زمانے بھر کے دکھوں
زمانے بھر کے دکھوں کو لگا لیا دل سے
اس آسرے پہ کہ اک غم گسار اپنا ہے
Explanation: شاعر نے محبوب پر بھروسہ کرتے ہوئے دنیا بھر کی مصیبتیں اپنے سر لے لیں کہ کوئی تو ہمدرد اس کا ساتھ دینے والا موجود ہے، گو کہ بعد میں وہ آسرا بھی ٹوٹ گیا۔
اپنی آشفتہ مزاجی پہ
اپنی آشفتہ مزاجی پہ ہنسی آتی ہے
دشمنی سنگ سے اور کانچ کا پیکر رکھنا
Explanation: شاعر اپنے حساس اور نازک دل (کانچ کے پیکر) پر ہنستا ہے کہ اس نے محبت کی راہ میں زمانے کے پتھروں اور سخت حالات سے ٹکر لینے کی حماقت کی ہے۔
ہے بادہ گساروں کو
ہے بادہ گساروں کو تو میخانے سے نسبت
تم مسند ساقی پہ کسی کو بھی بٹھا دو
Explanation: سچے پینے والوں کو محض میخانے (مے) سے غرض ہوتی ہے، ان کے لیے یہ اہم نہیں کہ ساقی کی نشست پر کون بیٹھا ہے، اسی طرح سچے عاشق کو صرف عشق سے لگاؤ ہوتا ہے۔
