Skip to content

Mirza Ghalib

پھونکا ہے کس نے

پھونکا ہے کس نے گوش محبت میں اے خدا

افسون انتظار تمنا کہیں جسے

Explanation: عاشق اللہ سے شکایت کرتا ہے کہ محبت کے کان میں کس ظالم نے انتظار اور خواہشات کا وہ جادو (افسون) پھونک دیا ہے، جس کی وجہ سے انسان ساری زندگی صرف ادھوری تمناؤں کے انتظار میں ہی تڑپتا رہتا ہے۔

لازم تھا کہ دیکھو

لازم تھا کہ دیکھو مرا رستا کوئی دن اور

تنہا گئے کیوں اب رہو تنہا کوئی دن اور

Explanation: یہ غالب کا اپنے گود لیے ہوئے بیٹے (عارف) کی جواں سال موت پر انتہائی دردناک نوحہ ہے، وہ شکوہ کرتے ہیں کہ جب ہم دونوں کا ساتھ تھا تو تم مجھے اکیلا چھوڑ کر کیوں مر گئے، تمہیں کم از کم چند دن اور میرا انتظار کرنا چاہیے تھا۔

ہوس کو ہے نشاط

ہوس کو ہے نشاط کار کیا کیا

نہ ہو مرنا تو جینے کا مزا کیا

Explanation: انسان کی دنیاوی خواہشات (ہوس) اسے زندگی میں بے شمار مصروفیتیں اور لذتیں دیتی ہیں، لیکن شاعر کہتا ہے کہ زندگی کی ان تمام خوشیوں کا اصل مزہ اور سنسنی صرف اسی لیے ہے کیونکہ آخر میں موت کا خوف موجود ہے۔

ضد کی ہے اور

ضد کی ہے اور بات مگر خو بری نہیں

بھولے سے اس نے سیکڑوں وعدے وفا کئے

Explanation: محبوب کے متضاد رویے کی تعریف ہے، عاشق کہتا ہے کہ محبوب ویسے تو بہت ضدی ہے، لیکن اس کا دل برا نہیں، کیونکہ جب وہ ضد میں نہیں ہوتا تو وہ معصومیت میں بھول کر ایسے کئی وعدے پورے کر دیتا ہے جن کی امید بھی نہیں ہوتی۔

گنجایش عداوت اغیار یک

گنجایش عداوت اغیار یک طرف

یاں دل میں ضعف سے ہوس یار بھی نہیں

Explanation: عاشق بیماری اور کمزوری سے اس قدر نڈھال ہو چکا ہے کہ رقیبوں سے دشمنی اور حسد کرنا تو بہت دور کی بات ہے، اس کے دل میں تو اب خود اپنے محبوب کے ملنے کی خواہش (ہوس) کرنے کی طاقت بھی باقی نہیں رہی۔

کبھی نیکی بھی اس

کبھی نیکی بھی اس کے جی میں گر آ جائے ہے مجھ سے

جفائیں کر کے اپنی یاد شرما جائے ہے مجھ سے

Explanation: محبوب کا مزاج ظلم کرنے کا اس قدر عادی ہو چکا ہے کہ اگر کبھی غلطی سے اس کے دل میں عاشق پر رحم یا نیکی کا خیال آ بھی جائے، تو وہ اپنے پرانے ظلم یاد کر کے خود ہی شرمندہ ہو کر رک جاتا ہے۔

گر کیا ناصح نے

گر کیا ناصح نے ہم کو قید اچھا یوں سہی

یہ جنون عشق کے انداز چھٹ جاویں گے کیا

Explanation: نصیحت کرنے والے نے عاشق کو پاگل خانے میں قید تو کر دیا، مگر عاشق ہنستے ہوئے کہتا ہے کہ تم میرے جسم کو تو قید کر سکتے ہو، لیکن کیا اس دیواروں کی قید سے میرے اندر کا عشق اور میری دیوانگی بھی ختم ہو جائے گی؟

مے وہ کیوں بہت

مے وہ کیوں بہت پیتے بزم غیر میں یا رب

آج ہی ہوا منظور ان کو امتحاں اپنا

Explanation: عاشق کی بدقسمتی کا عجیب منظر ہے کہ محبوب نے رقیبوں کی محفل میں ضرورت سے زیادہ شراب پی لی تاکہ اسے نشہ چڑھے، اور وہ اس بہانے عاشق کے صبر کا امتحان لے کر اسے جلانا چاہتا ہے۔

زمانہ سخت کم آزار

زمانہ سخت کم آزار ہے بہ جان اسدؔ

وگرنہ ہم تو توقع زیادہ رکھتے ہیں

Explanation: یہ غالب کا دنیا اور اپنی قسمت پر ایک زبردست طنز ہے کہ یہ زمانہ مجھ پر ظلم کرنے میں بہت کنجوسی دکھا رہا ہے، میرے اندر درد سہنے کا جو ظرف ہے، اس کے مطابق تو میں زمانے سے کہیں زیادہ مصیبتوں اور دکھوں کی توقع کر رہا تھا۔

نہ گل نغمہ ہوں

نہ گل نغمہ ہوں نہ پردۂ ساز

میں ہوں اپنی شکست کی آواز

Explanation: شاعر اپنی حیثیت اور زندگی کا نچوڑ بیان کرتا ہے کہ میں دنیا میں کوئی خوشی کا گیت یا دلکش موسیقی (ساز) نہیں ہوں، بلکہ میں تو صرف اپنے ٹوٹنے اور برباد ہونے کی ایک دردناک آواز ہوں۔

خدایا جذبۂ دل کی

خدایا جذبۂ دل کی مگر تاثیر الٹی ہے

کہ جتنا کھینچتا ہوں اور کھنچتا جائے ہے مجھ سے

Explanation: سچی محبت کا ایک عجیب معمہ ہے کہ عاشق اپنے جذبے اور محبت کی کشش سے محبوب کو جتنا اپنے قریب کھینچنے کی کوشش کرتا ہے، محبوب اتنی ہی تیزی سے اس سے دور بھاگنے لگتا ہے۔

جب تک کہ نہ

جب تک کہ نہ دیکھا تھا قد یار کا عالم

میں معتقد فتنۂ محشر نہ ہوا تھا

Explanation: شاعر کہتا ہے کہ مجھے مذہب کی باتوں پر یقین نہیں تھا اور میں قیامت کے دن کی تباہی کو نہیں مانتا تھا، مگر جس دن میں نے اپنے محبوب کے لمبے قد اور اس کی چال (فتنہ) کو دیکھا، تو مجھے یقین آ گیا کہ قیامت واقعی ہوتی ہے۔

نہ ہوئی گر مرے

نہ ہوئی گر مرے مرنے سے تسلی نہ سہی

امتحاں اور بھی باقی ہو تو یہ بھی نہ سہی

Explanation: عاشق نے عشق میں اپنی جان تک دے دی، مگر محبوب کا غرور پھر بھی کم نہ ہوا، اس پر عاشق کہتا ہے کہ اگر میرے مرنے پر بھی تمہاری تسلی نہیں ہوئی تو بتاؤ، کیا موت کے بعد بھی کوئی اور امتحان باقی ہے جو میں دوں؟

ہے خیال حسن میں

ہے خیال حسن میں حسن عمل کا سا خیال

خلد کا اک در ہے میری گور کے اندر کھلا

Explanation: عاشق قبر کے اندر بھی محبوب کے حسن کے خیالوں میں کھویا ہوا ہے، اور یہ خیال اسے اتنی خوشی اور سکون دے رہا ہے جیسے کسی نیک انسان کو اس کی نیکیوں کی وجہ سے قبر میں جنت کا دروازہ کھل جانے سے سکون ملتا ہے۔

اپنا نہیں یہ شیوہ

اپنا نہیں یہ شیوہ کہ آرام سے بیٹھیں

اس در پہ نہیں بار تو کعبہ ہی کو ہو آئے

Explanation: غالب اپنی آوارہ مزاجی اور بے چینی کا ذکر کرتے ہیں کہ ایک جگہ ٹک کر بیٹھنا ہماری فطرت نہیں، اگر محبوب کے دروازے پر ہمیں داخلے کی اجازت نہیں ملی تو کوئی بات نہیں، ہم جا کر کعبے کا چکر لگا آتے ہیں۔

ہمارے شعر ہیں اب

ہمارے شعر ہیں اب صرف دل لگی کے اسدؔ

کھلا کہ فائدہ عرض ہنر میں خاک نہیں

Explanation: غالب دنیا کی بے قدری سے مایوس ہو کر کہتے ہیں کہ ہم نے سمجھ لیا ہے کہ اس جاہل معاشرے میں اپنی قابلیت اور فن دکھانے کا کوئی فائدہ نہیں، اس لیے اب ہم صرف اپنا دل بہلانے کے لیے ہلکی پھلکی شاعری کرتے ہیں۔

محبت تھی چمن سے

محبت تھی چمن سے لیکن اب یہ بے دماغی ہے

کہ موج بوئے گل سے ناک میں آتا ہے دم میرا

Explanation: یہ طبیعت کی بیزاری کی انتہا ہے کہ ایک وقت تھا جب مجھے اس باغ اور بہار سے شدید محبت تھی، لیکن اب ہجر کے دکھ نے میرا دماغ اتنا خراب کر دیا ہے کہ پھولوں کی خوشبو سے بھی مجھے سانس لینے میں گھٹن محسوس ہوتی ہے۔

غلطی ہائے مضامیں مت

غلطی ہائے مضامیں مت پوچھ

لوگ نالے کو رسا باندھتے ہیں

Explanation: یہ عام شاعروں اور لوگوں کی کم عقلی پر طنز ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ رونے اور فریاد کرنے سے انسان کو منزل مل جاتی ہے، حالانکہ عشق کا قانون یہ ہے کہ نالے اور فریادیں کبھی منزل تک نہیں پہنچا سکتیں۔

ہوں گرفتار الفت صیاد

ہوں گرفتار الفت صیاد

ورنہ باقی ہے طاقت پرواز

Explanation: قید میں موجود پرندہ (عاشق) اپنی وفاداری کا ثبوت دیتے ہوئے کہتا ہے کہ میرے پر ابھی تک سلامت ہیں اور میں اڑ کر بھاگ سکتا ہوں، مگر میں صرف اس لیے پنجرے میں بیٹھا ہوں کیونکہ مجھے اپنے شکاری (محبوب) سے محبت ہو گئی ہے۔

نے تیر کماں میں

نے تیر کماں میں ہے نہ صیاد کمیں میں

گوشے میں قفس کے مجھے آرام بہت ہے

Explanation: یہ ایک خوفناک سکون کا اظہار ہے کہ جب شکاری مر چکا اور اس کا ظلم ختم ہو گیا، تو پرندے کو بھی آزاد ہونے کی کوئی خواہش نہیں رہی، بلکہ وہ اسی قید خانے کی ایک کونے میں پڑا رہنے میں ہی سکون محسوس کر رہا ہے۔