Explanation: انسانی خواہشات اور ارادوں کی وسعت کا بیان ہے کہ دنیا کی تمام تر منزلیں (دشتِ امکاں) میرے پہلے قدم کے برابر ثابت ہوئیں، اے خدا اب میری تمناؤں کی تسکین کے لیے اگلی منزل کہاں ہے۔
رونے سے اور عشق
رونے سے اور عشق میں بے باک ہو گئے
دھوئے گئے ہم اتنے کہ بس پاک ہو گئے
Explanation: آنسوؤں نے عاشق کے اندر کا تمام خوف اور جھجک دھو ڈالی ہے، اب وہ اتنا رو چکا ہے کہ اسے بدنامی کی کوئی پرواہ نہیں رہی اور اس کا عشق ہر قسم کی سماجی پابندیوں سے پاک ہو گیا ہے۔
ہم ہیں مشتاق اور
ہم ہیں مشتاق اور وہ بے زار
یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے
Explanation: محبت کے یک طرفہ رویے پر حیرت کا اظہار ہے کہ میں اس سے ملنے کے لیے اس قدر بے تاب اور پرشوق ہوں، جبکہ محبوب مجھ سے مل کر اتنا ہی بیزار اور لاتعلق ہے، یہ کیسی عجیب صورتحال ہے۔
رات دن گردش میں
رات دن گردش میں ہیں سات آسماں
ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا
Explanation: یہ توکل اور قسمت پر اعتماد کا شعر ہے کہ جب کائنات کا پورا نظام (سات آسمان) رات دن مسلسل حرکت میں ہے، تو حالات بھی مستقل نہیں رہیں گے اور کوئی نہ کوئی صورت نکل آئے گی، اس لیے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
مہرباں ہو کے بلا
مہرباں ہو کے بلا لو مجھے چاہو جس وقت
میں گیا وقت نہیں ہوں کہ پھر آ بھی نہ سکوں
Explanation: عاشق محبوب کو منانے کی کوشش کرتا ہے کہ میری محبت گزرے ہوئے وقت کی طرح نہیں جو لوٹ کر نہ آ سکے، تم جب بھی پیار سے پکارو گے، میں اسی وقت لوٹ آؤں گا۔
دیکھنا تقریر کی لذت
دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا
میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
Explanation: محبوب کے اندازِ گفتگو میں اتنا سحر اور اپنائیت ہے کہ وہ جب کوئی بات کہتا ہے، تو عاشق کو محسوس ہوتا ہے کہ جیسے محبوب نے بالکل وہی بات کہی ہے جو عاشق کے اپنے دل میں تھی۔
پرتو خور سے ہے
پرتو خور سے ہے شبنم کو فنا کی تعلیم
میں بھی ہوں ایک عنایت کی نظر ہوتے تک
Explanation: جس طرح سورج کی کرن پڑتے ہی شبنم فنا ہو جاتی ہے، اسی طرح عاشق بھی اپنے وجود کو عارضی سمجھتا ہے اور کہتا ہے کہ محبوب کی محض ایک خاص نظر پڑنے کی دیر ہے اور میں مٹ جاؤں گا۔
کوئی امید بر نہیں
کوئی امید بر نہیں آتی
کوئی صورت نظر نہیں آتی
Explanation: یہ مکمل مایوسی اور دل گرفتگی کا اظہار ہے جہاں شاعر محسوس کرتا ہے کہ اس کی زندگی میں تمام راستے اور امکانات بند ہو چکے ہیں اور بہتری کی کوئی امید باقی نہیں بچی۔
ہاں وہ نہیں خدا
ہاں وہ نہیں خدا پرست جاؤ وہ بے وفا سہی
جس کو ہو دین و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں
Explanation: شاعر محبوب کی بے وفائی کا دفاع کرتے ہوئے کہتا ہے کہ مان لیا وہ ظالم اور بے وفا ہے، لیکن جو لوگ اپنے ایمان اور جان کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں انہیں اس کی گلی میں جانے کی ضرورت ہی کیا ہے۔
گو میں رہا رہین
گو میں رہا رہین ستم ہائے روزگار
لیکن ترے خیال سے غافل نہیں رہا
Explanation: زندگی اور عشق کا توازن ہے، شاعر کہتا ہے کہ بے شک میری پوری زندگی دنیا کے مسائل اور حالات کے دکھ سہنے میں گزری، مگر ان تمام مجبوریوں کے باوجود میرے دل سے کبھی تمہاری یاد نہیں نکلی۔
وفا کیسی کہاں کا
وفا کیسی کہاں کا عشق جب سر پھوڑنا ٹھہرا
تو پھر اے سنگ دل تیرا ہی سنگ آستاں کیوں ہو
Explanation: عشق میں ذلت پر طنز ہے کہ جب محبت میں سر پھوڑنا اور رسوا ہونا ہی شرط ہے، تو پھر ضروری تو نہیں کہ میں تیرے ہی دروازے کی ٹھوکریں کھاؤں، میں کسی اور پتھر پر بھی سر مار سکتا ہوں۔
کاو کاو سخت جانی
کاو کاو سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ
صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا
Explanation: ہجر کی رات گزارنا ایک انتہائی مشکل کام ہے، شاعر اسے فرہاد کے پہاڑ کاٹ کر دودھ کی نہر لانے جیسے ناممکن اور محنت طلب کام کے برابر قرار دیتا ہے۔
رہی نہ طاقت گفتار
رہی نہ طاقت گفتار اور اگر ہو بھی
تو کس امید پہ کہیے کہ آرزو کیا ہے
Explanation: مایوسی کی وہ حالت ہے جہاں انسان شکوہ کرنا چھوڑ دیتا ہے، شاعر کہتا ہے کہ اب مجھ میں بولنے کی ہمت نہیں، اور اگر بول بھی لوں تو کس امید پر کہوں کیونکہ میری بات سن کر بھی کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
رہیے اب ایسی جگہ
رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو
ہم سخن کوئی نہ ہو اور ہمزباں کوئی نہ ہو
Explanation: انسانوں کے رویوں سے تنگ آ کر شاعر ایک ایسی ویران اور الگ تھلگ جگہ پر جانے کی خواہش کرتا ہے جہاں تنہائی ہو اور کوئی بھی ایسا شخص نہ ہو جس سے اسے بات کرنی پڑے۔
دام ہر موج میں
دام ہر موج میں ہے حلقۂ صد کام نہنگ
دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہوتے تک
Explanation: کمال حاصل کرنے کا سفر خطرات سے بھرا ہے، جس طرح ایک عام قطرے کو موتی بننے کے لیے سمندر کے خونخوار مگرمچھوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ویسے ہی انسان کو عظمت پانے کے لیے مصائب سے گزرنا پڑتا ہے۔
بوسہ دیتے نہیں اور
بوسہ دیتے نہیں اور دل پہ ہے ہر لحظہ نگاہ
جی میں کہتے ہیں کہ مفت آئے تو مال اچھا ہے
Explanation: محبوب کی کنجوسی پر ایک خوبصورت طنز ہے کہ وہ بدلے میں کوئی قربت (بوسہ) نہیں دینا چاہتا، مگر عاشق کے دل کو بھی قبضے میں رکھنا چاہتا ہے، گویا مفت کی چیز اسے بہت پسند ہے۔
مجھ تک کب ان
مجھ تک کب ان کی بزم میں آتا تھا دور جام
ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں
Explanation: عاشق کو محبوب (ساقی) کی اچانک مہربانی پر شک ہو رہا ہے، وہ کہتا ہے کہ مجھے تو محفل میں کبھی شراب نہیں ملتی تھی، آج جو ساقی نے مجھے جام دیا ہے تو ضرور اس میں زہر ملا ہوگا۔
آ ہی جاتا وہ
آ ہی جاتا وہ راہ پر غالبؔ
کوئی دن اور بھی جیے ہوتے
Explanation: شاعر موت کے بعد ایک حسرت ظاہر کرتا ہے کہ محبوب نرم ہونے ہی والا تھا، اگر میں مایوس ہو کر جان نہ دیتا اور کچھ دن مزید انتظار کر لیتا تو وہ ضرور میری محبت کا جواب دے دیتا۔
غم اگرچہ جاں گسل
غم اگرچہ جاں گسل ہے پہ کہاں بچیں کہ دل ہے
غم عشق گر نہ ہوتا غم روزگار ہوتا
Explanation: انسان غموں سے بچ نہیں سکتا، شاعر تسلیم کرتا ہے کہ محبت کا درد جان لیوا ہے، مگر دل کے ہونے کی وجہ سے اگر عشق کا درد نہ ہوتا تو ہمیں روزی روٹی اور دنیا کے دیگر غم مار دیتے۔
تھا زندگی میں مرگ
تھا زندگی میں مرگ کا کھٹکا لگا ہوا
اڑنے سے پیشتر بھی مرا رنگ زرد تھا
Explanation: انسان زندگی بھر موت کے خوف سے آزاد نہیں ہو پاتا، شاعر کہتا ہے کہ مرنے سے پہلے ہی موت کے ڈر نے میرے چہرے کا رنگ پیلا کر رکھا تھا، گویا موت کا خوف زندگی سے زیادہ بھیانک تھا۔