Skip to content

Ahmed Faraz

ہمیں بھی عرض تمنا

ہمیں بھی عرض تمنا کا ڈھب نہیں آتا

مزاج یار بھی سادہ ہے کیا کیا جائے

Explanation: اس شعر میں محبت کے اظہار کی ناکامی کا شکوہ ہے کہ عاشق میں اپنے دل کا حال بیان کرنے کا ہنر نہیں، اور محبوب اتنا بھولا ہے کہ بنا کہے کچھ سمجھتا نہیں ہے۔

عاشقی میں میرؔ جیسے

عاشقی میں میرؔ جیسے خواب مت دیکھا کرو

باؤلے ہو جاؤ گے مہتاب مت دیکھا کرو

Explanation: شاعر نصیحت کر رہا ہے کہ عشق میں میر تقی میر جیسی حساسیت اور جنون مت پالو، ورنہ چاند (محبوب) کی حسرت میں پاگل ہو جاؤ گے۔

کیا اسی بھول کو

کیا اسی بھول کو کہتے ہیں محبت کا زوال

اب مجھے یاد نہیں سالگرہ بھی تیری

Explanation: شاعر اس بات پر حیران ہے کہ محبت کی شدت وقت کے ساتھ کس طرح ختم ہو گئی کہ جس محبوب کی ہر چیز اسے یاد رہتی تھی، آج اسے اس کی سالگرہ کا دن بھی یاد نہیں۔

مر گئے پیاس کے

مر گئے پیاس کے مارے تو اٹھا ابر کرم

بجھ گئی بزم تو اب شمع جلاتا کیا ہے

Explanation: وقت گزرنے کے بعد کی جانے والی مہربانی کسی کام کی نہیں ہوتی، جب عاشق تڑپ کر مر گیا تو پھر اس پر محبوب کے التفات کا کوئی فائدہ نہیں رہا۔

نہ تیرا قرب نہ

نہ تیرا قرب نہ بادہ ہے کیا کیا جائے

پھر آج دکھ بھی زیادہ ہے کیا کیا جائے

Explanation: شاعر کی بے بسی کی انتہا ہے کہ ایک طرف محبوب اس کے پاس نہیں اور دوسری طرف غم بھلانے کے لیے شراب بھی میسر نہیں، اور آج دل کا درد بھی حد سے زیادہ ہے۔

اب اسے لوگ سمجھتے

اب اسے لوگ سمجھتے ہیں گرفتار مرا

سخت نادم ہے مجھے دام میں لانے والا

Explanation: شاعر کہتا ہے کہ محبوب نے مجھے اپنے عشق کے جال میں پھنسایا تو تھا، مگر اب وہ خود میری دیوانگی کے ہاتھوں اس طرح پھنس گیا ہے کہ لوگ اسی کو میرا قیدی سمجھتے ہیں۔

چارہ گر نے بہر

چارہ گر نے بہر تسکیں رکھ دیا ہے دل پہ ہاتھ

مہرباں ہے وہ مگر نا آشنائے زخم ہے

Explanation: تسلی دینے والا ہمدرد تو بہت ہے جس نے پیار سے شاعر کے دل پر ہاتھ رکھا، لیکن وہ محبت کے گہرے زخموں کی حقیقت اور ان کی تکلیف کو بالکل نہیں سمجھتا۔

طعنۂ نشہ نہ دو

طعنۂ نشہ نہ دو سب کو کہ کچھ سوختہ جاں

شدت تشنہ لبی سے بھی بہک جاتے ہیں

Explanation: شاعر کہتا ہے کہ ہر بہکنے والے کو شرابی سمجھ کر طعنے مت دو، دنیا میں کچھ لوگ ایسے غمزدہ اور محروم ہوتے ہیں جو زندگی کی پیاس اور دکھوں کے بوجھ تلے ڈگمگا جاتے ہیں۔

عقل ہر بار دکھاتی

عقل ہر بار دکھاتی تھی جلے ہاتھ اپنے

دل نے ہر بار کہا آگ پرائی لے لے

Explanation: عقل انسان کو محبت کے نقصانات سے ڈراتی ہے، لیکن دل پھر بھی کسی دوسرے کے دکھ یا محبت کی آگ میں کود پڑنے کے لیے بے تاب رہتا ہے۔

شاعری تازہ زمانوں کی

شاعری تازہ زمانوں کی ہے معمار فرازؔ

یہ بھی اک سلسلۂ کن فیکوں ہے یوں ہے

Explanation: شاعر اپنے فن کی عظمت بیان کر رہا ہے کہ سچی شاعری نئے معاشرے اور سوچ کو تعمیر کرتی ہے، جیسے خدائی حکم سے دنیا بنی، ویسے ہی شاعر کے لفظوں سے نئی دنیا تخلیق ہوتی ہے۔

یہ شہر میرے لئے

یہ شہر میرے لئے اجنبی نہ تھا لیکن

تمہارے ساتھ بدلتی گئیں فضائیں بھی

Explanation: شاعر کو اس شہر سے انسیت تھی، لیکن جب محبوب نے بے رخی دکھائی اور رویہ بدلا تو اسے اپنا ہی شہر اجنبی اور پرایا محسوس ہونے لگا۔

یہ اب جو آگ

یہ اب جو آگ بنا شہر شہر پھیلا ہے

یہی دھواں مرے دیوار و در سے نکلا تھا

Explanation: شاعر کی ذات میں سلگنے والا غم یا بغاوت کا جذبہ اب ایک طوفان بن کر پورے معاشرے میں پھیل چکا ہے، اور وہ فخر کرتا ہے کہ اس آگ کی شروعات اسی کے دل سے ہوئی تھی۔

میرؔ کے مانند اکثر

میرؔ کے مانند اکثر زیست کرتا تھا فرازؔ

تھا تو وہ دیوانہ سا شاعر مگر اچھا لگا

Explanation: فراز میر تقی میر کی طرح عشق اور دیوانگی کی زندگی گزارتے تھے، دنیا کی نظر میں وہ شاید ایک دیوانے شاعر ہوں، لیکن ان کا وہ انداز لوگوں کو بے حد پسند آیا۔

میں آج زد پہ

میں آج زد پہ اگر ہوں تو خوش گمان نہ ہو

چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں

Explanation: ظالم حالات اور موت کسی سے رعایت نہیں کرتے، شاعر کہتا ہے کہ اگر آج میری باری ہے تو دوسروں کو خوش نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ یہ تیز ہوا سب کے چراغ بجھا دے گی۔

جانے کس عالم میں

جانے کس عالم میں تو بچھڑا کہ ہے تیرے بغیر

آج تک ہر نقش فریادی مری تحریر کا

Explanation: محبوب کا بچھڑنا شاعر کے لیے اتنا کرب ناک تھا کہ اس کی لکھی ہوئی ہر سطر، اس کی ہر غزل آج بھی اسی درد کے اثر میں رو رہی ہے اور فریاد کر رہی ہے۔

کس کو بکنا تھا

کس کو بکنا تھا مگر خوش ہیں کہ اس حیلے سے

ہو گئیں اپنے خریدار سے باتیں کیا کیا

Explanation: شاعر کہتا ہے کہ اگرچہ میں بکنے (مادیت کے آگے جھکنے) کے لیے تیار نہیں تھا، لیکن اس بحث کے بہانے دنیا والوں کے نظریات اور ان کی اصلیت جاننے کا موقع مل گیا۔

بس اس سبب سے

بس اس سبب سے کہ تجھ پر بہت بھروسہ تھا

گلے نہ ہوں بھی تو حیرانیاں تو ہوتی ہیں

Explanation: محبوب کے دھوکے کے بعد شاعر کہتا ہے کہ اگرچہ میں تم سے شکایت نہیں کر رہا، مگر چونکہ تم پر اندھا یقین تھا، اس لیے تمہاری بے وفائی پر حیرت ضرور ہوتی ہے۔

سنا ہے اس کے

سنا ہے اس کے شبستاں سے متصل ہے بہشت

مکیں ادھر کے بھی جلوے ادھر کے دیکھتے ہیں

Explanation: محبوب کی رہائش گاہ کی خوبصورتی اور پاکیزگی کو جنت سے ملاتے ہوئے شاعر کہتا ہے کہ خود جنت کے فرشتے بھی اس کے محل کے جلوے دیکھنے کو ترستے ہیں۔

چلے تھے یار بڑے

چلے تھے یار بڑے زعم میں ہوا کی طرح

پلٹ کے دیکھا تو بیٹھے ہیں نقش پا کی طرح

Explanation: جو دوست بڑے غرور کے ساتھ تیز ہوا کی طرح آگے بڑھ کر ساتھ چھوڑ گئے تھے، آج وہ زمانے کے تھپیڑے کھا کر مٹی کے نقشِ قدم کی طرح بے وقعت ہو کر رہ گئے ہیں۔

اس انتہائے قرب نے

اس انتہائے قرب نے دھندلا دیا تجھے

کچھ دور ہو کہ دیکھ سکوں تیرا بانکپن

Explanation: شاعر محبوب کے بہت قریب ہونے کے بعد محسوس کرتا ہے کہ شدتِ قربت سے اس کا حسن دھندلا سا گیا ہے، اس لیے وہ تھوڑا دور ہونے کا کہتا ہے تاکہ اس کی خوبصورتی کو واضح دیکھ سکے۔