Explanation: عشق میں محبوب کی ہر زیادتی کو خوشی سے قبول کرنے کا جذبہ ہے کہ اگر محبوب ہماری جان لے لے تو ہم الٹا اسے اپنی جان کا تحفہ پیش کریں، اور اگر وہ ہماری زبان کاٹ دے تو ہم اس کے خنجر کو چوم لیں۔
دیکھنا قسمت کہ آپ
دیکھنا قسمت کہ آپ اپنے پہ رشک آ جائے ہے
میں اسے دیکھوں بھلا کب مجھ سے دیکھا جائے ہے
Explanation: محبوب کا حسن اس قدر تیز اور شاندار ہے کہ عاشق کی آنکھیں اسے براہ راست دیکھنے کی تاب نہیں لاتیں، لیکن جب عاشق یہ سوچتا ہے کہ وہ اتنا حسین میرا محبوب ہے، تو اسے اپنی ہی خوش قسمتی پر رشک آنے لگتا ہے۔
غیر کو یا رب
غیر کو یا رب وہ کیونکر منع گستاخی کرے
گر حیا بھی اس کو آتی ہے تو شرما جائے ہے
Explanation: محبوب کی بے حد شرمیلی فطرت پر ایک میٹھا سا طنز ہے کہ جب کوئی دشمن میرے محبوب کے ساتھ بدتمیزی کرتا ہے تو میرا محبوب اسے روکنے کے بجائے شرم کے مارے اپنا ہی منہ چھپا لیتا ہے، اس لیے وہ کبھی میرا دفاع نہیں کر پاتا۔
میں اور بزم مے
میں اور بزم مے سے یوں تشنہ کام آؤں
گر میں نے کی تھی توبہ ساقی کو کیا ہوا تھا
Explanation: عاشق مے خانے سے پیاسا واپس آنے پر حیران ہے، وہ کہتا ہے کہ مانا میں نے شراب پینے سے توبہ کر لی تھی، لیکن ساقی تو میرا دوست تھا، اس نے زبردستی میری توبہ توڑ کر مجھے شراب کیوں نہیں پلائی۔
بیٹھا ہے جو کہ
بیٹھا ہے جو کہ سایۂ دیوار یار میں
فرماں رواۓ کشور ہندوستان ہے
Explanation: یہ عشق کی بادشاہی کا دعویٰ ہے کہ عاشق کے نزدیک دنیا کا اصل بادشاہ وہ نہیں جو تخت پر بیٹھا ہو، بلکہ اصلی خوش نصیب اور حکمران وہ ہے جسے اپنے محبوب کی دیوار کے سائے میں بیٹھنے کی جگہ مل جائے۔
سر پائے خم پہ
سر پائے خم پہ چاہیئے ہنگام بے خودی
رو سوئے قبلہ وقت مناجات چاہیئے
Explanation: یہ زندگی کے دو مختلف رویوں کا توازن ہے، غالب کہتے ہیں کہ جب مستی اور دنیا کو بھلانے کا وقت ہو تو سر شراب کے مٹکے پر ہونا چاہیے، اور جب دعا مانگنی ہو تو انسان کا رخ پورے خلوص سے قبلے کی طرف ہونا چاہیے۔
ہاں اہل طلب کون
ہاں اہل طلب کون سنے طعنۂ نایافت
دیکھا کہ وہ ملتا نہیں اپنے ہی کو کھو آئے
Explanation: عشق میں ناکامی کا طعنہ سننا عاشق کی انا کو گوارا نہیں، اس لیے جب اسے لگا کہ وہ محبوب کو پانے میں کامیاب نہیں ہو سکتا، تو اس نے شکست ماننے کے بجائے خود کو ہی ختم کر لیا تاکہ دنیا اسے طعنہ نہ دے سکے۔
میں اور صد ہزار
میں اور صد ہزار نواۓ جگر خراش
تو اور ایک وہ نا شنیدن کہ کیا کہوں
Explanation: یہ عاشق کی بے بسی اور محبوب کی بے نیازی کی انتہا ہے کہ ایک طرف عاشق سینکڑوں دردناک آہیں اور فریادیں کر رہا ہے، اور دوسری طرف محبوب کا ایسا سنگدلانہ رویہ ہے کہ وہ ایک بھی بات سننے کو تیار نہیں۔
فرداودی کا تفرقہ یک
فرداودی کا تفرقہ یک بار مٹ گیا
کل تم گئے کہ ہم پہ قیامت گزر گئی
Explanation: محبوب کے جانے کا صدمہ اس قدر شدید تھا کہ عاشق کا وقت کا تصور (آج اور کل) ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا، محبوب کے مڑتے ہی عاشق پر ایسی قیامت ٹوٹی کہ اس کی زندگی وہیں تھم گئی۔
ہوس گل کے تصور
ہوس گل کے تصور میں بھی کھٹکا نہ رہا
عجب آرام دیا بے پر و بالی نے مجھے
Explanation: قید میں بند پرندے کا ایک مثبت پہلو ہے کہ جب تک میرے پر سلامت تھے مجھے اڑنے کی تڑپ اور پریشانی کھائے جاتی تھی، لیکن اب جب میرے پر ہی کاٹ دیے گئے ہیں تو میں ان فضول خواہشوں سے آزاد ہو کر پرسکون ہو گیا ہوں۔
ہوس گل کے تصور
ہوس گل کے تصور میں بھی کھٹکا نہ رہا
عجب آرام دیا بے پر و بالی نے مجھے
Explanation: یہ انسان کی اس کیفیت کا بیان ہے جب وہ تمام مادی خواہشات اور امیدوں سے دستبردار ہو جاتا ہے۔ جب کوشش کرنے کی طاقت ہی ختم ہو جائے تو پھر ناکامی کا ڈر بھی مٹ جاتا ہے اور ایک عجیب سا سکون ملتا ہے۔
گرچہ ہے طرز تغافل
گرچہ ہے طرز تغافل پردہ دار راز عشق
پر ہم ایسے کھوئے جاتے ہیں کہ وہ پا جائے ہے
Explanation: عاشق محبوب کی نظر اندازی (تغافل) کو ایک پردہ سمجھتا تھا جس سے عشق چھپا رہتا، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ محبوب کو دیکھتے ہی عاشق اس قدر بے خود ہو جاتا ہے کہ محبوب آسانی سے اس کے عشق کا راز جان لیتا ہے۔
اک خونچکاں کفن میں
اک خونچکاں کفن میں کروڑوں بناؤ ہیں
پڑتی ہے آنکھ تیرے شہیدوں پہ حور کی
Explanation: یہاں عشق میں جان دینے والوں کا رتبہ بیان کیا گیا ہے، عاشق کا خون آلود کفن عام کپڑا نہیں بلکہ ایک ایسا سجا سجایا لباس ہے جسے دیکھ کر جنت کی حوریں بھی اس شہیدِ وفا کے حسن پر فریفتہ ہو جاتی ہیں۔
نہ بندھے تشنگی ذوق
نہ بندھے تشنگی ذوق کے مضموں غالبؔ
گرچہ دل کھول کے دریا کو بھی ساحل باندھا
Explanation: غالب اپنی شعری وسعت کی بات کرتے ہیں کہ میں نے اپنی پیاس اور تڑپ کے خیالات کو الفاظ دینے کے لیے دریا کو ساحل کے اندر باندھنے کی ناممکن کوشش کی، مگر پھر بھی میری پیاس (شوق) کا صحیح مفہوم ادا نہ ہو سکا۔
مزے جہان کے اپنی
مزے جہان کے اپنی نظر میں خاک نہیں
سوائے خون جگر سو جگر میں خاک نہیں
Explanation: دنیا کی تمام عیاشیاں اور خوشیاں شاعر کے نزدیک مٹی سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتیں، اس کے نزدیک زندگی کا اصل مزہ عشق میں جگر کا خون کرنا ہے، لیکن اب حالت یہ ہے کہ جگر میں وہ خون بھی باقی نہیں بچا۔
ہے کیا جو کس
ہے کیا جو کس کے باندھئے میری بلا ڈرے
کیا جانتا نہیں ہوں تمہاری کمر کو میں
Explanation: محبوب نے دھمکی دی کہ میں کمر کس کے (تیار ہو کر) تم پر ظلم کروں گا، شاعر مسکرا کر کہتا ہے کہ تمہاری اتنی پتلی اور نازک کمر ہے جو دکھائی بھی نہیں دیتی، اس سے مجھے کیا ڈر لگے گا۔
نشۂ رنگ سے ہے
نشۂ رنگ سے ہے واشد گل
مست کب بند قبا باندھتے ہیں
Explanation: بہار اور مستی کی خوبصورت تصویر ہے کہ پھول اپنی خوبصورتی اور رنگ کے نشے میں اس قدر مست ہو چکے ہیں کہ انہوں نے اپنے لباس کے بٹن (پتیاں) کھول دیے ہیں، کیونکہ نشے میں دھت انسان کو کپڑے سنبھالنے کا ہوش نہیں رہتا۔
منہ نہ دکھلاوے نہ
منہ نہ دکھلاوے نہ دکھلا پر بہ انداز عتاب
کھول کر پردہ ذرا آنکھیں ہی دکھلا دے مجھے
Explanation: عاشق کو محبوب کا غصہ بھی گوارا ہے، وہ التجا کرتا ہے کہ اگر تجھے مجھ سے اتنی نفرت ہے کہ تو اپنا پورا چہرہ نہیں دکھانا چاہتا، تو صرف غصے سے آنکھیں نکالنے کے لیے ہی سہی، تھوڑا سا پردہ ہٹا کر درشن تو کروا دے۔
شاہد ہستی مطلق کی
شاہد ہستی مطلق کی کمر ہے عالم
لوگ کہتے ہیں کہ ہے پر ہمیں منظور نہیں
Explanation: یہ وحدت الوجود کا بیان ہے کہ دنیا والے اس کائنات کو حقیقت (محبوب کی کمر) سمجھتے ہیں جو بظاہر نظر آتی ہے، مگر غالب کہتے ہیں کہ جس طرح محبوب کی پتلی کمر کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں ہوتا، یہ دنیا بھی ایک واہمہ ہے۔
حریف مطلب مشکل نہیں
حریف مطلب مشکل نہیں فسون نیاز
دعا قبول ہو یا رب کہ عمر خضر دراز!
Explanation: منزل پانے کے لیے عاجزی (نیاز) کا جادو بہت کارآمد ہے، لیکن اس راستے میں وقت بہت لگتا ہے، اس لیے عاشق دعا کرتا ہے کہ یا اللہ میری اس التجا کو قبول کر یا پھر مجھے خضرؑ جیسی لمبی زندگی دے تاکہ میں اپنا مقصد پا سکوں۔