Explanation: عاشق کے نزدیک یہ ایک فخر کی بات ہے کہ اس کے عشق کا درد کسی دوا اور علاج کا محتاج نہیں بنا، اگر میں اس بیماری سے ٹھیک نہیں ہوا تو کوئی بات نہیں، کم از کم میں نے کسی طبیب کا احسان تو نہیں لیا。
دکھا کے جنبش لب
دکھا کے جنبش لب ہی تمام کر ہم کو
نہ دے جو بوسہ تو منہ سے کہیں جواب تو دے
Explanation: عاشق محبوب کی خاموشی سے بیزار ہو کر کہتا ہے کہ اگر تجھے قربت (بوسہ) دینا منظور نہیں تو نہ دے، مگر کم از کم اپنے ہونٹوں کو ہلا کر کوئی کڑوا جواب ہی دے دے تاکہ میرا انتظار تو ختم ہو۔
میں نے مانا کہ
میں نے مانا کہ کچھ نہیں غالبؔ
مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے
Explanation: غالب مزاحیہ اور عاجزانہ انداز میں محبوب سے مخاطب ہیں کہ مان لیا کہ میری کوئی قدر و قیمت نہیں، لیکن میں تمہیں بغیر کسی قیمت کے مفت میں مل رہا ہوں، تو مفت کے غلام میں آخر برائی ہی کیا ہے۔
آئے ہے بیکسی عشق
آئے ہے بیکسی عشق پہ رونا غالبؔ
کس کے گھر جائے گا سیلاب بلا میرے بعد
Explanation: غالب کو اپنے مرنے سے زیادہ عشق کی لاوارثی کا دکھ ہے کہ میرے بعد اس بے پناہ درد، مصیبتوں کے طوفان اور عشق کی شدت کو کون سا عاشق برداشت کرے گا۔
دل ناداں تجھے ہوا
دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس درد کی دوا کیا ہے
Explanation: شاعر اپنے ہی دل سے مکالمہ کر رہا ہے کہ اے میرے نادان دل تجھے آخر ہو کیا گیا ہے کہ تو اتنی بے چینی کا شکار ہے، اور اس عجیب سی کیفیت اور درد کا آخر علاج کیا ہو سکتا ہے۔
آئینہ دیکھ اپنا سا
آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئے
صاحب کو دل نہ دینے پہ کتنا غرور تھا
Explanation: محبوب کو اپنی خوبصورتی پر بہت غرور تھا کہ وہ کسی کو اپنا دل نہیں دے گا، مگر جب اس نے خود کو آئینے میں دیکھا تو وہ خود ہی اپنے حسن کا عاشق ہو گیا اور اس کا سارا تکبر ٹوٹ گیا۔
صادق ہوں اپنے قول
صادق ہوں اپنے قول کا غالبؔ خدا گواہ
کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے
Explanation: غالب اپنی سچائی اور راست گوئی کا دعویٰ کرتے ہوئے خدا کو گواہ بناتے ہیں کہ میں کبھی مصلحت پسندی کے تحت جھوٹ نہیں بولتا، کیونکہ جھوٹ بولنا میری فطرت میں شامل نہیں۔
تھی خبر گرم کہ
تھی خبر گرم کہ غالبؔ کے اڑیں گے پرزے
دیکھنے ہم بھی گئے تھے پہ تماشا نہ ہوا
Explanation: یہ افواہوں اور دشمنوں کی سازشوں پر ایک زبردست طنز ہے کہ شہر میں مشہور تھا کہ آج غالب ذلیل و خوار ہوگا، ہم خود بھی وہ تماشا دیکھنے گئے مگر دشمنوں میں اتنی ہمت نہ تھی کہ کچھ کر پاتے۔
وفا داری بشرط استواری
وفا داری بشرط استواری اصل ایماں ہے
مرے بت خانے میں تو کعبہ میں گاڑو برہمن کو
Explanation: سچے ایمان کی پہچان مستقل مزاجی ہے، شاعر کہتا ہے کہ اگر ایک برہمن بت خانے میں پوری وفاداری اور استقامت سے موجود ہے، تو اس کے مرنے پر اسے بت خانے کے بجائے کعبے میں دفنانا چاہیے۔
بلبل کے کاروبار پہ
بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گل
کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا
Explanation: پھولوں کا کھلنا (مسکرانا) دراصل بلبل (عاشق) کے دکھ پر طنز ہے، جس کا مطلب ہے کہ عشق کوئی مقدس جذبہ نہیں بلکہ محض انسان کے دماغ کا ایک فتور اور پاگل پن ہے۔
آتا ہے داغ حسرت
آتا ہے داغ حسرت دل کا شمار یاد
مجھ سے مرے گنہ کا حساب اے خدا نہ مانگ
Explanation: شاعر خدا سے التجا کرتا ہے کہ قیامت کے دن مجھ سے میرے گناہوں کا حساب نہ مانگ، کیونکہ اگر تو نے سوال کیا تو مجھے ان ان گنت حسرتوں اور محرومیوں کا خیال آ جائے گا جو پوری نہ ہو سکیں۔
یہ فتنہ آدمی کی
یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے
ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو
Explanation: محبوب کی بے وفائی اور تباہ کن دوستی کا ذکر ہے کہ جس شخص کو تم جیسا ظالم دوست مل جائے، اسے تباہ کرنے کے لیے آسمان کی گردشوں یا دشمنوں کی کیا ضرورت، تم اکیلے ہی اس کی بربادی کے لیے کافی ہو۔
ہو چکیں غالبؔ بلائیں
ہو چکیں غالبؔ بلائیں سب تمام
ایک مرگ ناگہانی اور ہے
Explanation: غالب اپنی مصیبتوں سے تنگ آ کر کہتے ہیں کہ میں زندگی کی تمام اذیتیں اور بلائیں برداشت کر چکا ہوں، اب میری قسمت میں صرف ایک اچانک آنے والی موت باقی رہ گئی ہے۔
رو میں ہے رخش
رو میں ہے رخش عمر کہاں دیکھیے تھمے
نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں
Explanation: زندگی کی تیز رفتاری اور بے بسی کا بیان ہے کہ عمر کا گھوڑا اتنی تیزی سے دوڑ رہا ہے کہ انسان کے کنٹرول میں کچھ نہیں، نہ تو ہمارے ہاتھ میں اس گھوڑے کی لگام ہے اور نہ ہی پاؤں رکاب میں ہیں۔
غالبؔ خستہ کے بغیر
غالبؔ خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں
روئیے زار زار کیا کیجیے ہاے ہاے کیوں
Explanation: شاعر اپنی اہمیت کو گھٹاتے ہوئے کہتا ہے کہ اگر میں اس دنیا سے چلا بھی گیا تو دنیا کا کون سا نظام رک جائے گا، اس لیے میری موت پر رونا دھونا یا ماتم کرنا بالکل بے معنی ہے۔
اور بازار سے لے
اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا
ساغر جم سے مرا جام سفال اچھا ہے
Explanation: مادی اشیاء پر سادگی کو ترجیح دی گئی ہے، شاعر کہتا ہے کہ بادشاہ جمشید کا پیالہ ٹوٹ جائے تو دوبارہ نہیں مل سکتا، اس سے بہتر میرا مٹی کا پیالہ ہے جو ٹوٹ بھی جائے تو بازار سے نیا مل جاتا ہے۔
ہم کہاں کے دانا
ہم کہاں کے دانا تھے کس ہنر میں یکتا تھے
بے سبب ہوا غالبؔ دشمن آسماں اپنا
Explanation: غالب حیران ہیں کہ آسمان (قسمت) عموماً قابل اور عقلمند لوگوں کا دشمن ہوتا ہے، مگر مجھ میں تو ایسی کوئی خوبی یا کمال بھی نہیں تھا، پھر قسمت مجھ سے اتنی دشمنی کیوں نبھا رہی ہے۔
غم ہستی کا اسدؔ
غم ہستی کا اسدؔ کس سے ہو جز مرگ علاج
شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہوتے تک
Explanation: زندگی کے غموں سے چھٹکارا سوائے موت کے ناممکن ہے، جس طرح ایک شمع کو رات بھر ہر حال میں صبح تک جلنا ہی پڑتا ہے، اسی طرح انسان کو بھی زندگی کے دکھ موت آنے تک سہنے پڑتے ہیں۔
عشق مجھ کو نہیں
عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی
میری وحشت تری شہرت ہی سہی
Explanation: عاشق محبوب کی بدگمانی کو دور کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اگر تم میرے عشق کو محض پاگل پن (وحشت) سمجھتے ہو تو کوئی بات نہیں، کم از کم میرے اسی پاگل پن کی وجہ سے دنیا میں تمہاری شہرت تو ہو رہی ہے۔
عاشق ہوں پہ معشوق
عاشق ہوں پہ معشوق فریبی ہے مرا کام
مجنوں کو برا کہتی ہے لیلیٰ مرے آگے
Explanation: شاعر اپنی عاشقی میں ایک الگ قسم کے غرور کا اظہار کرتا ہے کہ میں روایتی عاشق نہیں، میری باتوں میں ایسا سحر ہے کہ مجھ سے متاثر ہو کر خود لیلیٰ بھی اپنے سچے عاشق (مجنوں) کو برا کہنے لگی ہے۔