Explanation: آوارہ گردی اور صحرا کی خاک چھاننے کے جنون کی انتہا ہے کہ موت کے بعد بھی عاشق کا یہ شوق ختم نہیں ہوا، اور قبر کے اندر لیٹے ہوئے بھی اس کے پاؤں سفر پر نکلنے کے لیے خود بخود کفن کے اندر ہل رہے ہیں۔
کم نہیں جلوہ گری
کم نہیں جلوہ گری میں، ترے کوچے سے بہشت
یہی نقشہ ہے ولے اس قدر آباد نہیں
Explanation: محبوب کی گلی کو جنت پر فوقیت دی گئی ہے، عاشق کہتا ہے کہ مانا کہ جنت خوبصورتی میں تیری گلی جیسی ہی ہوگی، لیکن وہاں تیرے گلی کے چاہنے والوں جیسی بھیڑ اور رونق (آبادی) کہاں سے لائیں گے۔
دشنۂ غمزہ جاں ستاں
دشنۂ غمزہ جاں ستاں ناوک ناز بے پناہ
تیرا ہی عکس رخ سہی سامنے تیرے آئے کیوں
Explanation: محبوب کا حسن اور اس کی ادائیں اتنی خطرناک اور جان لیوا ہیں کہ کوئی اس کا سامنا نہیں کر سکتا، شاعر کہتا ہے کہ اگر آئینہ بھی تیرا عکس تجھے دکھائے گا تو تو خود اپنے ہی حسن کی تاب نہ لا کر گھائل ہو جائے گا۔
خوب تھا پہلے سے
خوب تھا پہلے سے ہوتے جو ہم اپنے بد خواہ
کہ بھلا چاہتے ہیں اور برا ہوتا ہے
Explanation: یہ مسلسل بدقسمتی پر ایک طنزیہ تمنا ہے کہ ہم زندگی بھر اپنا بھلا چاہتے رہے اور ہمیشہ ہمارے ساتھ برا ہی ہوتا رہا، اس سے تو بہتر تھا کہ ہم شروع سے ہی اپنا برا مانگتے تو شاید الٹا ہو کر ہمارا کچھ بھلا ہی ہو جاتا۔
یوسف اس کو کہو
یوسف اس کو کہو اور کچھ نہ کہے خیر ہوئی
گر بگڑ بیٹھے تو میں لائق تعزیر بھی تھا
Explanation: عاشق نے اپنے محبوب کو حضرت یوسفؑ جتنا خوبصورت کہا، لیکن پھر ڈر گیا کہ محبوب کہیں غصہ نہ کر جائے، وہ شکر ادا کرتا ہے کہ محبوب نے اسے یوسف کہنے پر کوئی سزا نہیں دی حالانکہ اس کی خوبصورتی یوسف سے بھی زیادہ تھی۔
بے پردہ سوئے وادی
بے پردہ سوئے وادی مجنوں گزر نہ کر
ہر ذرہ کے نقاب میں دل بیقرار ہے
Explanation: محبوب کو تنبیہ کی جا رہی ہے کہ مجنوں کی وادی (عاشقوں کے شہر) سے کبھی اپنا چہرہ ننگا کر کے مت گزرنا، کیونکہ وہاں موجود ریت کا ہر ذرہ دراصل کسی نہ کسی عاشق کا تڑپتا ہوا دل ہے جو تجھے دیکھ کر بے قابو ہو جائے گا۔
وداع و وصل میں
وداع و وصل میں ہیں لذتیں جداگانہ
ہزار بار تو جا صد ہزار بار آ جا
Explanation: محبت کی دونوں حالتوں کی کشش کا بیان ہے کہ محبوب کے ملنے (وصل) کا اپنا نشہ ہے اور اس کے بچھڑنے اور دور جانے کا تڑپنا بھی ایک الگ مزہ دیتا ہے، اس لیے عاشق چاہتا ہے کہ محبوب بار بار ملے اور بار بار بچھڑے۔
ایک ایک قطرہ كا
ایک ایک قطرہ كا مجھے دینا پڑا حساب
خون جگر ودیعت مژگان یار تھا
Explanation: عاشق کہتا ہے کہ میرے جگر کا سارا خون دراصل محبوب کی آنکھوں (پلکوں) کی امانت تھا، اس لیے جب میں نے عشق میں تڑپ کر آنسوؤں کی صورت میں خون بہایا، تو مجھے اس خون کے ایک ایک قطرے کا محبوب کو حساب دینا پڑا۔
سمجھ کے کرتے ہیں
سمجھ کے کرتے ہیں بازار میں وہ پرسش حال
کہ یہ کہے کہ سر رہ گزر ہے کیا کہیے
Explanation: محبوب کی ہوشیاری اور عاشق کی مجبوری کا ذکر ہے کہ محبوب جان بوجھ کر بھرے بازار میں عاشق کا حال پوچھتا ہے، تاکہ عاشق شرم اور لوگوں کے ڈر کی وجہ سے اپنا اصل دکھ بیان نہ کر سکے اور چپ رہے۔
بھاگے تھے ہم بہت
بھاگے تھے ہم بہت سو اسی کی سزا ہے یہ
ہو کر اسیر دابتے ہیں راہزن کے پانو
Explanation: انسان کی بے بسی اور قسمت کے کھیل کا بیان ہے کہ ہم ساری زندگی جن مصیبتوں یا دشمنوں سے بھاگتے رہے، آخر کار ہم انہی کے قیدی بن گئے اور آج مجبوری میں ہمیں انہی دشمنوں کی غلامی (پاؤں دبانا) کرنی پڑ رہی ہے۔
بوسہ کیسا یہی غنیمت
بوسہ کیسا یہی غنیمت ہے
کہ نہ سمجھے وہ لذت دشنام
Explanation: عاشق کو محبوب کی سادگی پر پیار آ رہا ہے کہ پیار کا بوسہ تو بہت دور کی بات ہے، میرا محبوب اتنا معصوم ہے کہ وہ میرے منہ سے نکلی ہوئی غصے کی گالیوں کی لذت اور ان کے پیچھے چھپی ہوئی محبت کو بھی نہیں سمجھ پاتا۔
لیتا نہیں مرے دل
لیتا نہیں مرے دل آوارہ کی خبر
اب تک وہ جانتا ہے کہ میرے ہی پاس ہے
Explanation: عاشق کو محبوب کی غفلت پر شکایت ہے کہ اس نے ایک عرصے سے میرے دل کا حال نہیں پوچھا، شاید وہ ظالم یہ سمجھتا ہے کہ میرا دل اب بھی میری اپنی مرضی میں ہے، حالانکہ وہ تو کب کا محبوب کے قبضے میں جا چکا ہے۔
لرزتا ہے مرا دل
لرزتا ہے مرا دل زحمت مہر درخشاں پر
میں ہوں وہ قطرۂ شبنم کہ ہو خار بیاباں پر
Explanation: موت یا تباہی کے خوف کا منظر ہے کہ سورج نکلنے والا ہے اور شبنم کے قطرے کو پتا ہے کہ اب وہ بھاپ بن کر اڑ جائے گا، عاشق کا دل بھی اسی شبنم کی طرح محبوب (سورج) کی تیز روشنی یا غصے کے خوف سے کانپ رہا ہے۔
مرتے مرتے دیکھنے کی
مرتے مرتے دیکھنے کی آرزو رہ جائے گی
وائے ناکامی کہ اس کافر کا خنجر تیز ہے
Explanation: عاشق کی بدقسمتی یہ ہے کہ محبوب کا خنجر اتنا تیز تھا کہ اس نے ایک ہی لمحے میں گردن کاٹ دی، عاشق کو یہ حسرت ہی رہ گئی کہ وہ مرنے سے پہلے آخری بار جی بھر کر اپنے قاتل (محبوب) کا چہرہ دیکھ لیتا۔
دونوں جہان دے کے
دونوں جہان دے کے وہ سمجھے یہ خوش رہا
یاں آ پڑی یہ شرم کہ تکرار کیا کریں
Explanation: خدا کی عطا پر ایک بہت ہی نازک اور خاموش شکوہ ہے کہ اللہ نے مجھے دونوں جہاں (دنیا اور آخرت) دے دیے اور سمجھا کہ بندہ خوش ہے، مگر انسان کی خواہشات اتنی بڑی ہیں کہ وہ اس عطا پر بھی غیر مطمئن ہے مگر شرم کے مارے کچھ بول نہیں سکتا۔
بے عشق عمر کٹ
بے عشق عمر کٹ نہیں سکتی ہے اور یاں
طاقت بقدر لذت آزار بھی نہیں
Explanation: یہ انسان کی ایک عجیب مجبوری ہے کہ زندگی محبت کے بغیر گزارنا ممکن نہیں، مگر دوسری طرف انسان کا جسم اور دل اتنا کمزور ہو چکا ہے کہ اس میں عشق کی اذیت اور دکھ سہنے کی طاقت بھی باقی نہیں رہی۔
دیکھیے لاتی ہے اس
دیکھیے لاتی ہے اس شوخ کی نخوت کیا رنگ
اس کی ہر بات پہ ہم نام خدا کہتے ہیں
Explanation: محبوب کا غرور اور غصہ اس قدر خوفناک اور تیز ہے کہ عاشق ڈر کے مارے اس کی ہر ظالمانہ بات پر صرف 'ماشااللہ' یا 'خدا خیر کرے' کہتا ہے، اسے ڈر ہے کہ نجانے محبوب کا یہ غرور آگے جا کر کیا قیامت ڈھائے گا۔
مثال یہ مری کوشش
مثال یہ مری کوشش کی ہے کہ مرغ اسیر
کرے قفس میں فراہم خس آشیاں کے لیے
Explanation: انسان کی بے بس اور لاحاصل کوششوں کا بیان ہے، جس طرح ایک پنجرے میں قید پرندہ اپنا گھونسلا بنانے کے لیے پنجرے کے اندر ہی تنکے جمع کرتا ہے، بالکل اسی طرح انسان بھی اس دنیا کی قید میں اپنا مستقبل بنانے کی فضول کوششیں کر رہا ہے۔
ہے مشتمل نمود صور
ہے مشتمل نمود صور پر وجود بحر
یاں کیا دھرا ہے قطرہ و موج و حباب میں
Explanation: یہ وحدت الوجود کا خالص فلسفہ ہے کہ اصل طاقت اور حقیقت صرف ایک سمندر (خدا) کی ہے، باقی یہ بلبلے، موجیں اور قطرے جو الگ الگ نظر آتے ہیں، ان کا اپنا کوئی وجود نہیں، یہ سب پانی ہی کی مختلف شکلیں ہیں۔
گر تجھ کو ہے
گر تجھ کو ہے یقین اجابت دعا نہ مانگ
یعنی بغیر یک دل بے مدعا نہ مانگ
Explanation: یہ روحانیت کا انتہائی اعلیٰ مقام ہے کہ اگر تجھے واقعی خدا کی طاقت پر یقین ہے تو پھر اس سے دنیاوی چیزیں مت مانگ، کیونکہ سچا مانگنے والا وہ ہے جو صرف خدا کو مانگتا ہے اور اس کے دل میں کوئی اور لالچ نہیں ہوتا۔