Explanation: شاعر اپنے دل کے درد کی شدت بتاتا ہے کہ میرے اندر جو غم ہے، اگر وہ ایک چنگاری بن کر پتھر کی رگوں پر گرتا، تو پتھر پگھل کر خون بن جاتا اور وہ خون پھر کبھی نہ رکتا، میرا دل اس پتھر سے زیادہ درد سہہ رہا ہے۔
دریائے معاصی تنک آبی
دریائے معاصی تنک آبی سے ہوا خشک
میرا سر دامن بھی ابھی تر نہ ہوا تھا
Explanation: غالب گناہوں کی بھوک کا مبالغہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ گناہوں کا پورا سمندر میرے آگے خشک پڑ گیا اور اس میں پانی کی کمی ہو گئی، حالانکہ میں نے تو ابھی بمشکل اپنے لباس کا کنارہ ہی گیلا کیا تھا اور گناہ شروع ہی کیے تھے۔
قطرہ دریا میں جو
قطرہ دریا میں جو مل جاے تو دریا ہو جائے
کام اچھا ہے وہ جس کا کہ مآل اچھا ہے
Explanation: یہ صوفیانہ عقیدہ ہے کہ انسان کی روح خدا کا حصہ ہے، جس طرح ایک قطرہ سمندر میں مل کر خود سمندر بن جاتا ہے، اسی طرح فنا ہو کر خدا کی ذات میں مل جانا انسان کا بہترین انجام ہے۔
سادگی و پرکاری بے
سادگی و پرکاری بے خودی و ہشیاری
حسن کو تغافل میں جرأت آزما پایا
Explanation: محبوب کی متضاد اور قاتل اداؤں کا بیان ہے، وہ بظاہر بے پرواہ اور سادہ نظر آتا ہے لیکن اندر سے وہ پوری طرح ہوشیار اور چالاک ہے، اس کا یہ لاپرواہی کا انداز عاشق کے لیے سب سے بڑا امتحان ہے۔
ہر چند ہر ایک
ہر چند ہر ایک شے میں تو ہے
پر تجھ سی کوئی شے نہیں ہے
Explanation: خدا کی ذات کی ہمہ گیری اور وحدانیت کا نظریہ ہے کہ بے شک اس کائنات کے ذرے ذرے میں خدا کا نور اور جلوہ موجود ہے، لیکن اس کے باوجود کوئی بھی چیز خدا کے برابر یا اس جیسی نہیں ہو سکتی۔
گھر ہمارا جو نہ
گھر ہمارا جو نہ روتے بھی تو ویراں ہوتا
بحر گر بحر نہ ہوتا تو بیاباں ہوتا
Explanation: شاعر کو اپنی تباہی کا اس قدر یقین ہے کہ وہ کہتا ہے، اگر میں عشق میں رو رو کر اپنے گھر کو سیلاب سے تباہ نہ بھی کرتا، تب بھی قسمت میں اس کا صحرا بن کر ویران ہونا ہی لکھا تھا، تباہی ہر صورت مقدر تھی۔
حنائے پائے خزاں ہے
حنائے پائے خزاں ہے بہار اگر ہے یہی
دوام کلفت خاطر ہے عیش دنیا کا
Explanation: دنیا کی خوشیوں پر شدید مایوسی کا طنز ہے کہ اگر بہار کا انجام بھی پھولوں کا مرجھانا اور خزاں کی مٹی (مہندی) بننا ہی ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ اس دنیا کی ہر خوشی دراصل ایک چھپی ہوئی اور مستقل اذیت ہے۔
لے تو لوں سوتے
لے تو لوں سوتے میں اس کے پانو کا بوسہ مگر
ایسی باتوں سے وہ کافر بد گماں ہو جائے گا
Explanation: عاشق محبت اور ڈر کی کیفیت میں ہے کہ محبوب سو رہا ہے، میں چاہوں تو اس کے پاؤں چوم سکتا ہوں، مگر اگر اس کی آنکھ کھل گئی تو وہ سمجھے گا کہ میں سوتے میں اس کے ساتھ کوئی اور بے ادبی کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
دوست دار دشمن ہے
دوست دار دشمن ہے اعتماد دل معلوم
آہ بے اثر دیکھی نالہ نارسا پایا
Explanation: شاعر اپنے دل پر طنز کرتا ہے کہ یہ دل میرا دوست بن کر دراصل میرا دشمن ہے، میں نے اس پر بھروسہ کر کے آہیں بھریں مگر نہ میری دعا میں کوئی اثر نکلا اور نہ فریاد نے کوئی کام کیا، یہ دل کسی کام کا نہیں۔
مری تعمیر میں مضمر
مری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی
ہیولیٰ برق خرمن کا ہے خون گرم دہقاں کا
Explanation: انسان کی پیدائش ہی اس کی موت اور تباہی کی بنیاد ہے، جس طرح کسان کا جوش اور گرم خون ہی دراصل اس کی فصلوں پر گرنے والی آسمانی بجلی بن جاتا ہے، یعنی ہماری تخلیق میں ہی ہماری بربادی کا سامان موجود ہے۔
رنگ شکستہ صبح بہار
رنگ شکستہ صبح بہار نظارہ ہے
یہ وقت ہے شگفتن گل ہائے ناز کا
Explanation: بہار کی صبح کا منظر ہے جس میں عاشق کا اڑا ہوا رنگ اور محبوب کی ادائیں مل گئی ہیں، شاعر کہتا ہے کہ یہی وہ بہترین وقت ہے جب محبوب کے نخرے اور ناز کے پھول پوری طرح کھلتے ہیں۔
سراپا رہن عشق و
سراپا رہن عشق و نا گزیر الفت ہستی
عبادت برق کی کرتا ہوں اور افسوس حاصل کا
Explanation: انسان کی زندگی ایک خوفناک تضاد کا شکار ہے، وہ عشق کی تباہ کاریوں کو جاننے کے باوجود اسی آگ (بجلی) کی پرستش کرنے پر مجبور ہے، اور پھر اس آگ سے ملنے والی بربادی پر روتا بھی ہے۔
سب کے دل میں
سب کے دل میں ہے جگہ تیری جو تو راضی ہوا
مجھ پہ گویا اک زمانہ مہرباں ہو جائے گا
Explanation: محبوب کو پوری کائنات کا مرکز مانا گیا ہے، عاشق التجا کرتا ہے کہ اگر تو مجھ سے راضی ہو گیا تو مجھے ایسا محسوس ہوگا جیسے دنیا کا ہر انسان اور پورا زمانہ مجھ پر مہربان ہو گیا ہے۔
یک قلم کاغذ آتش
یک قلم کاغذ آتش زدہ ہے صفحۂ دشت
نقش پا میں ہے تب گرمی رفتار ہنوز
Explanation: مجنوں کے صحرا میں دیوانہ وار دوڑنے کی منظر کشی ہے کہ اس کی گرم رفتاری سے پورے صحرا کی ریت یوں جل رہی ہے جیسے جلے ہوئے کاغذ کی راکھ ہو، اور اس کے قدموں کے نشانوں میں آج بھی آگ محسوس ہوتی ہے۔
خانہ ہے سیل سے
خانہ ہے سیل سے خو کردۂ دیدار ہنوز
دوربیں در زدہ ہے رخنۂ دیوار ہنوز
Explanation: عاشق کا گھر آنسوؤں کے سیلاب سے ٹوٹ کر برباد ہو چکا ہے، مگر اس تباہی کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ دیواروں میں جو دراڑیں (رخنے) پڑی ہیں، عاشق اب ان دراڑوں کو دوربین بنا کر محبوب کو دور سے دیکھ لیتا ہے۔
ہیں کواکب کچھ نظر
ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکہ یے بازی گر کھلا
Explanation: دنیا کے ظاہری اور باطنی دھوکے کا ذکر ہے کہ جس طرح آسمان کے ستارے بظاہر چھوٹے اور چمکدار نظر آتے ہیں مگر حقیقت میں آگ کے گولے ہیں، اسی طرح یہ دنیاوی خوبصورتیاں بھی ایک نظر کا دھوکہ اور سراب ہیں۔
غم فراق میں تکلیف
غم فراق میں تکلیف سیر باغ نہ دو
مجھے دماغ نہیں خندہ ہائے بے جا کا
Explanation: عاشق اپنے دوستوں سے کہتا ہے کہ محبوب کی جدائی میں مجھے زبردستی باغ کی سیر کروانے کی کوشش نہ کرو، کیونکہ پھولوں کا کھلنا مجھے ان کے ہنسنے جیسا لگتا ہے اور مجھ میں اس وقت کسی کی بلاوجہ ہنسی برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں۔