Skip to content

Mirza Ghalib

ہم سے کھل جاؤ

ہم سے کھل جاؤ بوقت مے پرستی ایک دن

ورنہ ہم چھیڑیں گے رکھ کر عذر مستی ایک دن

Explanation: عاشق محبوب کو پیار بھری دھمکی دے رہا ہے کہ ہم سے پردہ ختم کر کے بے تکلف ہو جاؤ، ورنہ کسی دن میں شراب کی مستی کا بہانہ بنا کر سرعام تمہیں چھیڑ دوں گا اور تمہارا پردہ چاک کر دوں گا۔

ستائش گر ہے زاہد

ستائش گر ہے زاہد اس قدر جس باغ رضواں کا

وہ اک گلدستہ ہے ہم بے خودوں کے طاق نسیاں کا

Explanation: غالب جنت کی تعریف کرنے والے مولوی پر طنز کرتے ہیں کہ تو جس جنت کی اتنی تعریفیں کرتا ہے، عشقِ حقیقی میں مست رہنے والے درویشوں کے نزدیک وہ جنت محض ایک بھولا ہوا گلدستہ ہے جس کی کوئی اہمیت نہیں۔

میں نے جنوں سے

میں نے جنوں سے کی جو اسدؔ التماس رنگ

خون جگر میں ایک ہی غوطہ دیا مجھے

Explanation: جب میں نے اپنے جنون سے کہا کہ میری زندگی میں کوئی گہرا رنگ بھر دے، تو اس نے کسی عام رنگ کے بجائے مجھے میرے ہی کٹتے ہوئے جگر کے خون میں ڈبو کر مجھے درد کا ایسا رنگ دیا جو کبھی نہیں اتر سکتا۔

خدا شرمائے ہاتھوں کو

خدا شرمائے ہاتھوں کو کہ رکھتے ہیں کشاکش میں

کبھی میرے گریباں کو کبھی جاناں کے دامن کو

Explanation: عاشق کے ہاتھوں کی عجیب کشمکش ہے، وہ دیوانگی میں کبھی اپنے کپڑے (گریبان) پھاڑنے لگتا ہے، اور جب ہوش آتا ہے تو التجا کے لیے محبوب کا دامن پکڑ لیتا ہے، یوں ہاتھ دونوں طرف مصروف رہتے ہیں۔

گئی وہ بات کہ

گئی وہ بات کہ ہو گفتگو تو کیونکر ہو

کہے سے کچھ نہ ہوا پھر کہو تو کیونکر ہو

Explanation: یہ تعلق کے آخری مقام کی اداسی ہے، عاشق کہتا ہے کہ اب بات کرنے کی کوئی گنجائش نہیں بچی، جب پہلے کی گئی اتنی التجاؤں اور باتوں کا محبوب پر کوئی اثر نہیں ہوا تو اب دوبارہ بات کرنے کا کیا فائدہ۔

ناکامی نگاہ ہے برق

ناکامی نگاہ ہے برق نظارہ سوز

تو وہ نہیں کہ تجھ کو تماشا کرے کوئی

Explanation: محبوب کا جلوہ اس قدر تیز اور جلال والا (بجلی جیسا) ہے کہ کوئی بھی انسانی آنکھ اسے براہ راست نہیں دیکھ سکتی، اور جو دیکھنے کی کوشش کرتا ہے اس کی بینائی جل جاتی ہے، اس لیے وہ تماشے کی چیز نہیں۔

کیوں نہ ٹھہریں ہدف

کیوں نہ ٹھہریں ہدف ناوک بے داد کہ ہم

آپ اٹھا لیتے ہیں گر تیر خطا ہوتا ہے

Explanation: عاشق کی قربانی کی انتہا دیکھو کہ وہ محبوب کے ظلم کا نشانہ بننے کو بھی فخر سمجھتا ہے، اگر محبوب کا مارا ہوا تیر عاشق کو نہیں لگتا تو عاشق خود جا کر اس تیر کو اٹھاتا ہے اور اپنے سینے میں کھوب لیتا ہے۔

کافی ہے نشانی ترا

کافی ہے نشانی ترا چھلے کا نہ دینا

خالی مجھے دکھلا کے بہ وقت سفر انگشت

Explanation: محبوب جاتے ہوئے عاشق کو کوئی تحفہ یا نشانی (چھلا) نہیں دینا چاہتا، تو وہ اپنی خالی انگلی دکھا کر رخصت ہو جاتا ہے، عاشق کہتا ہے کہ تیری اس خالی انگلی کا دکھ ہی میرے لیے زندگی بھر کی نشانی بن گیا ہے۔

جلوے کا تیرے وہ

جلوے کا تیرے وہ عالم ہے کہ گر کیجے خیال

دیدۂ دل کو زیارت گاہ حیرانی کرے

Explanation: محبوب کا حسن اتنا شاندار ہے کہ اس کے سامنے کھڑے ہو کر دیکھنا تو دور کی بات، اگر عاشق صرف تصور میں بھی اس کا خیال لائے تو اس کا دل اس حیرت انگیز خوبصورتی کو دیکھ کر ایک عبادت گاہ کی طرح سجدے میں گر جاتا ہے۔

آگ سے پانی میں

آگ سے پانی میں بجھتے وقت اٹھتی ہے صدا

ہر کوئی درماندگی میں نالہ سے ناچار ہے

Explanation: انسان کی فطری مجبوری کا بیان ہے کہ جب کسی گرم لوہے یا آگ کو پانی میں ڈالا جائے تو بجھتے وقت وہ بھی چھن کی آواز نکالتا ہے، اسی طرح جب انسان پر تکلیف کی انتہا ہوتی ہے تو اس کے منہ سے چیخ نکلنا مجبوری ہے۔

فکر دنیا میں سر

فکر دنیا میں سر کھپاتا ہوں

میں کہاں اور یہ وبال کہاں

Explanation: غالب اپنی دنیاوی پریشانیوں پر طنز کرتے ہیں کہ میرا مزاج تو عاشقانہ اور قلندری تھا، یہ مجھے کیا روزی روٹی اور دنیا داری کے عذاب میں پھنسا دیا گیا ہے جو میری فطرت سے بالکل میل نہیں کھاتا۔

دھوتا ہوں جب میں

دھوتا ہوں جب میں پینے کو اس سیم تن کے پانو

رکھتا ہے ضد سے کھینچ کے باہر لگن کے پانو

Explanation: محبوب کی ضد اور نخرے کی انتہا ہے کہ عاشق عقیدت سے اس کے قدم دھونے اور وہ پانی پینے کی کوشش کرتا ہے، مگر محبوب اتنا ضدی ہے کہ وہ جان بوجھ کر برتن (لگن) سے اپنے پیر باہر نکال لیتا ہے تاکہ عاشق یہ کام نہ کر سکے۔

میں بھی رک رک

میں بھی رک رک کے نہ مرتا جو زباں کے بدلے

دشنہ اک تیز سا ہوتا مرے غم خوار کے پاس

Explanation: عاشق کو طعنے دینے والے دوست پر غصہ ہے کہ تو مجھے اپنی کڑوی باتوں سے گھونٹ گھونٹ کر کے کیوں مار رہا ہے، اس زبان سے بہتر تھا کہ تیرے ہاتھ میں خنجر ہوتا اور تو مجھے ایک ہی وار میں ختم کر دیتا۔

جراحت تحفہ الماس ارمغاں

جراحت تحفہ الماس ارمغاں داغ جگر ہدیہ

مبارک باد اسدؔ غم خوار جان دردمند آیا

Explanation: غالب طنزیہ طور پر اپنے ہمدرد کا استقبال کرتے ہیں کہ آؤ دوست، تم میرے لیے نئے زخم، چبھنے والے ہیرے اور دل جلانے والے داغ لے کر آئے ہو، میرے دکھ کو بڑھانے پر تمہیں مبارکباد ہو۔

کی اس نے گرم

کی اس نے گرم سینۂ اہل ہوس میں جا

آوے نہ کیوں پسند کہ ٹھنڈا مکان ہے

Explanation: عاشق طنز کرتا ہے کہ محبوب نے ایک حوس پرست اور بے حس انسان (رقیب) کے سینے میں جا کر جگہ بنا لی، کیونکہ ایسے لوگوں کا دل جذبات سے خالی اور ٹھنڈا ہوتا ہے، اور محبوب کو ہمیشہ ٹھنڈا مکان ہی پسند آتا ہے۔

بساط عجز میں تھا

بساط عجز میں تھا ایک دل یک قطرہ خوں وہ بھی

سو رہتا ہے بہ انداز چکیدن سرنگوں وہ بھی

Explanation: عاشق کی کمزوری کا عالم یہ ہے کہ اس کے پاس دولت کے نام پر صرف ایک دل تھا جو خون کے ایک قطرے جیسا ہے، اور وہ قطرہ بھی ہر وقت آنکھوں سے ٹپکنے کے لیے تیار رہتا ہے، گویا میرے پاس کچھ باقی نہیں بچا۔

بے دماغ خجلت ہوں

بے دماغ خجلت ہوں رشک امتحاں تا کے

ایک بیکسی تجھ کو عالم آشنا پایا

Explanation: غالب اپنی مسلسل تنہائی اور ناکامیوں پر شکوہ کناں ہیں کہ میں امتحانات اور شرمندگیوں سے تھک چکا ہوں، اے میری بے بسی، صرف تو ہی ایک ایسی چیز ہے جو پوری دنیا میں میرے ساتھ وفاداری سے جڑی ہوئی ہے۔

کس کا سراغ جلوہ

کس کا سراغ جلوہ ہے حیرت کو اے خدا

آئینہ فرش شش جہت انتظار ہے

Explanation: خدا کی ذات کی تلاش میں کائنات کی حیرت کا بیان ہے کہ یہ دنیا، جس کی تمام سمتیں ایک آئینے کی طرح روشن ہیں، سب کچھ چھوڑ کر خاموشی سے صرف اس ایک پروردگار کے جلوے کا انتظار کر رہی ہے۔

نسیہ و نقد دو

نسیہ و نقد دو عالم کی حقیقت معلوم

لے لیا مجھ سے مری ہمت عالی نے مجھے

Explanation: غالب کہتے ہیں کہ مجھے دنیا کی فوری خوشیوں (نقد) اور آخرت کے جنت کے وعدوں (نسیہ/ادھار) کی حقیقت اچھی طرح معلوم ہے، میری بلند سوچ نے مجھے ان دونوں چیزوں کی لالچ سے آزاد کر دیا ہے۔

ہستی ہے نہ کچھ

ہستی ہے نہ کچھ عدم ہے غالبؔ

آخر تو کیا ہے اے نہیں ہے

Explanation: یہ وجود اور عدم کا ایک پیچیدہ فلسفیانہ سوال ہے، غالب خود اپنی ذات سے پوچھتے ہیں کہ نہ تو تو پوری طرح موجود ہے اور نہ ہی تو مکمل فنا ہے، تو اے بظاہر غائب نظر آنے والے انسان، تیری اصل حقیقت کیا ہے۔