Explanation: غالب تصوف اور معرفت پر بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگرچہ ہم خدا کی پہچان اور حق کی بات کر رہے ہوں، مگر جب تک اسے بیان کرنے کے لیے شراب اور پیالے کا استعارہ نہ استعمال کیا جائے، بات میں مزہ نہیں آتا۔
آج ہم اپنی پریشانیٔ
آج ہم اپنی پریشانیٔ خاطر ان سے
کہنے جاتے تو ہیں پر دیکھیے کیا کہتے ہیں
Explanation: عاشق محبوب سے اپنے دل کا حال اور شکوے بیان کرنے کا پختہ ارادہ کر کے جا تو رہا ہے، مگر اسے خود پر اعتبار نہیں، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ محبوب کے سامنے جاتے ہی وہ سب کچھ بھول جائے گا۔
دل ہر قطرہ ہے
دل ہر قطرہ ہے ساز انا البحر
ہم اس کے ہیں ہمارا پوچھنا کیا
Explanation: یہ وحدت الوجود کی معراج ہے جہاں قطرہ (انسان) سمندر (خدا) میں اس قدر کھو گیا ہے کہ اب ہر قطرے سے یہ صدا آ رہی ہے کہ 'میں ہی سمندر ہوں'، اور جب ہم خدا کا حصہ بن گئے تو پھر ہماری اپنی کیا حیثیت ہے۔
جمع کرتے ہو کیوں
جمع کرتے ہو کیوں رقیبوں کو
اک تماشا ہوا گلہ نہ ہوا
Explanation: عاشق کو محبوب سے پردے میں تنہائی کی شکایت کرنی تھی، مگر محبوب نے عاشق کی شکایت سنتے وقت رقیبوں اور دشمنوں کی بھیڑ لگا لی، شاعر کہتا ہے کہ اب اس ہجوم میں شکایت کیا ہوگی، یہ تو ایک سرعام تماشا بن گیا ہے۔
تنگی دل کا گلہ
تنگی دل کا گلہ کیا یہ وہ کافر دل ہے
کہ اگر تنگ نہ ہوتا تو پریشاں ہوتا
Explanation: شاعر اپنے دل کی عجیب کیفیت پر حیران ہے اور کہتا ہے کہ یہ دل اتنا عادی ہو چکا ہے دکھوں کا کہ اگر اسے دکھ (تنگی) نہ ملے، تو یہ خوش ہونے کے بجائے اس پریشانی میں پڑ جائے کہ آج کوئی غم کیوں نہیں آیا۔
ادھر وہ بد گمانی
ادھر وہ بد گمانی ہے ادھر یہ ناتوانی ہے
نہ پوچھا جائے ہے اس سے نہ بولا جائے ہے مجھ سے
Explanation: محبت کی ایسی بند گلی آ گئی ہے جہاں ایک طرف محبوب غرور اور بدگمانی کی وجہ سے خود کچھ نہیں پوچھتا، اور دوسری طرف عاشق اتنا کمزور اور بیمار ہو چکا ہے کہ وہ اس کے آگے خود صفائی یا التجا پیش نہیں کر سکتا۔
فائدہ کیا سوچ آخر
فائدہ کیا سوچ آخر تو بھی دانا ہے اسدؔ
دوستی ناداں کی ہے جی کا زیاں ہو جائے گا
Explanation: غالب خود کو نصیحت کر رہے ہیں کہ اے اسد، تم عقلمند انسان ہو، اس لیے محبوب جیسے بے وقوف اور نادان سے دوستی کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، یہ دوستی تو الٹا تمہاری جان اور دل کا نقصان کر دے گی۔
کیا خوب تم نے
کیا خوب تم نے غیر کو بوسہ نہیں دیا
بس چپ رہو ہمارے بھی منہ میں زبان ہے
Explanation: محبوب جھوٹ بول رہا ہے کہ اس نے رقیب (غیر) کو کوئی بوسہ نہیں دیا، اور شاعر اسے ٹوکتے ہوئے کہتا ہے کہ مجھ سے جھوٹ مت بولو، میرے منہ میں بھی زبان ہے اور میں حقیقت بتا کر تمہاری پول کھول سکتا ہوں۔
یوں ہی گر روتا
یوں ہی گر روتا رہا غالبؔ تو اے اہل جہاں
دیکھنا ان بستیوں کو تم کہ ویراں ہو گئیں
Explanation: غالب دنیا والوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ میرے رونے کو معمولی مت سمجھو، اگر میں اسی طرح مسلسل آنسو بہاتا رہا، تو ایک دن میرے آنسوؤں کا سیلاب ان پوری بستیوں کو تباہ کر کے ویران کر دے گا۔
تم جانو تم کو
تم جانو تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہو
مجھ کو بھی پوچھتے رہو تو کیا گناہ ہو
Explanation: یہ عاشق کی انتہائی کمزوری اور التجا ہے، وہ محبوب سے کہتا ہے کہ بے شک تم میرے رقیبوں سے جتنے مرضی تعلقات رکھو مجھے اعتراض نہیں، مگر خدا کے لیے کبھی کبھار میرا بھی حال پوچھ لیا کرو اس میں تمہارا کیا نقصان ہے۔
زندگی میں تو وہ
زندگی میں تو وہ محفل سے اٹھا دیتے تھے
دیکھوں اب مر گئے پر کون اٹھاتا ہے مجھے
Explanation: یہ ایک شاندار اور طنزیہ ضد ہے کہ محبوب مجھے زندگی میں تو اپنی محفل میں بیٹھنے نہیں دیتا تھا، لیکن اب میں اس کی محفل (گلی) میں مر گیا ہوں، اب دیکھتا ہوں کہ میری بھاری لاش کو وہاں سے اٹھا کر باہر کون نکالتا ہے۔
کہہ سکے کون کہ
کہہ سکے کون کہ یہ جلوہ گری کس کی ہے
پردہ چھوڑا ہے وہ اس نے کہ اٹھائے نہ بنے
Explanation: یہ کائنات کے خالق کا ذکر ہے کہ اس دنیا میں ہر طرف اس کی کاریگری موجود ہے، مگر اس نے اپنے آپ کو ایسے پردوں (نظامتِ کائنات) کے پیچھے چھپایا ہوا ہے کہ کسی انسان کے لیے وہ پردہ اٹھا کر اسے دیکھنا ممکن نہیں۔
دوست غمخواری میں میری
دوست غمخواری میں میری سعی فرماویں گے کیا
زخم کے بھرتے تلک ناخن نہ بڑھ جاویں گے کیا
Explanation: یہ دوستوں کی ہمدردی پر طنز اور اپنی دیوانگی کا ذکر ہے کہ دوست میرے زخموں کا علاج کیا کریں گے، جب تک ان کی دوائیوں سے میرے زخم بھریں گے، تب تک میرے اپنے ناخن بڑے ہو جائیں گے اور میں جنون میں انہیں دوبارہ چھیل دوں گا۔
رات پی زمزم پہ
رات پی زمزم پہ مے اور صبح دم
دھوئے دھبے جامۂ احرام کے
Explanation: یہ رندانہ اور باغیانہ سوچ کا انتہائی بولڈ شعر ہے جس میں غالب کہتے ہیں کہ میں نے کعبے میں آبِ زمزم کے ساتھ ملا کر شراب پی، اور پھر صبح ہوتے ہی پرہیزگار بن کر اسی زمزم سے اپنے احرام کے کپڑوں کے داغ دھونے لگا۔
ہے اب اس معمورہ
ہے اب اس معمورہ میں قحط غم الفت اسدؔ
ہم نے یہ مانا کہ دلی میں رہیں کھاویں گے کیا
Explanation: دہلی کی تباہی کے بعد غالب دکھ سے کہتے ہیں کہ اس شہر میں اب نہ تو کوئی سچی محبت کرنے والا بچا ہے اور نہ ہی محبت کا کوئی غم، جب عاشق کی اصل خوراک (غمِ محبت) ہی یہاں ناپید ہو گئی، تو پھر میں دہلی میں رہ کر کیا زندہ رہوں گا۔
دل میں ذوق وصل
دل میں ذوق وصل و یاد یار تک باقی نہیں
آگ اس گھر میں لگی ایسی کہ جو تھا جل گیا
Explanation: عشق کی اذیت نے دل کو اتنا تباہ کر دیا ہے کہ اب اس میں محبوب کے ملنے کی خواہش اور اس کی یاد بھی باقی نہیں بچی، یعنی اس دل کی بستی میں ایسی خوفناک آگ لگی جس نے ہر چیز کو جلا کر راکھ کر دیا۔
کس سے محرومیٔ قسمت
کس سے محرومیٔ قسمت کی شکایت کیجے
ہم نے چاہا تھا کہ مر جائیں سو وہ بھی نہ ہوا
Explanation: غالب اپنی بدقسمتی کی انتہا بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ میری قسمت اتنی خراب ہے کہ میں کس کس چیز کا رونا روؤں، زندگی تو زندگی، میں نے تنگ آ کر موت مانگی تھی مگر میری قسمت نے مجھے سکون سے مرنے بھی نہیں دیا۔
اک نو بہار ناز
اک نو بہار ناز کو تاکے ہے پھر نگاہ
چہرہ فروغ مے سے گلستاں کیے ہوئے
Explanation: عاشق کی نظریں پھر سے کسی ایسے نئے اور جوان محبوب کے پیچھے لگ گئی ہیں، جس کا چہرہ شراب پینے کی وجہ سے گلابوں کے باغ کی طرح سرخ اور دمکتا ہوا نظر آ رہا ہے۔
دے مجھ کو شکایت
دے مجھ کو شکایت کی اجازت کہ ستم گر
کچھ تجھ کو مزہ بھی مرے آزار میں آوے
Explanation: عاشق محبوب سے التجا کرتا ہے کہ مجھے تجھ سے تھوڑا سا شکوہ کرنے اور رونے دھونے کی اجازت دے دے، تاکہ جب میں روؤں تو تجھے مجھے ستانے اور اذیت دینے میں اور بھی زیادہ مزہ آئے۔
بات پر واں زبان
بات پر واں زبان کٹتی ہے
وہ کہیں اور سنا کرے کوئی
Explanation: محبوب کا مزاج اتنا سخت اور مغرور ہے کہ وہاں ذرا سی بات کرنے پر زبان کاٹ دی جاتی ہے، عاشق کہتا ہے کہ محبوب جو مرضی دعویٰ کرے، وہ یہ باتیں کسی اور کو جا کر سنائے ہم اسے سن کر اپنی زبان نہیں کٹوا سکتے۔