Skip to content

Mirza Ghalib

سو بار بند عشق

سو بار بند عشق سے آزاد ہم ہوئے

پر کیا کریں کہ دل ہی عدو ہے فراغ کا

Explanation: عاشق کی مجبوری یہ ہے کہ اس نے کئی بار تنگ آ کر عشق کی زنجیروں سے خود کو آزاد کر لیا اور سکون پا لیا، مگر اس کا اپنا دل ہی سکون کا دشمن ہے اور وہ ہر بار اسے دوبارہ اسی عشق کی آگ میں دھکیل دیتا ہے۔

غالبؔ ترا احوال سنا

غالبؔ ترا احوال سنا دیں گے ہم ان کو

وہ سن کے بلا لیں یہ اجارا نہیں کرتے

Explanation: دوست غالب کو تسلی تو دیتے ہیں کہ ہم محبوب کے پاس جا کر تمہاری دکھ بھری حالت اسے ضرور بتا دیں گے، لیکن ہم اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں لے سکتے کہ وہ تمہاری حالت سن کر پگھل جائے گا اور تمہیں ملنے کے لیے بلا لے گا۔

دم لیا تھا نہ

دم لیا تھا نہ قیامت نے ہنوز

پھر ترا وقت سفر یاد آیا

Explanation: عاشق کے لیے محبوب کا سفر پر روانہ ہونا ایک قیامت سے کم نہیں، وہ کہتا ہے کہ ابھی پچھلی قیامت کا عذاب کم نہیں ہوا تھا کہ اچانک تمہارے نئے سفر کی خبر آ گئی اور میرے دل پر ایک اور نئی قیامت ٹوٹ پڑی۔

عشرت قتل گہہ اہل

عشرت قتل گہہ اہل تمنا مت پوچھ

عید نظارہ ہے شمشیر کا عریاں ہونا

Explanation: عشق میں جان قربان کرنے والے عاشقوں کا جوش دیکھو، کہ جب مقتل میں جلاد قتل کرنے کے لیے تلوار کو نیام سے باہر نکالتا ہے، تو عاشق تلوار کے اس ننگے پن اور چمک کو دیکھ کر یوں خوش ہوتے ہیں جیسے عید کا چاند نظر آ گیا ہو۔

کی وفا ہم سے

کی وفا ہم سے تو غیر اس کو جفا کہتے ہیں

ہوتی آئی ہے کہ اچھوں کو برا کہتے ہیں

Explanation: عاشق خوش فہمی میں کہتا ہے کہ محبوب نے مجھ سے وفا کی ہے، لیکن دنیا والے اور میرے دشمن حسد کی وجہ سے محبوب کے اس اچھے کام کو بھی ظلم قرار دے رہے ہیں، دنیا کی تو شروع سے عادت ہے کہ وہ اچھے انسان کو بھی برا ہی کہتی ہے۔

تو نے قسم مے

تو نے قسم مے کشی کی کھائی ہے غالبؔ

تیری قسم کا کچھ اعتبار نہیں ہے

Explanation: غالب اپنی شراب پینے کی عادت پر خود ہی طنز کرتے ہیں کہ بے شک تم نے قسم کھا لی ہے کہ آج کے بعد شراب کو ہاتھ نہیں لگاؤ گے، لیکن تمہاری کمزوری اور لت کو دیکھتے ہوئے تمہاری اس قسم پر ذرا بھی اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔

دل ہی تو ہے

دل ہی تو ہے سیاست درباں سے ڈر گیا

میں اور جاؤں در سے ترے بن صدا کیے

Explanation: عاشق محبوب کی گلی سے بغیر آواز لگائے واپس آ گیا، اور جواز پیش کرتا ہے کہ یہ میرا ڈر نہیں تھا بلکہ میرا معصوم دل تمہارے چوکیدار کی سختی اور روک ٹوک سے گھبرا گیا تھا، ورنہ مجھ میں تو بہت ہمت ہے۔

سایہ کی طرح ساتھ

سایہ کی طرح ساتھ پھریں سرو و صنوبر

تو اس قد دل کش سے جو گلزار میں آوے

Explanation: محبوب کا قد اتنا لمبا اور سیدھا ہے کہ اگر وہ باغ میں چلنے کے لیے آ جائے، تو باغ کے سیدھے کھڑے رہنے والے مغرور درخت (سرو اور صنوبر) بھی شرمندہ ہو کر اس کے غلاموں کی طرح اس کے سائے کے پیچھے پیچھے چلنے لگیں۔

صحبت میں غیر کی

صحبت میں غیر کی نہ پڑی ہو کہیں یہ خو

دینے لگا ہے بوسہ بغیر التجا کیے

Explanation: محبوب نے آج بغیر مانگے خود ہی عاشق کو بوسہ دے دیا، مگر خوش ہونے کے بجائے عاشق کے دل میں شک پیدا ہو گیا کہ محبوب اتنا سخی تو نہ تھا، کہیں ایسا تو نہیں کہ غیروں کی محفل میں جا کر اسے یونہی بوسے بانٹنے کی بری عادت پڑ گئی ہو۔

تاب لائے ہی بنے

تاب لائے ہی بنے گی غالبؔ

واقعہ سخت ہے اور جان عزیز

Explanation: زندگی کی بڑی آزمائش کا ذکر ہے، غالب کہتے ہیں کہ یہ مصیبت اتنی خوفناک ہے کہ اسے برداشت کرنا بہت مشکل ہے، مگر چونکہ انسان کو اپنی جان بھی پیاری ہوتی ہے اور وہ مرنا نہیں چاہتا، اس لیے نہ چاہتے ہوئے بھی یہ دکھ سہنا ہی پڑے گا۔

ہر بوالہوس نے حسن

ہر بوالہوس نے حسن پرستی شعار کی

اب آبروئے شیوۂ اہل نظر گئی

Explanation: سچے عشق کی بے قدری کا بیان ہے کہ آج کل ہر گلی محلے کا حوس پرست انسان خود کو عاشق کہلانے لگا ہے، جس کی وجہ سے حسن کو سچے دل اور پاک نظر سے چاہنے والے اصلی عاشقوں کی عزت اور پہچان بھی مٹی میں مل گئی ہے۔

شوریدگی کے ہاتھ سے

شوریدگی کے ہاتھ سے ہے سر وبال دوش

صحرا میں اے خدا کوئی دیوار بھی نہیں

Explanation: عاشق پر پاگل پن کا ایسا دورہ پڑا ہے کہ اسے اپنا سر کندھوں پر بوجھ محسوس ہو رہا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اسے دیوار پر دے مارے، مگر بدقسمتی دیکھیے کہ وہ صحرا میں ہے جہاں سر پھوڑنے کے لیے کوئی دیوار بھی موجود نہیں۔

حیراں ہوں دل کو

حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں

مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں

Explanation: عاشق کے دکھ اس قدر زیادہ اور مختلف ہیں کہ وہ خود کنفیوز ہے کہ وہ دل کی بربادی پر آنسو بہائے یا جگر کے کٹنے پر ماتم کرے، اس کی خواہش ہے کہ وہ اپنے ساتھ کرائے پر ماتم کرنے والوں کی ایک ٹیم رکھ لے تاکہ وہ اس کے غموں پر رو سکیں۔

کانٹوں کی زباں سوکھ

کانٹوں کی زباں سوکھ گئی پیاس سے یا رب

اک آبلہ پا وادی پر خار میں آوے

Explanation: یہ عشق میں دوسروں کو فائدہ پہنچانے کا حیرت انگیز پہلو ہے، شاعر خدا سے التجا کرتا ہے کہ اس صحرا کے کانٹے بہت پیاسے ہیں، ادھر کوئی ایسا عاشق بھیج جس کے پیروں میں پانی بھرے چھالے ہوں، تاکہ وہ چھالے پھٹیں اور کانٹوں کی پیاس بجھ سکے۔

آنکھ کی تصویر سر

آنکھ کی تصویر سر نامے پہ کھینچی ہے کہ تا

تجھ پہ کھل جاوے کہ اس کو حسرت دیدار ہے

Explanation: عاشق نے خط کے لفافے پر کچھ لکھنے کے بجائے صرف ایک ترسنے والی آنکھ کی تصویر بنا دی ہے، تاکہ محبوب خط کھولے بغیر ہی لفافہ دیکھ کر سمجھ جائے کہ خط بھیجنے والا شخص اسے دیکھنے کے لیے کس قدر بے تاب ہے۔

پھر مجھے دیدۂ تر

پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا

دل جگر تشنۂ فریاد آیا

Explanation: عرصے بعد کسی پرانے دکھ یا واقعے کی یاد آئی ہے جس نے شاعر کی آنکھوں کو دوبارہ آنسوؤں سے بھر دیا ہے، اور اس کا دل اور جگر ایک بار پھر چیخنے، رونے اور فریاد کرنے کے لیے بے چین ہو گئے ہیں۔

کھلے گا کس طرح

کھلے گا کس طرح مضموں مرے مکتوب کا یا رب

قسم کھائی ہے اس کافر نے کاغذ کے جلانے کی

Explanation: محبوب کی سنگدلی اور نفرت کا یہ عالم ہے کہ اس نے قسم کھا رکھی ہے کہ وہ عاشق کا خط پڑھے بغیر ہی اسے آگ لگا دے گا، شاعر پریشان ہے کہ اگر خط جل گیا تو محبوب کو میرے دل کا حال کیسے پتہ چلے گا۔

ہے تماشا گاہ سوز

ہے تماشا گاہ سوز تازہ ہر یک عضو تن

جوں چراغان دوالی صف بہ صف جلتا ہوں میں

Explanation: عاشق کے جسم کا انگ انگ عشق کی آگ اور دکھوں کی وجہ سے جل رہا ہے، وہ اپنی اس اذیت ناک کیفیت کو دیوالی کے تہوار سے تشبیہ دیتا ہے جس میں لاتعداد دیے ایک قطار میں روشن ہو کر پوری محفل کو جلا دیتے ہیں۔

اب جفا سے بھی

اب جفا سے بھی ہیں محروم ہم اللہ اللہ

اس قدر دشمن ارباب وفا ہو جانا

Explanation: عاشقوں کی بدقسمتی دیکھیے کہ پہلے محبوب کم از کم ان پر ظلم کرتا تھا تو ایک تعلق قائم تھا، مگر اب محبوب نے اس حد تک بے رخی اختیار کر لی ہے کہ اس نے ہم پر ظلم (جفا) کرنا بھی چھوڑ دیا ہے، یہ بے وفائی کی انتہا ہے۔

میں نامراد دل کی

میں نامراد دل کی تسلی کو کیا کروں

مانا کہ تیرے رخ سے نگہ کامیاب ہے

Explanation: محبوب کو دیکھنے کے باوجود عاشق کا دل مطمئن نہیں، وہ کہتا ہے کہ میری آنکھیں تو تیرا حسن دیکھ کر تسکین پا گئی ہیں، مگر میرے اس نامراد دل کی تشنگی کا کیا کروں جو صرف دیکھنے سے نہیں بلکہ قربت سے سکون پاتا ہے۔