Explanation: عاشق اپنی بدقسمتی اور رقیبوں کی خوش نصیبی پر روتا ہے کہ دشمن تو محفل میں بیٹھ کر محبوب کے ہاتھوں سے شراب کے جام پی رہے ہیں، اور میں اتنا بے بس ہوں کہ باہر کھڑا محبوب کے ایک پیغام کے لیے ترس رہا ہوں۔
نظارہ نے بھی کام
نظارہ نے بھی کام کیا واں نقاب کا
مستی سے ہر نگہ ترے رخ پر بکھر گئی
Explanation: محبوب کا چہرہ اس قدر حسین اور پرنور ہے کہ اسے دیکھنے والوں کی نظریں تاب نہ لا کر خود ہی چکرا گئیں اور بکھر گئیں، گویا عاشقوں کی اپنی نظروں نے ہی ان کے اور محبوب کے درمیان ایک نقاب کا کام کیا۔
کہتے ہوے ساقی سے
کہتے ہوے ساقی سے حیا آتی ہے ورنہ
ہے یوں کہ مجھے درد تہ جام بہت ہے
Explanation: عاشق مے خانے میں ساقی سے مزید شراب مانگنے میں جھجک محسوس کر رہا ہے، وہ دل میں سوچتا ہے کہ شرم کے مارے میرے منہ سے آواز نہیں نکل رہی ورنہ حقیقت یہ ہے کہ پیالے کی تلچھٹ (بچی ہوئی شراب) سے میری پیاس نہیں بجھی۔
ایک ایک قطرہ کا
ایک ایک قطرہ کا مجھے دینا پڑا حساب
خون جگر ودیعت مژگان یار تھا
Explanation: عاشق کہتا ہے کہ میرے جگر کا سارا خون دراصل محبوب کی آنکھوں (پلکوں) کی امانت تھا، اس لیے جب میں نے عشق میں تڑپ کر آنسوؤں کی صورت میں خون بہایا، تو مجھے اس خون کے ایک ایک قطرے کا محبوب کو حساب دینا پڑا۔
چاہتے ہیں خوب رویوں
چاہتے ہیں خوب رویوں کو اسدؔ
آپ کی صورت تو دیکھا چاہیئے
Explanation: غالب خود پر طنز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میاں اسد! تم دنیا کے حسین ترین لوگوں سے محبت کرنے کی خواہش رکھتے ہو، کبھی آئینے میں جا کر اپنی شکل تو دیکھو کہ کیا تمہاری اوقات ہے کہ تم ایسے دعوے کرو۔
ضعف میں طعنۂ اغیار
ضعف میں طعنۂ اغیار کا شکوہ کیا ہے
بات کچھ سر تو نہیں ہے کہ اٹھا بھی نہ سکوں
Explanation: عاشق کمزوری اور بیماری کی حالت میں ہے، لوگ اس پر طعنے کس رہے ہیں مگر وہ مسکرا کر کہتا ہے کہ کمزوری کی وجہ سے میں کوئی بھاری بوجھ تو نہیں اٹھا سکتا مگر یہ طعنے محض باتیں ہی تو ہیں، یہ بوجھ میں آسانی سے اٹھا سکتا ہوں۔
دل میں پھر گریہ
دل میں پھر گریہ نے اک شور اٹھایا غالبؔ
آہ جو قطرہ نہ نکلا تھا سو طوفاں نکلا
Explanation: عاشق نے بہت عرصے تک اپنے آنسوؤں کو روک کر رکھا ہوا تھا، لیکن جب یہ ضبط ٹوٹا تو وہ آنسو جو پہلے قطرہ بن کر نہیں نکلتے تھے، آج وہ ایک خوفناک طوفان کی شکل میں بہہ نکلے۔
ہاں اے فلک پیر
ہاں اے فلک پیر جواں تھا ابھی عارف
کیا تیرا بگڑتا جو نہ مرتا کوئی دن اور
Explanation: غالب اپنے جوان بیٹے عارف کی موت پر آسمان (قسمت) کو کوس رہے ہیں کہ اے بڈھے آسمان، میرا عارف تو ابھی جوان تھا، اگر تو اسے چند دن اور جینے دیتا تو تیرا کیا نقصان ہو جاتا۔
پی جس قدر ملے
پی جس قدر ملے شب مہتاب میں شراب
اس بلغمی مزاج کو گرمی ہی راس ہے
Explanation: غالب اپنی شراب نوشی کا ایک دلچسپ طبی اور مزاحیہ جواز پیش کرتے ہیں کہ چاندنی رات کی ٹھنڈک میرے بلغمی اور سرد مزاج کو نقصان پہنچاتی ہے، اس لیے میں اپنے جسم کو گرم رکھنے کے لیے شراب پیتا ہوں۔
پوچھے ہے کیا وجود
پوچھے ہے کیا وجود و عدم اہل شوق کا
آپ اپنی آگ کے خس و خاشاک ہو گئے
Explanation: سچے عاشقوں کا انجام یہ ہوتا ہے کہ انہیں فنا کرنے کے لیے کسی بیرونی دشمن کی ضرورت نہیں پڑتی، وہ اپنی ہی محبت کی آگ کی شدت میں خشک لکڑیوں کی طرح جل کر راکھ ہو جاتے ہیں۔
جہاں تیرا نقش قدم
جہاں تیرا نقش قدم دیکھتے ہیں
خیاباں خیاباں ارم دیکھتے ہیں
Explanation: محبوب کی چال اور اس کے قدموں کی برکت کا بیان ہے کہ جہاں جہاں محبوب کے قدم پڑتے ہیں، وہ سوکھی زمین بھی باغِ ارم (جنت کا باغ) کی طرح سرسبز اور خوبصورت ہو جاتی ہے۔
لیتا ہوں مکتب غم
لیتا ہوں مکتب غم دل میں سبق ہنوز
لیکن یہی کہ رفت گیا اور بود تھا
Explanation: عاشق نے ساری زندگی غم کے مدرسے میں گزاری ہے مگر وہ کہتا ہے کہ میں نے اپنی پوری زندگی کے دکھوں سے صرف یہی ایک سبق سیکھا ہے کہ جو انسان آیا ہے وہ ایک دن مر جائے گا، یعنی سب کچھ فانی ہے۔
ثابت ہوا ہے گردن
ثابت ہوا ہے گردن مینا پہ خون خلق
لرزے ہے موج مے تری رفتار دیکھ کر
Explanation: شراب کی بوتل (مینا) کے کانپنے اور شراب گرنے کی شاعرانہ وجہ بیان کی گئی ہے کہ محبوب کی قاتل چال دیکھ کر شراب ڈر کے مارے کانپنے لگی ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس نے ماضی میں کئی عاشقوں کا خون کیا ہے۔
پنہاں تھا دام سخت
پنہاں تھا دام سخت قریب آشیان کے
اڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے
Explanation: انسان کی زندگی اور موت کے اچانک ہونے کا استعارہ ہے کہ ہم نے ابھی دنیا میں جنم ہی لیا تھا اور ٹھیک سے جینا بھی نہیں سیکھا تھا کہ موت اور مصیبتوں کے جال نے ہمیں گھونسلے کے پاس ہی دبوچ لیا۔
شعر غالبؔ کا نہیں
شعر غالبؔ کا نہیں وحی یہ تسلیم مگر
بخدا تم ہی بتا دو نہیں لگتا الہام
Explanation: غالب اپنی شاعری کی بلندی کا اقرار کرتے ہیں کہ میں جانتا ہوں کہ میری شاعری کوئی مذہبی وحی نہیں ہے، مگر خدا کی قسم تم خود سوچ کر بتاؤ، کیا میرے یہ اشعار الہام (خدا کی طرف سے دل میں اتاری گئی بات) جیسے محسوس نہیں ہوتے؟
اے نوا ساز تماشا
اے نوا ساز تماشا سر بکف جلتا ہوں میں
اک طرف جلتا ہے دل اور اک طرف جلتا ہوں میں
Explanation: عاشق دنیا والوں کو اپنی دہری اذیت کا تماشا دکھاتے ہوئے کہتا ہے کہ میرے جلنے اور تڑپنے کا منظر دیکھو، ایک طرف میرا دل محبت کی آگ میں راکھ ہو رہا ہے اور دوسری طرف خود میں اپنے جسم اور جان کے ساتھ جل رہا ہوں۔
وعدہ آنے کا وفا
وعدہ آنے کا وفا کیجے یہ کیا انداز ہے
تم نے کیوں سونپی ہے میرے گھر کی دربانی مجھے
Explanation: محبوب نے آنے کا وعدہ کیا تھا مگر نہیں آیا، اور عاشق رات بھر دروازے پر کھڑا اس کا انتظار کرتا رہا، صبح غصے میں عاشق کہتا ہے کہ اگر نہیں آنا تھا تو بتا دیتے، مجھے اپنے ہی گھر کا چوکیدار کیوں بنا دیا۔
ضعف سے گریہ مبدل
ضعف سے گریہ مبدل بہ دم سرد ہوا
باور آیا ہمیں پانی کا ہوا ہو جانا
Explanation: بیماری کی وجہ سے آنسو ختم ہو گئے اور رونے کی جگہ صرف ٹھنڈی آہیں نکلنے لگیں، شاعر کہتا ہے کہ آج مجھے سائنس کے اس قانون پر یقین آ گیا کہ پانی (آنسو) گرم ہو کر کس طرح ہوا (ٹھنڈی سانس) میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
رشک کہتا ہے کہ
رشک کہتا ہے کہ اس کا غیر سے اخلاص حیف
عقل کہتی ہے کہ وہ بے مہر کس کا آشنا
Explanation: حسد اور عقل کی لڑائی ہے، عاشق کا حسد اسے اکساتا ہے کہ محبوب دشمنوں سے کیوں مل رہا ہے، جبکہ اس کی عقل اسے تسلی دیتی ہے کہ پریشان مت ہو، وہ ظالم تو کسی کا بھی سگا نہیں، کل وہ دشمنوں کو بھی اسی طرح چھوڑ دے گا۔
ترے جواہر طرف کلہ
ترے جواہر طرف کلہ کو کیا دیکھیں
ہم اوج طالع لعل و گہر کو دیکھتے ہیں
Explanation: محبوب کی ٹوپی میں سجے ہوئے ہیرے جواہرات دیکھ کر عاشق کہتا ہے کہ ہم ان پتھروں کی قیمت نہیں دیکھ رہے، بلکہ ہم ان پتھروں کی خوش قسمتی پر رشک کر رہے ہیں کہ انہیں تیرے ماتھے پر سجنے کا اعزاز مل گیا۔