عشق اگر انتہا پر آجائے تو
عشق اگر انتہا پر آجائے تو
سر نیزے پر اور قرآن لبوں پہ آجاتا ہے
اور پھر محبت صرف دعویٰ نہیں رہتی،
وہ صبر بن جاتی ہے، وفا بن جاتی ہے،
حق کے لیے ڈٹ جانے کا حوصلہ بن جاتی ہے۔
جہاں دنیا خاموش ہو جائے، وہاں کردار بولتا ہے،
اور قربانی وقت گزرنے کے بعد بھی دلوں میں زندہ رہتی ہے۔
یہی وہ عشق ہے جو انسان کو اپنے رب، اپنے اصول اور سچ سے جوڑے رکھتا ہے۔
