Explanation: اللہ کی سزا پر ایک عاجزانہ شکوہ ہے کہ بے شک میں نے گناہ کیے ہیں مگر میں کافر (خدا کا منکر) تو نہیں، اس لیے مجھے سزا دینے میں بھی رحم کی کوئی حد ہونی چاہیے۔
عمر بھر کا تو
عمر بھر کا تو نے پیمان وفا باندھا تو کیا
عمر کو بھی تو نہیں ہے پائیداری ہاے ہاے
Explanation: محبوب کے عمر بھر ساتھ نبھانے کے وعدے پر تلخ حقیقت ہے کہ تمہارا یہ وعدہ کیا کام آئے گا، جب خود اس انسان کی عمر اور زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں تو ساری زندگی کا وعدہ بے معنی ہے۔
مدت ہوئی ہے یار
مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوے
جوش قدح سے بزم چراغاں کیے ہوے
Explanation: شاعر اپنی پرانی محفلوں کو یاد کرتا ہے جب محبوب اس کا مہمان ہوتا تھا، اور اس خوشی میں شراب کے جام گردش کرتے تھے جس سے پوری محفل روشن اور جاندار ہو جایا کرتی تھی۔
عرض نیاز عشق کے
عرض نیاز عشق کے قابل نہیں رہا
جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
Explanation: مسلسل دکھوں نے دل کی تڑپ کو ختم کر دیا ہے، شاعر کہتا ہے کہ مجھے اپنے جس جذباتی دل پر فخر تھا، وہ اب اس قدر تھک چکا ہے کہ اس میں عشق کی التجا کرنے کی طاقت بھی نہیں رہی۔
بسکہ ہوں غالبؔ اسیری
بسکہ ہوں غالبؔ اسیری میں بھی آتش زیر پا
موئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا
Explanation: غالب اپنی قید میں بھی اتنی بے قراری اور غصے میں ہیں کہ ان کے قدموں کی حرارت سے ان کے پیروں میں پڑی ہوئی لوہے کی مضبوط زنجیر بھی جلتے ہوئے بالوں کی طرح راکھ ہو کر مڑ گئی ہے۔
خط لکھیں گے گرچہ
خط لکھیں گے گرچہ مطلب کچھ نہ ہو
ہم تو عاشق ہیں تمہارے نام کے
Explanation: عاشق کو خط میں کسی بات کا جواب نہیں مانگنا، وہ تو محبوب کو صرف اس لیے خط لکھتا ہے تاکہ خط لکھتے ہوئے اسے محبوب کا نام لکھنے اور اسے یاد کرنے کی خوشی اور تسکین ملے۔
نقش فریادی ہے کس
نقش فریادی ہے کس کی شوخیٔ تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا
Explanation: دنیا کی ہر شے فانی ہے، قدیم ایران میں فریادی کاغذ کا لباس پہن کر بادشاہ کے پاس جاتا تھا، کائنات کی ہر چیز اپنے پیدا کرنے والے سے فریاد کر رہی ہے کہ اسے فانی (کاغذ جیسا) کیوں بنایا گیا۔
زندگی یوں بھی گزر
زندگی یوں بھی گزر ہی جاتی
کیوں ترا راہ گزر یاد آیا
Explanation: محبوب سے بچھڑنے کے دکھ پر ایک گہری آہ ہے کہ ہم کسی نہ کسی طرح زندگی تو گزار ہی لیتے، لیکن جب تمہاری گلی اور تمہارے ساتھ گزارے ہوئے وقت یاد آ گئے تو یہ زندگی کاٹنا مشکل ہو گیا۔
آگہی دام شنیدن جس
آگہی دام شنیدن جس قدر چاہے بچھائے
مدعا عنقا ہے اپنے عالم تقریر کا
Explanation: غالب اپنی شاعری کی پیچیدگی کا اعلان کرتے ہیں کہ سمجھنے والے چاہے کتنا ہی زور لگا لیں، میری باتوں اور شاعری کا اصل مطلب ان کی سمجھ میں نہیں آئے گا، وہ ایک خیالی پرندے (عنقا) کی طرح ہے۔
کیا وہ نمرود کی
کیا وہ نمرود کی خدائی تھی
بندگی میں مرا بھلا نہ ہوا
Explanation: اللہ سے شکوہ اور اپنی بندگی کی لاحاصلی کا بیان ہے کہ میں نے اتنی خلوص سے تیری عبادت کی مگر مجھے کوئی فائدہ نہ ملا، کیا میں نعوذ باللہ کسی نمرود (ظالم) کی غلامی کر رہا تھا؟
یہی ہے آزمانا تو
یہی ہے آزمانا تو ستانا کس کو کہتے ہیں
عدو کے ہو لیے جب تم تو میرا امتحاں کیوں ہو
Explanation: محبوب کے ظلم پر چوٹ ہے کہ جب تم میرے دشمن (رقیب) کے ساتھ جا کر مل چکے ہو تو پھر مجھے آزمانے کا کیا جواز ہے؟ یہ امتحان نہیں بلکہ مجھے بلاوجہ اذیت دینا اور ستانا ہے۔
ہم بھی تسلیم کی
ہم بھی تسلیم کی خو ڈالیں گے
بے نیازی تری عادت ہی سہی
Explanation: عاشق محبوب کی بے رخی کے سامنے ہار مان لیتا ہے کہ اگر ظالمانہ حد تک بے پرواہ رہنا ہی تیری عادت ہے تو ٹھیک ہے، ہم بھی اپنے اندر تیری اس لت کو چپ چاپ سہنے کی عادت ڈال لیں گے۔
حیف اس چار گرہ
حیف اس چار گرہ کپڑے کی قسمت غالبؔ
جس کی قسمت میں ہو عاشق کا گریباں ہونا
Explanation: عاشق کے کپڑوں کا مقدر صرف پھٹنا ہوتا ہے، شاعر کہتا ہے کہ ان چند میٹر کپڑوں پر افسوس کرنا چاہیے جن کی قسمت میں کسی دیوانے عاشق کا لباس بننا لکھا ہو، کیونکہ وہ جنون میں پھاڑ دیے جائیں گے۔
غالبؔ نہ کر حضور
غالبؔ نہ کر حضور میں تو بار بار عرض
ظاہر ہے تیرا حال سب ان پر کہے بغیر
Explanation: خدا (یا بادشاہ) کے سامنے فریاد کرنے کی ضرورت نہیں، غالب خود کو کہتے ہیں کہ بار بار اپنی بدحالی کا رونا مت رو، کیونکہ وہ اتنا باخبر ہے کہ بغیر بولے ہی تمہاری مجبوری اور دکھ کو سمجھتا ہے۔
میں نے مجنوں پہ
میں نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسدؔ
سنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا
Explanation: بچپن میں جب شاعر کسی پاگل عاشق (مجنوں) کو پتھر مارنے لگا تو اسے فوراً خیال آیا کہ ایک دن اس کا اپنا انجام بھی عشق میں ایسا ہی ہوگا اور لوگ اسے بھی یونہی پتھر ماریں گے۔
ہر اک مکان کو
ہر اک مکان کو ہے مکیں سے شرف اسدؔ
مجنوں جو مر گیا ہے تو جنگل اداس ہے
Explanation: جگہ کی خوبصورتی وہاں رہنے والوں سے ہوتی ہے، جس طرح قیس (مجنوں) کے مرنے کے بعد وہ ویران صحرا بھی اداس ہو گیا ہے، کیونکہ اس جنگل کی ساری رونق مجنوں کی دیوانگی کی وجہ سے تھی۔
کیوں جل گیا نہ
کیوں جل گیا نہ تاب رخ یار دیکھ کر
جلتا ہوں اپنی طاقت دیدار دیکھ کر
Explanation: عاشق کو اپنی بینائی پر دکھ ہے کہ جب میں نے محبوب کا جلوہ دیکھا تو میں اسی وقت جل کر راکھ کیوں نہ ہو گیا، اب میں اس بات پر جل رہا ہوں کہ میرے اندر اس کا حسن دیکھنے کی اتنی طاقت کیسے آ گئی۔
ایک ہنگامہ پہ موقوف
ایک ہنگامہ پہ موقوف ہے گھر کی رونق
نوحۂ غم ہی سہی نغمۂ شادی نہ سہی
Explanation: خاموشی اور موت سے بہتر کوئی بھی شور ہے، شاعر کہتا ہے کہ زندگی اور گھر میں رونق ہونی چاہیے، چاہے خوشی کے گیت نہ ہوں، تو رونے دھونے اور ماتم کا شور ہی سہی، کم از کم سناٹا تو نہیں۔
اعتبار عشق کی خانہ
اعتبار عشق کی خانہ خرابی دیکھنا
غیر نے کی آہ لیکن وہ خفا مجھ پر ہوا
Explanation: محبوب کے ذہن میں عاشق کی اتنی بری تصویر بیٹھ چکی ہے کہ جب محفل میں کسی اجنبی نے درد سے آہ بھری، تو محبوب نے یہی سمجھا کہ یہ میں نے کیا ہے اور وہ الٹا مجھ پر ناراض ہو گیا۔
ابن مریم ہوا کرے
ابن مریم ہوا کرے کوئی
میرے دکھ کی دوا کرے کوئی
Explanation: شاعر کہتا ہے کہ کوئی شخص کتنا ہی بڑا مسیحا یا عیسیٰ (جو مردوں کو زندہ کرتے تھے) کیوں نہ کہلائے، مجھے اس سے تب تک کیا غرض جب تک وہ میری محبت کی بیماری کا علاج نہ کرے۔