Explanation: شاعر کے اندر غم کا ایک طوفان بھرا ہوا ہے، وہ کہتا ہے کہ مجھے مت چھیڑو ورنہ میرے آنسوؤں کا سیلاب ایسا بے قابو ہوگا کہ سب کچھ بہا لے جائے گا۔
قید حیات و بند
قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں
موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پاے کیوں
Explanation: زندگی اور غم دونوں آپس میں لازم و ملزوم ہیں، جب تک انسان کی سانس چل رہی ہے وہ دکھوں کی قید میں ہے، اس سے حقیقی رہائی صرف موت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
یہ مسائل تصوف یہ
یہ مسائل تصوف یہ ترا بیان غالبؔ
تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا
Explanation: غالب اپنی ذات پر لطیف طنز کرتے ہیں کہ تمہاری باتوں میں تو صوفیانہ اور روحانی گہرائی موجود ہے، اگر تم شراب پینے کے عادی نہ ہوتے تو لوگ تمہیں ضرور کوئی بزرگ (ولی) سمجھتے۔
یہ نہ تھی ہماری
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا
اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا
Explanation: محبوب کے نہ ملنے کا مقدر پر شکوہ ہے کہ ہماری قسمت میں اس کا ملنا لکھا ہی نہیں تھا، اگر میری عمر مزید طویل بھی ہوتی تب بھی مجھے صرف اس کے انتظار میں ہی جینا پڑتا۔
جلا ہے جسم جہاں
جلا ہے جسم جہاں دل بھی جل گیا ہوگا
کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے
Explanation: عشق کی آگ نے عاشق کا سارا وجود جلا دیا ہے، محبوب سے شکوہ ہے کہ جب میرا پورا جسم جل کر راکھ ہو چکا تو یقینا دل بھی نہیں بچا، اب اس راکھ میں تم کیا تلاش کر رہے ہو۔
ہم وہاں ہیں جہاں
ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی
کچھ ہماری خبر نہیں آتی
Explanation: عشق کے سفر میں عاشق اس مقام پر پہنچ گیا ہے جہاں وہ مکمل بے خودی اور خود فراموشی کا شکار ہے، اور اب اسے اپنی ہی ذات اور حالت کا کوئی ہوش باقی نہیں رہا۔
کعبہ کس منہ سے
کعبہ کس منہ سے جاوگے غالبؔ
شرم تم کو مگر نہیں آتی
Explanation: ساری زندگی گناہوں اور دنیاوی خواہشات میں گزارنے کے بعد شاعر اپنے ضمیر سے مخاطب ہے کہ اب کس منہ سے خدا کے گھر (کعبہ) جانے کا سوچ رہے ہو، کیا تمہیں خود پر شرم نہیں آتی۔
یارب وہ نہ سمجھے
یارب وہ نہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے مری بات
دے اور دل ان کو جو نہ دے مجھ کو زباں اور
Explanation: محبوب عاشق کے دلی جذبات کو نہیں سمجھ پا رہا، اس لیے شاعر خدا سے التجا کرتا ہے کہ یا تو محبوب کے دل میں میری بات سمجھنے کا احساس ڈال دے، یا مجھے کوئی ایسی زبان دے دے جو اسے سمجھا سکے۔
بنا کر فقیروں کا
بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالبؔ
تماشائے اہل کرم دیکھتے ہیں
Explanation: شاعر دنیا کے نام نہاد سخیوں اور امیروں کا اصلی چہرہ دیکھنے کے لیے خود کو فقیر کے روپ میں لے آیا ہے تاکہ دیکھ سکے کہ یہ لوگ غریبوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں۔
نہ تھا کچھ تو
نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
Explanation: یہ وحدت الوجود اور انسانی پیدائش کا فلسفہ ہے کہ جب کائنات نہیں تھی تب بھی خدا تھا، میری پیدائش (ہونے) نے مجھے دنیا کے دکھوں میں پھنسا دیا، اگر میں پیدا نہ ہوتا تو خدا کی ذات کا ہی حصہ رہتا۔
ہوا ہے شہ کا
ہوا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا
وگرنہ شہر میں غالبؔ کی آبرو کیا ہے
Explanation: غالب اپنے درباری تعلق پر طنز کرتے ہیں کہ بادشاہ کی قربت ملنے کی وجہ سے آج غالب اتنا مغرور ہو گیا ہے، ورنہ اس کی ذاتی حیثیت اور عزت اس شہر میں کچھ بھی نہیں۔
موت کا ایک دن
موت کا ایک دن معین ہے
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
Explanation: شاعر ایک نفسیاتی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جب موت کا وقت خدا نے پہلے سے طے کر رکھا ہے تو پھر انسان موت کے خوف اور دنیاوی پریشانیوں کی وجہ سے راتوں کی نیند کیوں حرام کرتا ہے۔
کوئی میرے دل سے
کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیر نیم کش کو
یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا
Explanation: محبوب کے ادھورے وار (تیرِ نیم کش) کی تکلیف کا بیان ہے کہ اگر تیر جگر کے پار ہو جاتا تو موت آ جاتی، مگر یہ جو دل میں پھنس کر رہ گیا ہے، اس کا مسلسل درد برداشت سے باہر ہے۔
عشرت قطرہ ہے دریا
عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا
Explanation: جس طرح ایک قطرے کی معراج سمندر میں مل کر اپنی ہستی ختم کرنا ہے، اسی طرح جب انسان کا درد انتہا کو پہنچ جاتا ہے تو وہی درد اسے موت یا بے حسی کے ذریعے سکون عطا کر دیتا ہے۔
عشق سے طبیعت نے
عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا
درد کی دوا پائی درد بے دوا پایا
Explanation: عشق کے تضاد کا ذکر ہے کہ محبت نے ہی زندگی کو جینے کے قابل اور خوبصورت بنایا، لیکن اسی عشق نے زندگی کو ایک ایسا لاعلاج درد بھی دیا جس کا کوئی مداوا نہیں۔
ہوئی مدت کہ غالبؔ
ہوئی مدت کہ غالبؔ مر گیا پر یاد آتا ہے
وہ ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا
Explanation: غالب کی موت کے بعد ان کی انفرادیت اور فلسفیانہ سوچ کی یاد کا بیان ہے کہ وہ کیسا شخص تھا جو ہر سیدھی بات میں سے بھی 'اگر مگر' کر کے کوئی نیا اور گہرا پہلو نکال لیتا تھا۔
نکلنا خلد سے آدم
نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن
بہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے
Explanation: حضرت آدم کے جنت سے نکالے جانے کے واقعے کو اپنی حالت پر منطبق کرتے ہوئے عاشق کہتا ہے کہ جنت سے آدم کا اخراج بھی اتنا رسوا کن نہیں ہوگا جتنی ذلت مجھے تیری گلی سے نکالے جانے پر ملی ہے۔
تم سلامت رہو ہزار
تم سلامت رہو ہزار برس
ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار
Explanation: یہ محبوب (یا کسی سرپرست) کے لیے انتہائی مبالغہ آمیز اور محبت بھری دعا ہے کہ اللہ تمہاری عمر اتنی لمبی کرے کہ تم ہزاروں سال جیو اور تمہارے ہر سال کے دن بھی پچاس ہزار کے برابر ہوں۔
آگے آتی تھی حال
آگے آتی تھی حال دل پہ ہنسی
اب کسی بات پر نہیں آتی
Explanation: جب دکھوں کی ابتدا تھی تو شاعر اپنی خستہ حالی پر خود ہی ہنس پڑتا تھا، لیکن اب غم کی شدت اور مایوسی اس مقام پر پہنچ گئی ہے کہ اس کی ہنسنے کی صلاحیت ہی مکمل طور پر مر چکی ہے۔
آہ کو چاہیئے اک
آہ کو چاہیئے اک عمر اثر ہوتے تک
کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک
Explanation: عاشق کی فریادوں کا محبوب کے دل پر اثر ہونے میں ایک عمر لگ جاتی ہے، شاعر کہتا ہے کہ محبوب کو منانا اتنا طویل اور مشکل کام ہے کہ اس وقت تک عاشق کی جان ہی نہیں بچ پاتی۔