Skip to content

Mirza Ghalib

ہم کو معلوم ہے

ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن

دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے

Explanation: غالب جنت کی حقیقت سے واقف ہیں، مگر طنزیہ کہتے ہیں کہ دنیا کے دکھوں میں دل کو بہلانے اور خوش فہمی میں جینے کے لیے جنت کا تصور بہت اچھا ہے۔

عشق نے غالبؔ نکما

عشق نے غالبؔ نکما کر دیا

ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے

Explanation: شاعر اپنی بربادی کا ذمہ دار عشق کو ٹھہراتا ہے کہ اس محبت نے ہمیں کسی کام کا نہیں چھوڑا، ورنہ ہم بھی بڑی صلاحیتوں والے انسان تھے۔

ان کے دیکھے سے

ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق

وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے

Explanation: محبوب کو دیکھ کر عاشق کے مرجھائے ہوئے چہرے پر خوشی کی چمک آ جاتی ہے، جسے دیکھ کر محبوب غلط فہمی میں سمجھتا ہے کہ بیمار عاشق اب ٹھیک ہو رہا ہے۔

محبت میں نہیں ہے

محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا

اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے

Explanation: عشق میں جینا اور مرنا ایک ہو جاتا ہے، عاشق اسی محبوب کو دیکھ کر جینے کا حوصلہ پاتا ہے جس کے عشق میں اس کی جان نکل رہی ہوتی ہے۔

پوچھتے ہیں وہ کہ

پوچھتے ہیں وہ کہ غالبؔ کون ہے

کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا

Explanation: محبوب کی بے رخی اور لاعلمی پر طنز ہے کہ وہ مجھ سے میرا ہی تعارف پوچھتا ہے، اب میں اس بات پر خود کیا جواب دوں، کوئی اور ہی اسے میری حقیقت بتائے۔

اس سادگی پہ کون

اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا

لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں

Explanation: محبوب کی اداؤں اور غصے کی نزاکت کا بیان ہے کہ وہ ہم سے لڑ تو رہا ہے مگر اس کے پاس کوئی ظاہری ہتھیار نہیں، بس اس کی یہی معصوم ادا ہماری جان لینے کے لیے کافی ہے۔

رگوں میں دوڑتے پھرنے

رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل

جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے

Explanation: عشق میں سچے خون کی پہچان یہ ہے کہ وہ درد کی شدت سے آنسو بن کر آنکھوں سے بہے، جو خون صرف رگوں میں بہتا رہے وہ عشق کے کسی کام کا نہیں۔

کی مرے قتل کے

کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ

ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

Explanation: محبوب نے عاشق کو قتل کرنے کے بعد ظلم سے توبہ کر لی، مگر شاعر کو دکھ ہے کہ یہ پچھتاوا اتنی جلدی آیا کہ اب عاشق کی جان جانے کے بعد اس کا کوئی فائدہ نہیں۔

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

Explanation: انسانی خواہشات کی لا محدودیت کا بیان ہے کہ انسان کے دل میں بے شمار آرزوئیں پیدا ہوتی ہیں، میری بھی بہت سی تمنائیں پوری ہوئیں مگر خواہشات پھر بھی باقی رہ گئیں۔

عشق پر زور نہیں

عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالبؔ

کہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے

Explanation: عشق ایک ایسی بے قابو آگ ہے جو انسان کے اپنے بس میں نہیں، یہ نہ تو زبردستی پیدا کی جا سکتی ہے اور نہ ہی دل میں لگنے کے بعد خود سے بجھائی جا سکتی ہے۔

ہم نے مانا کہ

ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن

خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہوتے تک

Explanation: محبوب کی توجہ پانے کی تاخیر پر شکوہ ہے کہ مجھے یقین ہے تم مجھے نظر انداز نہیں کرو گے، مگر جب تک تمہیں میری محبت کا احساس ہوگا، تب تک میں مر کر خاک ہو چکا ہوں گا۔

رنج سے خوگر ہوا

رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج

مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں

Explanation: مسلسل دکھ سہنے سے انسان مصیبتوں کا عادی ہو جاتا ہے، مجھ پر بھی اتنی مشکلیں آئیں کہ اب مجھے ان کی عادت ہو گئی ہے اور وہ میرے لیے آسان ہو گئی ہیں۔

ہیں اور بھی دنیا

ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے

کہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے انداز بیاں اور

Explanation: یہ غالب کی اپنی شاعری پر فخر اور تعلی ہے کہ دنیا میں بے شک اور بھی بہت سے عظیم شاعر موجود ہیں، مگر غالب کا کلام اور ان کا انداز بیان سب سے جدا اور منفرد ہے۔

جی ڈھونڈتا ہے پھر

جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کہ رات دن

بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے

Explanation: شاعر اپنی مصروف اور کٹھن زندگی سے تنگ آ کر ان پرانے اور پرسکون لمحوں کی آرزو کر رہا ہے جب اسے دن رات صرف محبوب کے خیالوں میں کھوئے رہنے کی فرصت میسر تھی۔

وہ آئے گھر میں

وہ آئے گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے

کبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں

Explanation: محبوب کا غریب خانے پر آنا ایک ناقابلِ یقین معجزے کی طرح ہے، عاشق خوشی اور حیرت سے کبھی محبوب کو اور کبھی اپنے ٹوٹے پھوٹے گھر کو دیکھتا ہے۔

بے خودی بے سبب

بے خودی بے سبب نہیں غالبؔ

کچھ تو ہے، جس کی پردہ داری ہے

Explanation: کائنات کے اسرار کی طرف اشارہ ہے کہ انسان کی اس بے خودی اور مجبوری کے پیچھے ضرور کوئی راز یا غیبی طاقت ہے جو اپنے آپ کو پردے میں چھپائے ہوئے ہے۔

ترے وعدے پر جیے

ترے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا

کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا

Explanation: شاعر کہتا ہے کہ میں نے تیرے وعدہِ وصل پر زندگی تو گزاری مگر مجھے یقین تھا کہ تو نہیں آئے گا، کیونکہ اگر تیرے وعدے پر سچا اعتبار ہوتا تو میں خوشی کے مارے ہی مر جاتا。

ہم کو ان سے

ہم کو ان سے وفا کی ہے امید

جو نہیں جانتے وفا کیا ہے

Explanation: یہ شاعر کی سادگی اور محبوب کی سنگدلی کا بیان ہے کہ میں ایک ایسے شخص سے محبت اور وفا کی توقع کر رہا ہوں جسے سرے سے وفا کے معنی اور حقیقت کا علم ہی نہیں۔

یہ کہاں کی دوستی

یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح

کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غم گسار ہوتا

Explanation: دوستوں کی ہمدردی پر طنز ہے کہ وہ میرے غم میں میرا ساتھ دینے اور دکھ بانٹنے کے بجائے مجھے عقل کی نصیحتیں کر رہے ہیں، ایسی دوستی کا کیا فائدہ۔

ریختے کے تمہیں استاد

ریختے کے تمہیں استاد نہیں ہو غالبؔ

کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا

Explanation: غالب اپنی عظمت کے ساتھ ساتھ میر تقی میر کو بھی شاندار خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ اردو شاعری میں صرف تم ہی استاد نہیں، تم سے پہلے میر نام کا بھی ایک عظیم شاعر گزرا ہے۔