہیں، وہ بھی بے حساب ہیں۔
مری طرح سے کوئی
مری طرح سے کوئی ہے جو زندگی اپنی
تمہاری یاد کے نام انتساب کر دے گا
Explanation: اپنی سچی محبت کے دعوے اور محبوب کو اس کا احساس دلانے کا بیان ہے، شاعرہ پوچھتی ہیں کہ کیا دنیا میں کوئی اور ایسا عاشق ہے جو میری طرح اپنی پوری زندگی صرف تمہاری یادوں کے سہارے گزار دے؟
تیرا گھر اور میرا
تیرا گھر اور میرا جنگل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ
ایسی برساتیں کہ بادل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ
Explanation: یہ دکھ اور ہجر کی ایک ایسی سانجھی اور شدت بھری کیفیت ہے جس میں درد صرف عاشق کا جنگل ہی ویران نہیں کر رہا، بلکہ یہ اتنی شدید بارش (آنسو اور غم) ہے کہ اس میں محبوب کا گھر بھی متاثر ہو رہا ہے۔
مقتل وقت میں خاموش
مقتل وقت میں خاموش گواہی کی طرح
دل بھی کام آیا ہے گمنام سپاہی کی طرح
Explanation: زندگی کی سخت جنگوں میں دل کے کردار کو سراہا گیا ہے کہ جس طرح کوئی گمنام سپاہی خاموشی سے جان دے کر اپنی ڈیوٹی نبھا جاتا ہے، اسی طرح وقت کی سختیوں میں میرے دل نے بھی ٹوٹ کر خاموشی سے میرا ساتھ دیا۔
ہتھیلیوں کی دعا پھول
ہتھیلیوں کی دعا پھول بن کے آئی ہو
کبھی تو رنگ مرے ہاتھ کا حنائی ہو
Explanation: یہ ایک جوان لڑکی کی بہت معصوم اور فطری خواہش ہے کہ اس نے جو دعائیں مانگتی ہیں وہ پوری ہوں اور اسے بھی کبھی اپنے محبوب کے نام کی مہندی (شادی) لگانے کا موقع نصیب ہو۔
عجب نہیں ہے کہ
عجب نہیں ہے کہ دل پر جمی ملی کائی
بہت دنوں سے تو یہ حوض صاف بھی نہ ہوا
Explanation: جب انسان کے دل میں لمبے عرصے تک کوئی خوشی، تازگی یا محبت نہ آئے، تو وہاں مایوسیوں اور اداسیوں کی کائی جم جانا ایک بالکل فطری بات ہے، اسے صاف کرنے کے لیے محبت کے تازہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔
گلابی پاؤں مرے چمپئی
گلابی پاؤں مرے چمپئی بنانے کو
کسی نے صحن میں مہندی کی باڑ اگائی ہو
Explanation: یہ محبوب کے گھر میں استقبال اور محبت کی انتہائی حسین منظر کشی ہے، جیسے محبوب نے جان بوجھ کر دلہن کے قدموں کو مہندی سے رنگنے کے لیے اپنے آنگن میں مہندی کی کیاریاں اگا رکھی ہوں۔
اسی طرح سے اگر
اسی طرح سے اگر چاہتا رہا پیہم
سخن وری میں مجھے انتخاب کر دے گا
Explanation: شاعرہ محسوس کرتی ہیں کہ ان کا فن (شاعری) محبوب کی محبت کا ہی مرہونِ منت ہے، اور اگر وہ اسی شدت سے محبت کرتا رہا تو ایک دن ان کی شاعری کمال کے عروج تک پہنچ جائے گی۔
سورج دماغ لوگ بھی
سورج دماغ لوگ بھی ابلاغ فکر میں
زلف شب فراق کے پیچاک ہو گئے
Explanation: جب جدائی کا درد اور جذبات کی گہرائی بیان کرنے کا وقت آتا ہے، تو دنیا کے بڑے بڑے عقلمند اور دانشور لوگ بھی اسے لفظوں میں ڈھالنے میں اسی طرح الجھ کر رہ جاتے ہیں جیسے کوئی رات کے اندھیرے اور زلفوں کے پیچ و خم میں الجھ جائے۔
