Skip to content

Mirza Ghalib

دیکھیے پاتے ہیں عشاق

دیکھیے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض

اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے

Explanation: عاشقوں کی جھوٹی امیدوں پر طنز ہے کہ ایک نجومی (برہمن) نے پیشین گوئی کی ہے کہ یہ سال محبت کے لیے خوش قسمت ہوگا، اب دیکھتے ہیں کہ ان سنگدل محبوبوں (بتوں) سے ہمیں کیا مہربانی ملتی ہے۔

میں بھی منہ میں

میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوں

کاش پوچھو کہ مدعا کیا ہے

Explanation: شاعر محبوب یا خدا سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ میرے پاس بھی بولنے کی طاقت اور اپنے دل کی بات ہے، کاش تم مجھ سے پوچھو کہ میں کیا چاہتا ہوں اور میری تمنا کیا ہے۔

قرض کی پیتے تھے

قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں

رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن

Explanation: غالب اپنی فقیری اور مستی پر فخر کرتے ہیں کہ ہم اگرچہ قرض لے کر شراب پیتے تھے مگر ہمیں یقین تھا کہ ہماری یہ بے فکری اور قلندری ایک دن ہماری پہچان بنے گی اور دنیا یاد رکھے گی۔

بسکہ دشوار ہے ہر

بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا

آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

Explanation: زندگی میں کوئی بھی کام آسانی سے نہیں ہوتا، حتیٰ کہ ایک آدمی (بشر) کے لیے سچی ہمدردی اور اخلاق کے ساتھ ایک کامل 'انسان' بننا بھی دنیا کا مشکل ترین کام ہے۔

گو ہاتھ کو جنبش

گو ہاتھ کو جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے

رہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے

Explanation: عشق اور نشے کی طلب کی انتہا ہے کہ شاعر آخری سانسوں میں ہے اور ہاتھ ہلانے کے قابل بھی نہیں، مگر وہ کہتا ہے کہ شراب کا پیالہ میرے سامنے رہنے دو کہ کم از کم میں اسے دیکھ تو سکتا ہوں۔

بازیچۂ اطفال ہے دنیا

بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے

ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے

Explanation: شاعر کی نظر میں دنیاوی لالچ اور معاملات محض بچوں کے ایک کھیل کی طرح بے معنی اور عارضی ہیں، اور وہ اس دنیا کے تماشوں کو بغیر کسی کشش کے محض ایک کھیل کی طرح دیکھتا ہے۔

کہوں کس سے میں

کہوں کس سے میں کہ کیا ہے شب غم بری بلا ہے

مجھے کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا

Explanation: ہجر کی رات کا عذاب اتنا خوفناک ہے کہ یہ انسان کو پل پل مارتا ہے، شاعر کہتا ہے کہ مجھے مرنے سے کوئی ڈر نہیں لیکن یہ جدائی کی رات تو ایسی موت ہے جو بار بار مارتی ہے۔

ہوئے مر کے ہم

ہوئے مر کے ہم جو رسوا ہوئے کیوں نہ غرق دریا

نہ کبھی جنازہ اٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا

Explanation: مرنے کے بعد رسوائی سے بچنے کی خواہش ہے کہ کاش میں کسی دریا میں ڈوب کر مر جاتا تاکہ میری لاش ہی گم ہو جاتی، نہ میرا جنازہ اٹھتا اور نہ ہی میری قبر کا کوئی نشان باقی رہتا۔

جاتے ہوئے کہتے ہو

جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے

کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور

Explanation: محبوب کا قیامت کے دن ملنے کا وعدہ عاشق کے لیے ایک طنز ہے، وہ کہتا ہے کہ تمہارا مجھے چھوڑ کر جانا بذاتِ خود مجھ پر ایک قیامت گزرنے کے برابر ہے، اس کے بعد اور کیا قیامت آئے گی۔

ایماں مجھے روکے ہے

ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر

کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے

Explanation: یہ ایمان اور دنیاوی کشش کے درمیان انسان کی ذہنی کشمکش کا بیان ہے جہاں ایک طرف مذہب کی حدود اسے روکتی ہیں اور دوسری طرف دنیا کی آزادیاں اور ہوس اسے اپنی طرف کھینچتی ہیں۔

عاشقی صبر طلب اور

عاشقی صبر طلب اور تمنا بیتاب

دل کا کیا رنگ کروں خون جگر ہوتے تک

Explanation: محبت صبر مانگتی ہے اور خواہشیں بے چین ہیں، دل اس کشمکش میں تڑپ رہا ہے کہ جب تک منزل ملے گی، تب تک میرے جگر کا خون ہو چکا ہوگا اور میرا دل تباہ ہو جائے گا۔

کہاں مے خانہ کا

کہاں مے خانہ کا دروازہ غالبؔ اور کہاں واعظ

پر اتنا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے

Explanation: واعظ کی پرہیزگاری اور منافقت پر طنز ہے کہ بظاہر واعظ کا مے خانے سے کیا تعلق، مگر غالب گواہی دیتے ہیں کہ جب ہم کل شراب خانے سے نکل رہے تھے تو واعظ چھپ کر اندر جا رہا تھا۔

غالبؔ چھٹی شراب پر

غالبؔ چھٹی شراب پر اب بھی کبھی کبھی

پیتا ہوں روز ابر و شب ماہ تاب میں

Explanation: غالب اعتراف کرتے ہیں کہ انہوں نے عام دنوں میں شراب چھوڑ دی ہے، مگر موسم کی خوبصورتی (بادل چھائے ہونے یا چاندنی رات) میں ان کا دل للچا جاتا ہے اور وہ اس حسین موقع پر پی لیتے ہیں۔

قاصد کے آتے آتے

قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوں

میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں

Explanation: محبوب کے رویے سے شاعر اتنا واقف ہے کہ اسے معلوم ہے کہ اس کے خط کے جواب میں وہی پرانی بے رخی اور انکار آئے گا، اس لیے وہ وقت بچانے کے لیے اگلا خط پہلے ہی لکھ رہا ہے۔

دل ہی تو ہے

دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں

روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستاے کیوں

Explanation: شاعر اپنے احساسات کا دفاع کرتے ہوئے کہتا ہے کہ میرا دل کوئی پتھر یا اینٹ نہیں جو درد محسوس نہ کرے، اگر کوئی مجھے بلاوجہ تکلیف دے گا تو میں ایک نہیں ہزار بار روؤں گا۔

جان دی دی ہوئی

جان دی دی ہوئی اسی کی تھی

حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا

Explanation: اللہ کی راہ میں جان دینے یا بندگی کا مقام ہے کہ ہم نے جو جان قربان کی وہ دراصل خدا کی ہی امانت تھی، ہم نے بس اس کی چیز اسے لوٹا دی، مگر سچی بندگی کا حق پھر بھی ادا نہیں ہو سکا۔

آئینہ کیوں نہ دوں

آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے

ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے

Explanation: محبوب کے بے مثال حسن کا بیان ہے کہ تیرا کوئی ثانی اس دنیا میں موجود ہی نہیں، اس لیے جب تو مجھ سے اپنے جیسا کوئی دکھانے کی فرمائش کرتا ہے تو میں تجھے تیرا ہی آئینہ دکھا دیتا ہوں۔

پلا دے اوک سے

پلا دے اوک سے ساقی جو ہم سے نفرت ہے

پیالہ گر نہیں دیتا نہ دے شراب تو دے

Explanation: عشق کے نشے کی طلب ہے کہ اے ساقی، اگر تجھے مجھ سے اتنی ہی نفرت ہے کہ تو مجھے اپنے پیالے میں شراب نہیں دینا چاہتا، تو کوئی بات نہیں، کم از کم مجھے اپنے ہاتھوں (اوک) سے ہی شراب پلا دے۔

مرتے ہیں آرزو میں

مرتے ہیں آرزو میں مرنے کی

موت آتی ہے پر نہیں آتی

Explanation: زندگی کے دکھوں سے تنگ آ کر انسان موت کو ایک سکون کے طور پر مانگتا ہے، لیکن موت کا انتظار بھی ایک ایسی اذیت بن جاتا ہے کہ موت کی خواہش میں تو جان نکلتی ہے مگر اصل موت نہیں آتی۔

میری قسمت میں غم

میری قسمت میں غم گر اتنا تھا

دل بھی یارب کئی دیے ہوتے

Explanation: شاعر خدا سے شکوہ کناں ہے کہ اے اللہ، اگر تو نے میرے نصیب میں اتنے بے پناہ غم اور دکھ لکھے تھے، تو پھر مجھے انہیں برداشت کرنے کے لیے ایک کے بجائے کئی دل دینے چاہیے تھے۔