Skip to content

Mirza Ghalib

دل کو نیاز حسرت

دل کو نیاز حسرت دیدار کر چکے

دیکھا تو ہم میں طاقت دیدار بھی نہیں

Explanation: عاشق نے ساری عمر محبوب کو دیکھنے کی شدید خواہش پالی رکھی، مگر جب محبوب واقعی سامنے آ گیا تو اس کے حسن کی ہیبت اتنی زیادہ تھی کہ عاشق محسوس کرتا ہے کہ مجھ میں تو اسے دیکھنے کی طاقت ہی نہیں۔

سیکھے ہیں مہ رخوں

سیکھے ہیں مہ رخوں کے لیے ہم مصوری

تقریب کچھ تو بہر ملاقات چاہیے

Explanation: عاشق اپنی مجبوری کا حل بتاتا ہے کہ ہم نے تصویریں بنانے کا فن صرف اس لیے سیکھا ہے، تاکہ ہم ان چاند جیسے حسینوں کے پاس تصویر بنانے کے بہانے جا سکیں اور ان سے ملاقات کا موقع ملے۔

جو یہ کہے کہ

جو یہ کہے کہ ریختہ کیونکے ہو رشک فارسی

گفتۂ غالبؔ ایک بار پڑھ کے اسے سنا کہ یوں

Explanation: غالب اپنی اردو شاعری (ریختہ) کی عظمت اور فارسی کے برابر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، کہ اگر کوئی اعتراض کرے کہ اردو شاعری فارسی کا مقابلہ کیسے کر سکتی ہے، تو اسے غالب کا کلام سنا دو تاکہ اسے جواب مل جائے۔

زہر ملتا ہی نہیں

زہر ملتا ہی نہیں مجھ کو ستم گر ورنہ

کیا قسم ہے ترے ملنے کی کہ کھا بھی نہ سکوں

Explanation: عاشق نے قسم کھا رکھی ہے کہ وہ ظالم محبوب سے دوبارہ نہیں ملے گا، مگر وہ اس کی یاد میں اتنا تڑپ رہا ہے کہ وہ کہتا ہے، اگر مجھے زہر مل جاتا تو میں وہ زہر کھا کر مر جاتا مگر اپنی قسم نہ توڑتا، لیکن اب مجھے مرنے کے لیے زہر بھی نہیں مل رہا۔

ڈھانپا کفن نے داغ

ڈھانپا کفن نے داغ عیوب برہنگی

میں ورنہ ہر لباس میں ننگ وجود تھا

Explanation: یہ انسان کی پیدائشی خامیوں اور گناہوں کا اعتراف ہے، غالب کہتے ہیں کہ زندگی میں میں نے چاہے کتنے ہی اچھے کپڑے کیوں نہ پہنے، میں اندر سے بے لباس (گنہگار) تھا، یہ تو موت کے بعد کفن نے آ کر میرے تمام عیبوں کو ڈھانپ لیا ہے۔

اس لب سے مل

اس لب سے مل ہی جائے گا بوسہ کبھی تو ہاں

شوق فضول و جرأت رندانہ چاہئے

Explanation: عاشق اپنی ہمت باندھتا ہے کہ اگر انسان میں دیوانوں جیسا ضد، بے باکی اور ہمت موجود ہو، تو ایک نہ ایک دن وہ اپنے ظالم محبوب سے بھی بوسہ حاصل کرنے میں ضرور کامیاب ہو جائے گا۔

جس زخم کی ہو

جس زخم کی ہو سکتی ہو تدبیر رفو کی

لکھ دیجیو یا رب اسے قسمت میں عدو کی

Explanation: عاشق اپنے دکھوں اور زخموں پر اتنا فخر کرتا ہے کہ وہ اللہ سے کہتا ہے، اے خدا! اگر میرے نصیب میں کوئی ایسا چھوٹا سا زخم لکھا ہے جس کا علاج ممکن ہو، تو وہ ہلکا زخم میرے بجائے میرے دشمن کے نصیب میں لکھ دے۔

اہل بینش کو ہے

اہل بینش کو ہے طوفان حوادث مکتب

لطمۂ موج کم از سیلئ استاد نہیں

Explanation: سمجھدار اور عقل والے انسان کے لیے دنیا کی سختیاں اور حوادث ایک بہترین مدرسے (سیکھنے کی جگہ) کی طرح ہیں، جہاں مصیبتوں کے تھپیڑے انسان کو بالکل اسی طرح سکھاتے ہیں جیسے ایک استاد بچے کو مار کر سکھاتا ہے۔

بہرا ہوں میں تو

بہرا ہوں میں تو چاہئے دونا ہو التفات

سنتا نہیں ہوں بات مکرر کہے بغیر

Explanation: عاشق محبوب سے زیادہ توجہ مانگنے کا ایک نیا بہانہ تراشتا ہے کہ میں تو اونچا سنتا ہوں (بہرا ہوں)، اس لیے تم مجھ پر عام لوگوں سے دگنی مہربانی کیا کرو اور مجھ سے کوئی بھی پیار کی بات کم از کم دو بار کہا کرو تاکہ مجھے سنائی دے۔

عمر بھر دیکھا کیے

عمر بھر دیکھا کیے مرنے کی راہ

مر گئے پر دیکھیے دکھلائیں کیا

Explanation: زندگی کے مصائب سے تنگ آ کر انسان ساری عمر موت کا انتظار کرتا ہے کہ مر کر سکون ملے گا، لیکن شاعر سوچتا ہے کہ اب ہم مر تو گئے ہیں، نجانے اب موت کے بعد (آخرت میں) ہمیں کیا کچھ دیکھنا پڑے گا، کیا وہاں واقعی سکون ملے گا؟

کسی کو دے کے

کسی کو دے کے دل کوئی نواسنج فغاں کیوں ہو

نہ ہو جب دل ہی سینے میں تو پھر منہ میں زباں کیوں ہو

Explanation: شاعر عاشقوں کی فطرت بتاتا ہے کہ جب کسی نے اپنا دل ہی محبوب کو دے دیا، تو پھر وہ روتا اور فریادیں کیوں کرتا ہے، جب سینے میں دل ہی نہیں بچا تو پھر اسے اپنی زبان بھی بند رکھنی چاہیے۔

طاعت میں تا رہے

طاعت میں تا رہے نہ مے و انگبیں کی لاگ

دوزخ میں ڈال دو کوئی لے کر بہشت کو

Explanation: یہ خالص بندگی کا انتہائی شاندار شعر ہے کہ لوگ اللہ کی عبادت صرف جنت کی شراب اور شہد کے لالچ میں کرتے ہیں، اگر سچی عبادت کروانی ہے تو کوئی جا کر اس جنت کو ہی دوزخ میں پھینک دے تاکہ انسان صرف خدا کے لیے سجدہ کرے۔

ہم سخن فہم ہیں

ہم سخن فہم ہیں غالبؔ کے طرفدار نہیں

دیکھیں اس سہرے سے کہہ دے کوئی بڑھ کر سہرا

Explanation: غالب اپنی ایک غزل (سہرے) پر فخر کرتے ہوئے غیر جانبداری کا ڈرامہ کرتے ہیں، کہ ہم غالب کے حمایتی نہیں، ہم تو صرف اچھی شاعری پہچانتے ہیں، اور دعویٰ کرتے ہیں کہ اس سے بہتر سہرا کوئی اور لکھ کر دکھائے۔

جب مے کدہ چھٹا

جب مے کدہ چھٹا تو پھر اب کیا جگہ کی قید

مسجد ہو مدرسہ ہو کوئی خانقاہ ہو

Explanation: شرابی شاعر کہتا ہے کہ میرے لیے تو دنیا کی سب سے بہترین اور سکون کی جگہ صرف مے خانہ تھا، اب جب مجھ سے مے خانہ ہی چھین لیا گیا، تو پھر میں مسجد میں جاؤں، مدرسے یا خانقاہ، میرے لیے تو سب جگہیں برابر ہیں۔

کیوں کر اس بت

کیوں کر اس بت سے رکھوں جان عزیز

کیا نہیں ہے مجھے ایمان عزیز

Explanation: عاشق اپنے محبوب (بت) کے سامنے جان دینے کو اپنا فرض سمجھتا ہے، اور طنزاً کہتا ہے کہ جس طرح ایک سچے مومن کو اپنا ایمان عزیز ہوتا ہے، اسی طرح مجھے اپنے محبوب کی خاطر جان دینا اپنا ایمان لگتا ہے، میں جان بچا کر کیا کروں۔

دل سے مٹنا تری

دل سے مٹنا تری انگشت حنائی کا خیال

ہو گیا گوشت سے ناخن کا جدا ہو جانا

Explanation: محبوب کی مہندی لگی انگلیوں کا تصور دل میں اس قدر گہرائی تک بس چکا ہے، کہ اب اس خیال کو دل سے نکالنا اتنا ہی تکلیف دہ اور ناممکن ہے جتنا کہ انسان کے گوشت میں سے ناخن کو کھینچ کر الگ کرنا۔

تجھ سے تو کچھ

تجھ سے تو کچھ کلام نہیں لیکن اے ندیم

میرا سلام کہیو اگر نامہ بر ملے

Explanation: عاشق اپنے دوست سے کہتا ہے کہ تم تو میرے محبوب کے پاس جا رہے ہو، میں تم سے کوئی شکایت نہیں کرتا کیونکہ تم تو اس کی محفل میں خوش ہو گے، لیکن اگر راستے میں میرا خط لے جانے والا نامہ بر ملے، تو میری طرف سے اسے ضرور سلام کہنا۔

رحمت اگر قبول کرے

رحمت اگر قبول کرے کیا بعید ہے

شرمندگی سے عذر نہ کرنا گناہ کا

Explanation: انسان گناہوں کے بوجھ سے اتنا شرمندہ ہے کہ اس میں خدا کے سامنے اپنے گناہوں کا عذر پیش کرنے کی بھی ہمت نہیں، مگر اللہ کی رحمت اتنی وسیع ہے کہ وہ انسان کی اس خاموش شرمندگی کو دیکھ کر ہی اس کے سارے گناہ معاف کر سکتی ہے۔

تو اور آرایش خم

تو اور آرایش خم کاکل

میں اور اندیشہ ہائے دور دراز

Explanation: یہ محبوب کی بے فکری اور عاشق کی پریشانی کا تقابل ہے کہ اے محبوب! تیرا کام صرف آئینے کے سامنے بیٹھ کر اپنے بالوں (کاکل) کو سنوارنا ہے، اور میرا کام تیرے مستقبل اور محبت کے انجام کی فکروں میں گھلتے رہنا ہے۔

چھوڑوں گا میں نہ

چھوڑوں گا میں نہ اس بت کافر کا پوجنا

چھوڑے نہ خلق گو مجھے کافر کہے بغیر

Explanation: عاشق اپنے عشق پر اس قدر ثابت قدم ہے کہ وہ کہتا ہے کہ بے شک پوری دنیا مجھ پر فتویٰ لگا کر مجھے کافر پکارنے لگے، مگر میں دنیا کے اس طعنے کے ڈر سے اپنے اس بت (محبوب) کی پرستش اور اس سے محبت کرنا کبھی نہیں چھوڑوں گا۔