Explanation: غالب خود کو تسلی دیتے ہیں کہ اگر مولوی یا واعظ تمہاری شاعری اور طرزِ زندگی پر تنقید کرتا ہے تو برا مت مانو، کیونکہ اس دنیا میں کوئی بھی ایسا کامل انسان نہیں جسے ہر شخص اچھا کہے۔
بک رہا ہوں جنوں
بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
Explanation: عاشق اپنے پاگل پن اور جذبات کی شدت میں دیوانگی کی باتیں کر رہا ہے اور ڈرتا ہے کہ کہیں اس کی باتوں سے اس کے محبوب کا راز نہ کھل جائے، اس لیے وہ دعا کرتا ہے کہ کوئی اس کی بات نہ سمجھے۔
آتے ہیں غیب سے
آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں
غالبؔ صریر خامہ نوائے سروش ہے
Explanation: غالب اپنی شاعری کو الہامی قرار دیتے ہیں کہ ان کے ذہن میں یہ عظیم خیالات خود بخود خدا کی طرف سے آتے ہیں، اور ان کے قلم کے چلنے کی آواز دراصل فرشتوں کی آواز کے مترادف ہے۔
کتنے شیریں ہیں تیرے
کتنے شیریں ہیں تیرے لب کہ رقیب
گالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا
Explanation: محبوب کے ہونٹوں کی مٹھاس کا ذکر ہے کہ اس کے ہونٹ اس قدر میٹھے ہیں کہ جب وہ میرے دشمن (رقیب) کو گالیاں بھی دیتا ہے تو رقیب برا منانے کے بجائے اس کی گالیوں سے بھی لطف اندوز ہوتا ہے۔
کرنے گئے تھے اس
کرنے گئے تھے اس سے تغافل کا ہم گلہ
کی ایک ہی نگاہ کہ بس خاک ہو گئے
Explanation: عاشق بڑے ارادے سے محبوب کے پاس اس کی بے رخی کی شکایت کرنے گیا تھا، مگر محبوب نے ایک ایسی جلال یا پیار بھری نگاہ ڈالی کہ عاشق کے سارے شکوے ختم ہو گئے اور وہ اس کے حسن کے سامنے مٹ گیا۔
جان تم پر نثار
جان تم پر نثار کرتا ہوں
میں نہیں جانتا دعا کیا ہے
Explanation: محبت کی انتہا یہ ہے کہ عاشق اپنے محبوب کے لیے روایتی دعائیں مانگنے کے بجائے اپنی سب سے قیمتی چیز، یعنی اپنی جان ہی اس پر قربان کرنے کو اپنی سچی محبت کی دلیل سمجھتا ہے۔
ہوگا کوئی ایسا بھی
ہوگا کوئی ایسا بھی کہ غالبؔ کو نہ جانے
شاعر تو وہ اچھا ہے پہ بدنام بہت ہے
Explanation: غالب اپنی شہرت کا اعتراف ایک دلچسپ انداز میں کرتے ہیں کہ بھلا کوئی ایسا ہو سکتا ہے جو غالب کو نہ جانتا ہو؟ وہ شاعر تو کمال کا ہے، لیکن اپنے باغیانہ خیالات اور عشق کی وجہ سے بہت بدنام بھی ہے۔
جب توقع ہی اٹھ
جب توقع ہی اٹھ گئی غالبؔ
کیوں کسی کا گلہ کرے کوئی
Explanation: جب کسی رشتے سے امید ہی ختم ہو جائے تو پھر گلے شکوے بھی بے معنی ہو جاتے ہیں، شکوہ تو اس سے کیا جاتا ہے جس سے کوئی توقع وابستہ ہو، مایوسی کے بعد انسان خاموش ہو جاتا ہے۔
کوئی ویرانی سی ویرانی
کوئی ویرانی سی ویرانی ہے
دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا
Explanation: شاعر کے گھر کی اداسی اور ویرانی اس قدر شدید ہو چکی ہے کہ جب وہ ایک سنسان اور خوفناک ریگستان (دشت) کو دیکھتا ہے، تو اسے اپنا ہی ویران اور تنہا گھر یاد آ جاتا ہے۔
نیند اس کی ہے
نیند اس کی ہے دماغ اس کا ہے راتیں اس کی ہیں
تیری زلفیں جس کے بازو پر پریشاں ہو گئیں
Explanation: محبوب کی قربت پانے والے شخص کی خوش نصیبی کا ذکر ہے کہ اس دنیا میں حقیقی سکون، عقل اور راتوں کی خوبصورتی صرف اس کی ہے جس کے بازوؤں پر محبوب کی زلفیں بکھری ہوئی ہوں۔
کلکتے کا جو ذکر
کلکتے کا جو ذکر کیا تو نے ہم نشیں
اک تیر میرے سینے میں مارا کہ ہائے ہائے
Explanation: غالب نے کلکتہ میں ایک یادگار اور حسین وقت گزارا تھا، جب ان کے کسی دوست نے ان کے سامنے کلکتہ کا تذکرہ چھیڑا تو ماضی کی وہ دلکش یادیں ایک تیر کی طرح ان کے دل میں چبھ گئیں۔
ہر ایک بات پہ
ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
تمہیں کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے
Explanation: محبوب کے متکبرانہ اور تضحیک آمیز رویے پر عاشق کا جواب ہے کہ تم میری ہر بات پر میرا مذاق اڑاتے ہو اور میری اوقات پوچھتے ہو، تم ہی بتاؤ کیا یہ بات کرنے کا کوئی شائستہ طریقہ ہے؟
ہے کچھ ایسی ہی
ہے کچھ ایسی ہی بات جو چپ ہوں
ورنہ کیا بات کر نہیں آتی
Explanation: عاشق کہتا ہے کہ میں جان بوجھ کر خاموش ہوں کیونکہ اگر میں بولا تو کئی راز کھل جائیں گے یا محبوب کی بدنامی ہوگی، ورنہ ایسا نہیں کہ مجھے جواب دینا یا بات کرنا نہیں آتا۔
کب وہ سنتا ہے
کب وہ سنتا ہے کہانی میری
اور پھر وہ بھی زبانی میری
Explanation: محبوب کی بے نیازی کا عالم ہے کہ وہ کبھی میرے دکھوں کی داستان سننے پر توجہ نہیں دیتا، اور خاص طور پر اگر وہ داستان میں خود اپنی زبان سے سناؤں تو وہ بالکل ہی نظر انداز کر دیتا ہے۔
پھر اسی بے وفا
پھر اسی بے وفا پہ مرتے ہیں
پھر وہی زندگی ہماری ہے
Explanation: محبت میں ناکامی اور توبہ کے باوجود دل کی بے بسی ہے کہ ہم بار بار اسی بے وفا محبوب کی طرف لوٹ جاتے ہیں اور خود کو اسی پرانی ذلت اور تباہی کے حوالے کر دیتے ہیں۔
تیشے بغیر مر نہ
تیشے بغیر مر نہ سکا کوہ کن اسدؔ
سرگشتۂ خمار رسوم و قیود تھا
Explanation: فرہاد کی محبت کو غالب نامکمل قرار دیتے ہیں کہ اسے جان دینے کے لیے بھی کلہاڑے (تیشے) کی ضرورت پڑی، جو ثابت کرتا ہے کہ وہ سچا عاشق نہیں بلکہ دنیاوی رسومات اور اسباب کا محتاج تھا۔
جب کہ تجھ بن
جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود
پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے
Explanation: یہ وحدت الوجود کا فلسفہ ہے کہ اے اللہ، اگر اس پوری کائنات میں تیرے سوا کسی کا کوئی وجود نہیں، تو پھر دنیا میں موجود یہ خیر و شر اور مختلف قسم کے ہنگامے کس چیز کا نام ہیں۔
کھلتا کسی پہ کیوں
کھلتا کسی پہ کیوں مرے دل کا معاملہ
شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے
Explanation: عاشق نے اپنی محبت کو دل میں بہت راز بنا کر رکھا ہوا تھا، لیکن اس کی شاعری اور اشعار میں چھپے ہوئے گہرے درد نے اس کے جذبات دنیا کے سامنے بے نقاب کر کے اسے رسوا کر دیا۔
کہتے ہیں جیتے ہیں
کہتے ہیں جیتے ہیں امید پہ لوگ
ہم کو جینے کی بھی امید نہیں
Explanation: عام انسانوں کی زندگی کسی نہ کسی امید کے سہارے کٹتی ہے، لیکن شاعر کی مایوسی اس مقام پر ہے کہ اس کا مستقبل سے تو کیا، خود اپنی زندگی کے باقی رہنے سے بھی اعتبار اٹھ گیا ہے۔
نہ ستایش کی تمنا
نہ ستایش کی تمنا نہ صلے کی پروا
گر نہیں ہیں مرے اشعار میں معنی نہ سہی
Explanation: غالب اپنی شاعری پر کسی انعام یا دنیا والوں کی تعریف کے محتاج نہیں، وہ کہتے ہیں کہ اگر دنیا کو میرے اشعار سمجھ نہیں آتے اور وہ مجھے برا کہتے ہیں تو مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں۔