Explanation: عاشق کو اس بات کی سخت ذلت محسوس ہوتی ہے کہ اسے محبوب کی گلی سے گزرنے کے لیے بار بار اپنے دشمن (رقیب) کے دروازے سے ہو کر جانا پڑتا ہے، وہ کہتا ہے کاش مجھے تیرا یہ راستہ معلوم ہی نہ ہوتا۔
بے در و دیوار
بے در و دیوار سا اک گھر بنایا چاہیئے
کوئی ہمسایہ نہ ہو اور پاسباں کوئی نہ ہو
Explanation: یہ دنیا سے مکمل بیزاری اور گوشہ نشینی کی خواہش ہے جہاں غالب ایک ایسا جنگل یا ویران مقام چاہتے ہیں جہاں نہ مکان ہوں، نہ پڑوسی ہوں اور نہ ہی کوئی چوکیدار، بس مکمل تنہائی ہو۔
بندگی میں بھی وہ
بندگی میں بھی وہ آزادہ و خودبیں ہیں کہ ہم
الٹے پھر آئے در کعبہ اگر وا نہ ہوا
Explanation: غالب اپنی انا اور خودداری کا اعلان کرتے ہیں کہ ہم عبادت کرتے ہوئے بھی اتنے مغرور اور آزاد ہیں کہ اگر ہم کعبے گئے اور اس کا دروازہ بند ملا، تو ہم دروازہ کھلنے کا انتظار کرنے کے بجائے واپس لوٹ آئیں گے۔
حضرت ناصح گر آویں
حضرت ناصح گر آویں دیدہ و دل فرش راہ
کوئی مجھ کو یہ تو سمجھا دو کہ سمجھائیں گے کیا
Explanation: نصیحت کرنے والے پر طنز ہے کہ میں اس کا بہت احترام کرتا ہوں اور اس کے لیے آنکھیں بچھاتا ہوں، مگر کوئی مجھے یہ بتائے کہ وہ عشق جیسی بے قابو کیفیت میں مجھے عقل کی کون سی بات سمجھا پائے گا؟
سنتے ہیں جو بہشت
سنتے ہیں جو بہشت کی تعریف سب درست
لیکن خدا کرے، وہ ترا جلوہ گاہ ہو
Explanation: جنت کی خوبصورتی کا اعتراف ہے، مگر عاشق کے نزدیک جنت کی تمام نعمتیں تبھی معنی رکھتی ہیں اگر وہاں اس کا محبوب بھی موجود ہو، ورنہ جنت کی وہ خوبصورتی عاشق کے لیے بے کار ہے۔
اگلے وقتوں کے ہیں
اگلے وقتوں کے ہیں یہ لوگ انہیں کچھ نہ کہو
جو مے و نغمہ کو اندوہ ربا کہتے ہیں
Explanation: غالب اپنے دکھوں کی شدت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ شراب پینے یا موسیقی سننے سے انسان کے غم دور ہو جاتے ہیں، وہ پرانے اور نادان لوگ ہیں، آج کے درد ان چیزوں سے کم نہیں ہوتے۔
غالبؔ اپنا یہ عقیدہ
غالبؔ اپنا یہ عقیدہ ہے بقول ناسخؔ
آپ بے بہرہ ہے جو معتقد میرؔ نہیں
Explanation: غالب اپنی عظمت کے باوجود میر تقی میر کی استادی کا دل سے اعتراف کرتے ہیں اور ایک دوسرے شاعر ناسخ کا حوالہ دے کر کہتے ہیں کہ جو شخص میر کی شاعری کا قائل نہیں، دراصل وہ خود ہی شاعری کے علم سے جاہل ہے۔
میں نے کہا کہ
میں نے کہا کہ بزم ناز چاہیئے غیر سے تہی
سن کے ستم ظریف نے مجھ کو اٹھا دیا کہ یوں
Explanation: محبوب کی ظالمانہ شوخی ہے، جب عاشق نے التجا کی کہ اس محفل میں غیروں (رقیبوں) کو نہیں ہونا چاہیے، تو محبوب نے مسکرا کر عاشق کو ہی محفل سے باہر نکال دیا اور کہا کہ لو محفل غیر سے خالی ہو گئی۔
ذکر اس پری وش
ذکر اس پری وش کا اور پھر بیاں اپنا
بن گیا رقیب آخر تھا جو رازداں اپنا
Explanation: عاشق کو اپنی ہی شیریں بیانی سے نقصان ہوا، اس نے اپنے دوست (رازداں) کے سامنے محبوب کے حسن کی اتنی دلفریب تعریف کی کہ وہ دوست خود بھی اس کا عاشق بن کر میرا رقیب بن گیا۔
ہوئی جن سے توقع
ہوئی جن سے توقع خستگی کی داد پانے کی
وہ ہم سے بھی زیادہ خستۂ تیغ ستم نکلے
Explanation: عاشق کو جن لوگوں سے اپنے دکھڑے سن کر ہمدردی کی امید تھی، وہ ان کے پاس گیا تو معلوم ہوا کہ وہ لوگ تو خود مجھ سے زیادہ محبوب کے ظلم کی تلوار کے گھائل اور تباہ حال تھے۔
زندگی اپنی جب اس
زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالبؔ
ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے
Explanation: غالب اللہ سے شکوہ کرتے ہیں کہ جب میری پوری زندگی اتنے شدید دکھوں، غربت اور محرومیوں میں گزر گئی، تو مرنے کے بعد میں کیا یاد کروں گا کہ میرا بھی کوئی خدا تھا جو مجھ پر مہربان ہوتا۔
گرنی تھی ہم پہ
گرنی تھی ہم پہ برق تجلی نہ طور پر
دیتے ہیں بادہ ظرف قدح خوار دیکھ کر
Explanation: غالب اپنی قوتِ برداشت پر فخر کرتے ہوئے حضرت موسیٰ کے واقعے کا ذکر کرتے ہیں کہ خدا کو اپنی تجلی کا نور طور پہاڑ کے بجائے مجھ پر گرانا چاہیے تھا، کیونکہ میں اس نور (تجلی) کو سہنے کی زیادہ طاقت رکھتا تھا۔
ہے غیب غیب جس
ہے غیب غیب جس کو سمجھتے ہیں ہم شہود
ہیں خواب میں ہنوز جو جاگے ہیں خواب میں
Explanation: یہ دنیاوی زندگی کی حقیقت پر ایک گہرا فلسفیانہ تبصرہ ہے کہ جسے ہم جاگنا اور حقیقت (شہود) سمجھتے ہیں، وہ دراصل ایک دھوکہ اور خواب ہے، انسان اصل میں تب جاگتا ہے جب موت آتی ہے۔
وہ چیز جس کے
وہ چیز جس کے لیے ہم کو ہو بہشت عزیز
سوائے بادۂ گلفام مشک بو کیا ہے
Explanation: غالب جنت کی روایتی نعمتوں پر طنز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مجھے جنت سے کوئی خاص عقیدت نہیں، اگر مجھے جنت پسند ہے تو صرف وہاں ملنے والی اس بہترین اور خوشبودار شراب کی وجہ سے پسند ہے۔
چاہیے اچھوں کو جتنا
چاہیے اچھوں کو جتنا چاہیے
یہ اگر چاہیں تو پھر کیا چاہیے
Explanation: محبت کی بے بسی کا اقرار ہے کہ اچھے اور حسین لوگوں کو ہم کتنا ہی کیوں نہ چاہیں اور ان کی منتیں کریں، جب تک وہ خود ہمیں نہ چاہیں، تب تک ہماری محبت کسی کام کی نہیں ہوتی۔
یہ ہم جو ہجر
یہ ہم جو ہجر میں دیوار و در کو دیکھتے ہیں
کبھی صبا کو کبھی نامہ بر کو دیکھتے ہیں
Explanation: جدائی کی رات میں عاشق کے انتظار کی بے چینی کا منظر ہے جہاں وہ کبھی اپنے گھر کی دیواروں کو تکتا ہے اور کبھی ہر چلنے والی ہوا اور خط لانے والے (نامہ بر) میں محبوب کے آنے کی آس ڈھونڈتا ہے۔
ہیں آج کیوں ذلیل
ہیں آج کیوں ذلیل کہ کل تک نہ تھی پسند
گستاخی فرشتہ ہماری جناب میں
Explanation: انسان اپنے موجودہ زوال اور ذلت پر حیران ہو کر اپنے عظیم ماضی (جنت میں ہونے) کو یاد کرتا ہے کہ ہم تو وہ اشرف المخلوقات ہیں جن کے سامنے فرشتوں کی ذرا سی گستاخی بھی برداشت نہیں کی جاتی تھی۔
گنجینۂ معنی کا طلسم
گنجینۂ معنی کا طلسم اس کو سمجھیے
جو لفظ کہ غالبؔ مرے اشعار میں آوے
Explanation: غالب اپنی شاعری کی گہرائی کا دعویٰ کرتے ہیں کہ میرے شعر کا کوئی بھی لفظ عام نہیں ہوتا، بلکہ وہ ایک جادوئی خزانے کی طرح ہوتا ہے جس میں کئی کئی گہرے معانی اور مفہوم چھپے ہوتے ہیں۔
یہ لاش بے کفن
یہ لاش بے کفن اسدؔ خستہ جاں کی ہے
حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا
Explanation: غالب اپنی موت کی تصویر کشی کرتے ہوئے اپنی ہی مغفرت کی دعا کر رہے ہیں اور فخر سے کہتے ہیں کہ جو لاش بے یار و مددگار پڑی ہے، یہ اس غالب کی ہے جو اپنی زندگی میں تمام دنیاوی پابندیوں اور رسومات سے مکمل آزاد تھا۔
زباں پہ بار خدایا
زباں پہ بار خدایا یہ کس کا نام آیا
کہ میرے نطق نے بوسے مری زباں کے لیے
Explanation: محبوب کا نام اتنا میٹھا اور لذیذ ہے کہ جب شاعر کی زبان پر اس کا نام آیا، تو اس کی زبان کو اتنی مٹھاس محسوس ہوئی کہ خود اس کے بولنے کی صلاحیت نے اس کی اپنی زبان کو چوم لیا۔