Skip to content

Mirza Ghalib

قیامت ہے کہ ہووے

قیامت ہے کہ ہووے مدعی کا ہم سفر غالبؔ

وہ کافر جو خدا کو بھی نہ سونپا جائے ہے مجھ سے

Explanation: یہ عاشق کی شدید غیرت اور بے بسی ہے کہ میرا وہ ظالم محبوب جس پر مجھے اتنا پیار ہے کہ میں اسے حفاظت کے لیے خدا کے حوالے کرنے سے بھی ڈرتا ہوں، آج قیامت دیکھو کہ وہی محبوب میرے دشمن (مدعی) کے ساتھ ہنس ہنس کر چل رہا ہے۔

میں عدم سے بھی

میں عدم سے بھی پرے ہوں ورنہ غافل بارہا

میری آہ آتشیں سے بال عنقا جل گیا

Explanation: یہ غالب کا تخیلاتی مبالغہ ہے کہ عنقا ایک ایسا خیالی پرندہ ہے جس کا کوئی وجود نہیں (عدم)، لیکن میری آہوں میں اتنی زبردست آگ تھی کہ اس غائب پرندے کے پر بھی جل گئے، اس لیے میرا مقام اور میرا وجود اس عدم اور عنقا سے بھی زیادہ دور اور پراسرار ہے۔

داغ فراق صحبت شب

داغ فراق صحبت شب کی جلی ہوئی

اک شمع رہ گئی ہے سو وہ بھی خموش ہے

Explanation: محبوب کے ساتھ گزرنے والی رات کے ختم ہونے اور تنہائی کا انتہائی اداس منظر ہے کہ رات کی محفل کا سارا شور ختم ہو چکا ہے، اور اب نشانی کے طور پر صرف ایک جلی ہوئی شمع باقی رہ گئی ہے، اور وہ بھی اداسی کے باعث بالکل خاموش کھڑی ہے۔

آج واں تیغ و

آج واں تیغ و کفن باندھے ہوے جاتا ہوں میں

عذر میرے قتل کرنے میں وہ اب لاویں گے کیا

Explanation: عاشق محبوب کی گلی میں جان دینے کے ارادے سے جا رہا ہے اور وہ اپنے ساتھ مارنے کے لیے تلوار اور پہننے کے لیے کفن بھی ساتھ لے گیا ہے، وہ کہتا ہے کہ اب تو محبوب کے پاس مجھے قتل نہ کرنے کا کوئی بھی بہانہ باقی نہیں بچا۔

یا رب ہمیں تو

یا رب ہمیں تو خواب میں بھی مت دکھائیو

یہ محشر خیال کہ دنیا کہیں جسے

Explanation: غالب اس دنیا کی تکلیفوں اور خیالات کے ہنگاموں سے اس قدر بیزار ہیں کہ وہ اللہ سے التجا کرتے ہیں کہ مرنے کے بعد تو کیا، خدا کرے کہ مجھے خواب میں بھی دوبارہ اس خوفناک دنیا کا نظارہ کبھی نہ دیکھنا پڑے۔

قطرہ اپنا بھی حقیقت

قطرہ اپنا بھی حقیقت میں ہے دریا لیکن

ہم کو تقلید تنک ظرفی منصور نہیں

Explanation: غالب وحدت الوجود کا دعویٰ کرتے ہوئے منصور حلاج پر چوٹ کرتے ہیں کہ ہمارا وجود بھی خدا کا حصہ ہے، مگر منصور کی طرح ہمارا ظرف اتنا چھوٹا نہیں کہ ہم اس راز کو ہضم نہ کر سکیں اور سرعام 'انا الحق' کے نعرے لگا کر رسوا ہوں۔

اس انجمن ناز کی

اس انجمن ناز کی کیا بات ہے غالبؔ

ہم بھی گئے واں اور تری تقدیر کو رو آئے

Explanation: محبوب کی محفل کی رونقیں اور وہاں کی جانے والی مہربانیاں لاجواب ہیں، غالب کہتے ہیں کہ ہم بھی بڑی امیدوں سے اس محفل میں گئے تھے، مگر وہاں دوسروں پر ہونے والی عنایات دیکھ کر ہمیں اپنی بدقسمتی کا احساس ہوا اور ہم وہاں جا کر بھی روتے ہی رہے۔

میں نے چاہا تھا

میں نے چاہا تھا کہ اندوہ وفا سے چھوٹوں

وہ ستم گر مرے مرنے پہ بھی راضی نہ ہوا

Explanation: عاشق محبت کے مسلسل دکھوں سے چھٹکارا پانے کے لیے مرنا چاہتا تھا، لیکن محبوب کا ظلم دیکھیے کہ وہ عاشق کو مر کر بھی سکون دینے پر تیار نہیں، اور وہ چاہتا ہے کہ عاشق یونہی زندہ رہ کر تڑپتا رہے۔

واحسرتا کہ یار نے

واحسرتا کہ یار نے کھینچا ستم سے ہاتھ

ہم کو حریص لذت آزار دیکھ کر

Explanation: یہ عشق کی وہ نفسیاتی کیفیت ہے جہاں عاشق کو محبوب کے ظلم اور درد میں مزہ آنے لگتا ہے، لیکن جب محبوب کو پتا چلا کہ مجھے اس کی دی ہوئی اذیت میں سکون مل رہا ہے، تو اس ظالم نے مجھے تڑپانے کے لیے مجھ پر ظلم کرنا ہی چھوڑ دیا۔

چھوڑا نہ رشک نے

چھوڑا نہ رشک نے کہ ترے گھر کا نام لوں

ہر اک سے پوچھتا ہوں کہ جاؤں کدھر کو میں

Explanation: عاشق کی شدید غیرت اور حسد کا عالم یہ ہے کہ وہ بھٹک رہا ہے، مگر وہ راستے میں کھڑے لوگوں سے اپنے محبوب کا نام اور اس کے گھر کا پتہ نہیں پوچھتا، کیونکہ اسے ڈر ہے کہ کہیں کسی اور کو اس کے محبوب کی خبر نہ ہو جائے۔

جذبۂ بے اختیار شوق

جذبۂ بے اختیار شوق دیکھا چاہئے

سینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا

Explanation: عاشق کے شوقِ شہادت اور جذبے کی طاقت کا بیان ہے کہ اس کی تڑپ کو دیکھ کر خود تلوار کی دھار بھی بے قابو ہو گئی ہے، اور تلوار کا جوہر (دم) اس کے سینے سے باہر نکل کر عاشق کا خون پینے کے لیے بے تاب ہے۔

اگر غفلت سے باز

اگر غفلت سے باز آیا جفا کی

تلافی کی بھی ظالم نے تو کیا کی

Explanation: محبوب نے ہمیشہ عاشق کو نظر انداز کیا، اور جب بہت دیر بعد اسے احساس ہوا تو اس نے عاشق پر رحم کرنے کے بجائے، اپنی پرانی تمام کسریں نکالتے ہوئے اس پر نئے سرے سے شدید ظلم (جفا) کرنا شروع کر دیا۔

اس نزاکت کا برا

اس نزاکت کا برا ہو، وہ بھلے ہیں تو کیا

ہاتھ آویں تو انہیں ہاتھ لگائے نہ بنے

Explanation: محبوب کی نزاکت اور کمزوری کا شاندار بیان ہے کہ وہ دیکھنے میں تو بہت خوبصورت اور بھلے ہیں، لیکن ان کا جسم اتنا نازک ہے کہ اگر وہ کبھی مل بھی جائیں تو عاشق کو ڈر لگتا ہے کہ ذرا سا چھونے سے ہی انہیں چوٹ نہ لگ جائے۔

ہر قدم دورئ منزل

ہر قدم دورئ منزل ہے نمایاں مجھ سے

میری رفتار سے بھاگے ہے بیاباں مجھ سے

Explanation: عاشق کی بدقسمتی اور اس کے سفر کی تھکن کا ذکر ہے کہ میں منزل کی طرف جتنی تیزی سے بڑھتا ہوں، میری منزل اتنی ہی تیزی سے مجھ سے دور بھاگنے لگتی ہے، جیسے یہ ویران صحرا مجھ سے بچنا چاہتا ہو۔

تماشا کہ اے محو

تماشا کہ اے محو آئینہ داری

تجھے کس تمنا سے ہم دیکھتے ہیں

Explanation: محبوب کو شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنا ہی حسن سنوارنے کا بہت شوق ہے، عاشق حسرت سے کہتا ہے کہ اے آئینے میں گم رہنے والے محبوب! ذرا ایک نظر مڑ کر ہمیں بھی دیکھ لے کہ ہم تجھے پانے کی کیسی حسرت سے تک رہے ہیں۔

پھر دیکھیے انداز گل

پھر دیکھیے انداز گل افشانیٔ گفتار

رکھ دے کوئی پیمانۂ صہبا مرے آگے

Explanation: غالب اپنی شاعری اور باتوں کی روانی کا دعویٰ کرتے ہیں کہ اگر تم میری زبان سے پھولوں کی طرح جھڑتے ہوئے خوبصورت اشعار اور باتیں سننا چاہتے ہو، تو بس ایک بار میرے سامنے شراب کا بھرا ہوا پیالہ رکھ کر تو دیکھو۔

کام اس سے آ

کام اس سے آ پڑا ہے کہ جس کا جہان میں

لیوے نہ کوئی نام ستمگر کہے بغیر

Explanation: عاشق اپنی بدقسمتی پر حیران ہے کہ مجھے محبت اور مدد بھی ایک ایسے ظالم انسان سے مانگنی پڑ رہی ہے جس کی سنگدلی پوری دنیا میں اتنی مشہور ہے کہ کوئی شخص بھی اسے ظالم کہے بغیر اس کا نام تک نہیں لیتا۔

بارہا دیکھی ہیں ان

بارہا دیکھی ہیں ان کی رنجشیں

پر کچھ اب کے سرگرانی اور ہے

Explanation: محبوب کا غصہ اور ناراضگی تو عاشق نے پہلے بھی کئی بار برداشت کی ہے، مگر عاشق کو محسوس ہو رہا ہے کہ اس بار محبوب کے ماتھے پر پڑنے والی شکنیں اور اس کا غصہ پچھلی تمام ناراضگیوں سے بالکل مختلف اور شدید ہے۔

پر ہوں میں شکوے

پر ہوں میں شکوے سے یوں راگ سے جیسے باجا

اک ذرا چھیڑئیے پھر دیکھیے کیا ہوتا ہے

Explanation: شاعر کہتا ہے کہ میرے دل کے اندر اتنے زیادہ شکوے بھرے ہوئے ہیں جیسے کسی باجے کے اندر راگ قید ہوتے ہیں، اگر تم نے مجھے ذرا سا بھی بولنے کا موقع دیا تو میرے اندر سے دکھوں کا ایک نہ ختم ہونے والا طوفان نکل پڑے گا۔

بہت دنوں میں تغافل

بہت دنوں میں تغافل نے تیرے پیدا کی

وہ اک نگہ کہ بہ ظاہر نگاہ سے کم ہے

Explanation: محبوب نے مسلسل نظر انداز کرنے کے بعد بالآخر آج ایک چوری چھپے اور ادھوری سی نظر عاشق پر ڈالی ہے، جو بظاہر تو پوری نظر بھی نہیں تھی، مگر عاشق کے لیے یہ ادھوری توجہ بھی بہت بڑی نعمت ہے۔