Skip to content

Mirza Ghalib

بوئے گل نالۂ دل

بوئے گل نالۂ دل دود چراغ محفل

جو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا

Explanation: محبوب کی محفل کی پراسراریت ہے کہ جو چیز بھی وہاں سے نکلی وہ بکھری ہوئی اور بے سکون تھی، جیسے پھول کی بکھرتی خوشبو، عاشق کے دل کی آہ، یا بجھے ہوئے چراغ کا بکھرتا ہوا دھواں۔

بے نیازی حد سے

بے نیازی حد سے گزری بندہ پرور کب تلک

ہم کہیں گے حال دل اور آپ فرماویں گے کیا

Explanation: محبوب کی لاتعلقی کا شکوہ ہے کہ آخر کب تک میں اپنے دل کے دکھڑے روتا رہوں گا اور تم آگے سے انجان بن کر پوچھتے رہو گے کہ 'کیا کہا؟'، اب تو اس بے رخی کی بھی کوئی حد ہونی چاہیے۔

کیا فرض ہے کہ

کیا فرض ہے کہ سب کو ملے ایک سا جواب

آؤ نہ ہم بھی سیر کریں کوہ طور کی

Explanation: شاعر حضرت موسیٰؑ کے طور پر خدا کو دیکھنے کے واقعے کا حوالہ دے کر کہتا ہے کہ اگر موسیٰؑ کو دیدار نہیں ہوا تو ضروری نہیں کہ مجھے بھی انکار ہو، ہو سکتا ہے خدا مجھے جلوہ دکھا دے۔

اپنی ہستی ہی سے

اپنی ہستی ہی سے ہو جو کچھ ہو

آگہی گر نہیں غفلت ہی سہی

Explanation: انسان کو اپنی ذات اور وجود کو اہمیت دینی چاہیے، اگر انسان کو زندگی کے شعور اور حقائق کا ادراک (آگہی) نہیں، تو وہ اپنی بے خبری اور مستی (غفلت) میں ہی جینے کا لطف لے۔

ان آبلوں سے پانو

ان آبلوں سے پانو کے گھبرا گیا تھا میں

جی خوش ہوا ہے راہ کو پرخار دیکھ کر

Explanation: عاشق عشق کے سفر میں پاؤں کے چھالوں سے گھبرا گیا تھا، مگر جب اس نے راستے میں کانٹے دیکھے تو خوش ہوا کیونکہ کانٹے ان چھالوں کو پھاڑ کر درد سے سکون دلا دیں گے۔

ہے آدمی بجائے خود

ہے آدمی بجائے خود اک محشر خیال

ہم انجمن سمجھتے ہیں خلوت ہی کیوں نہ ہو

Explanation: انسان کے دماغ میں خیالات کا ایسا ہجوم ہوتا ہے کہ وہ کبھی تنہا نہیں ہوتا، شاعر کہتا ہے کہ چاہے میں بالکل اکیلا (خلوت) میں ہوں، میرے خیالات اسے ایک محفل میں تبدیل کر دیتے ہیں۔

کیوں گردش مدام سے

کیوں گردش مدام سے گھبرا نہ جائے دل

انسان ہوں پیالہ و ساغر نہیں ہوں میں

Explanation: گردشِ دوراں (زمانے کی مشکلات) کی مسلسل یلغار پر شکوہ ہے کہ جس طرح شراب کا پیالہ محفل میں مسلسل گھومتا ہے میرا دل ایسا نہیں، میں گوشت پوست کا انسان ہوں اور میں تھک سکتا ہوں۔

قطع کیجے نہ تعلق

قطع کیجے نہ تعلق ہم سے

کچھ نہیں ہے تو عداوت ہی سہی

Explanation: یہ توجہ حاصل کرنے کی انتہا ہے، شاعر محبوب سے التجا کرتا ہے کہ مجھ سے رشتہ بالکل ختم نہ کرو، اگر مجھ سے محبت نہیں کر سکتے تو دشمنی ہی رکھ لو تاکہ کم از کم رابطہ تو قائم رہے۔

تا پھر نہ انتظار

تا پھر نہ انتظار میں نیند آئے عمر بھر

آنے کا عہد کر گئے آئے جو خواب میں

Explanation: محبوب خواب میں آ کر ملنے کا ایسا جھوٹا وعدہ کر گیا ہے کہ شاعر اب اس انتظار میں ہے کہ وہ سچ مچ میں ملنے آئے گا، اور اسی انتظار نے اس کی نیندیں ہمیشہ کے لیے اڑا دی ہیں۔

جانتا ہوں ثواب طاعت

جانتا ہوں ثواب طاعت و زہد

پر طبیعت ادھر نہیں آتی

Explanation: انسان کی روحانی اور نفسیاتی کشمکش کا بیان ہے کہ میں نماز روزے اور نیکیوں کے ثواب اور فائدے کو بہت اچھی طرح جانتا ہوں، لیکن بدقسمتی سے میرا دل ان نیکیوں کی طرف مائل ہی نہیں ہوتا۔

اپنی گلی میں مجھ

اپنی گلی میں مجھ کو نہ کر دفن بعد قتل

میرے پتے سے خلق کو کیوں تیرا گھر ملے

Explanation: عاشق کی غیرت کی انتہا دیکھو کہ وہ مرنے کے بعد بھی نہیں چاہتا کہ اس کی قبر کی وجہ سے دنیا والوں کو اس کے محبوب کے گھر کا پتہ چلے اور وہاں لوگوں کی بھیڑ لگ جائے۔

مے سے غرض نشاط

مے سے غرض نشاط ہے کس رو سیاہ کو

اک گونہ بے خودی مجھے دن رات چاہیئے

Explanation: غالب کہتے ہیں کہ میں شراب کسی خوشی یا دنیاوی عیاشی کے لیے نہیں پیتا، بلکہ مجھے دنیا کے غموں سے بچنے کے لیے ہر وقت ایک مستی اور بے ہوشی کی کیفیت درکار ہوتی ہے۔

ہستی کے مت فریب

ہستی کے مت فریب میں آ جائیو اسدؔ

عالم تمام حلقۂ دام خیال ہے

Explanation: اس مادی دنیا کی حقیقت ایک دھوکے اور سراب سے زیادہ کچھ نہیں، یہ پوری کائنات محض ایک واہمہ اور خیالات کا بُنا ہوا ایک جال ہے، اس لیے اسے سچ سمجھنے کی غلطی نہ کرو۔

تجھ سے قسمت میں

تجھ سے قسمت میں مری صورت قفل ابجد

تھا لکھا بات کے بنتے ہی جدا ہو جانا

Explanation: جیسے حروف والے تالے (قفلِ ابجد) میں صحیح لفظ بنتے ہی تالا کھل (الگ ہو) جاتا ہے، میری قسمت میں بھی محبوب کے ساتھ بات بنتے ہی جدائی اور علیحدگی لکھی ہوئی تھی۔

ادائے خاص سے غالبؔ

ادائے خاص سے غالبؔ ہوا ہے نکتہ سرا

صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لیے

Explanation: غالب اپنی شاعری کی گہرائی کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ میں نے یہ بات ایک بہت خاص انداز میں کہی ہے، اور یہ تمام عقل و فہم رکھنے والوں کے لیے ایک کھلی دعوت ہے کہ وہ اس کے معنی تلاش کریں۔

دیر نہیں حرم نہیں

دیر نہیں حرم نہیں در نہیں آستاں نہیں

بیٹھے ہیں رہ گزر پہ ہم غیر ہمیں اٹھائے کیوں

Explanation: شاعر کہتا ہے کہ میں کسی مسجد یا مندر پر نہیں بلکہ عام راستے پر بیٹھا ہوں، جس پر سب کا حق ہے، تو پھر کسی تیسرے شخص (غیر) کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ مجھے وہاں سے اٹھنے کا کہے۔

سب کہاں کچھ لالہ

سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں

خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں

Explanation: زمین سے نکلنے والے خوبصورت پھول دراصل ان حسین انسانوں کا عکس ہیں جو مٹی میں دفن ہو چکے ہیں، ذرا سوچو کہ مٹی کے نیچے کتنے خوبصورت لوگ چھپے ہوں گے جن میں سے چند ایک ہی پھولوں کی شکل میں ظاہر ہوئے ہیں۔

پکڑے جاتے ہیں فرشتوں

پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر نا حق

آدمی کوئی ہمارا دم تحریر بھی تھا

Explanation: قیامت کے دن نامہ اعمال پر طنز ہے کہ صرف فرشتوں (کراماً کاتبین) کی لکھی ہوئی باتوں کی بنیاد پر ہمیں سزا مل رہی ہے، جبکہ ان فرشتوں کے لکھتے وقت ہمارا کوئی گواہ وہاں موجود ہی نہیں تھا۔

یارب زمانہ مجھ کو

یارب زمانہ مجھ کو مٹاتا ہے کس لیے

لوح جہاں پہ حرف مکرر نہیں ہوں میں

Explanation: غالب اپنی انفرادیت اور اہمیت کا بیان کرتے ہیں کہ میں کوئی فالتو لفظ یا بار بار لکھی ہوئی تحریر نہیں ہوں جسے مٹا دیا جائے، میں اس دنیا کا ایک انوکھا اور عظیم شخص ہوں پھر بھی زمانہ میرے پیچھے پڑا ہے۔

نہ سنو گر برا

نہ سنو گر برا کہے کوئی

نہ کہو گر برا کرے کوئی

Explanation: یہ برداشت اور درگزر کی بہترین اخلاقی تعلیم ہے کہ اگر کوئی تمہیں برا بھلا کہے تو اس پر دھیان نہ دو، اور اگر کوئی تمہارے ساتھ برائی کرے تو اسے معاف کر دو اور اس کا ذکر نہ کرو。