Skip to content

Ahmed Faraz

دیکھا مجھے تو ترک

دیکھا مجھے تو ترک تعلق کے باوجود

وہ مسکرا دیا یہ ہنر بھی اسی کا تھا

Explanation: تعلق ختم ہونے کے باوجود محبوب نے شاعر کو دیکھ کر جس طرح مسکرا کر ظاہر کیا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں، یہ اس کی بے حسی اور فنکاری کی اعلیٰ مثال ہے۔

اس کا کیا ہے

اس کا کیا ہے تم نہ سہی تو چاہنے والے اور بہت

ترک محبت کرنے والو تم تنہا رہ جاؤ گے

Explanation: شاعر محبوب کو وارننگ دے رہا ہے کہ تمہارے حسن کے تو بہت دیوانے ہیں، تم تو گزارہ کر لو گے، لیکن مجھ سے محبت ترک کرنے کے بعد شاید تم سچی محبت سے محروم ہو کر اندر سے تنہا رہ جاؤ گے۔

ہوا میں نشہ ہی

ہوا میں نشہ ہی نشہ فضا میں رنگ ہی رنگ

یہ کس نے پیرہن اپنا اچھال رکھا ہے

Explanation: محبوب کے حسن اور اس کی خوشبو کے سحر کا بیان ہے جس کی وجہ سے پوری فضا معطر ہو گئی ہے اور ہر طرف رنگ اور مستی چھا گئی ہے۔

ہوائے ظلم سوچتی ہے

ہوائے ظلم سوچتی ہے کس بھنور میں آ گئی

وہ اک دیا بجھا تو سینکڑوں دئیے جلا گیا

Explanation: جب ظالم حق پرستوں کو کچلتا ہے تو وہ یہ نہیں جانتا کہ ایک سچے انسان (چراغ) کی شہادت سے اس کے ماننے والے سیکڑوں مزید حق پرست کھڑے ہو جاتے ہیں۔

بظاہر ایک ہی شب

بظاہر ایک ہی شب ہے فراق یار مگر

کوئی گزارنے بیٹھے تو عمر ساری لگے

Explanation: محبوب سے جدائی کی رات اگرچہ وقت کے حساب سے چند گھنٹوں کی ہوتی ہے، لیکن ہجر کے کرب میں مبتلا عاشق کے لیے وہ رات پوری زندگی سے بھی زیادہ طویل محسوس ہوتی ہے۔

ہر طرح کی بے

ہر طرح کی بے سر و سامانیوں کے باوجود

آج وہ آیا تو مجھ کو اپنا گھر اچھا لگا

Explanation: شاعر کا گھر اگرچہ غریبانہ اور ٹوٹی پھوٹی حالت میں ہے، لیکن محبوب کے اچانک آنے سے اس ویران گھر میں بھی خوشیاں اور بہاریں لوٹ آئی ہیں۔

بہت دنوں سے نہیں

بہت دنوں سے نہیں ہے کچھ اس کی خیر خبر

چلو فرازؔ کو اے یار چل کے دیکھتے ہیں

Explanation: شاعر اپنے بے پناہ دکھ اور گوشہ نشینی پر طنز کرتا ہے، یا دوستوں کی زبانی کہلواتا ہے کہ فراز بہت دن سے غائب ہے، جا کر اس کا حال دریافت کرنا چاہیے۔

جی میں جو آتی

جی میں جو آتی ہے کر گزرو کہیں ایسا نہ ہو

کل پشیماں ہوں کہ کیوں دل کا کہا مانا نہیں

Explanation: یہ دلی جذبات کی پیروی کرنے کا پیغام ہے کہ جو دل کی آواز ہو اس پر عمل کر لینا چاہیے، ورنہ بعد میں حسرت رہ جائے گی کہ کاش میں نے اپنے دل کی بات مان لی ہوتی۔

تو اتنی دل زدہ

تو اتنی دل زدہ تو نہ تھی اے شب فراق

آ تیرے راستے میں ستارے لٹائیں ہم

Explanation: جدائی کی رات سے شاعر کا مکالمہ ہے، کہ تو پہلے اتنی ظالم نہیں تھی، آ ہم اپنے آنسوؤں (ستاروں) سے تیرا استقبال کریں تاکہ تیری اداسی کچھ کم ہو۔

اک تو ہم کو

اک تو ہم کو ادب آداب نے پیاسا رکھا

اس پہ محفل میں صراحی نے بھی گردش نہیں کی

Explanation: شاعر اپنی محرومی کی وجہ بتاتا ہے کہ ایک طرف اس کی خودداری نے اسے سوال کرنے سے روکا اور دوسری طرف قسمت (ساقی) نے بھی اس پر کوئی مہربانی نہیں کی۔

دل گرفتہ ہی سہی

دل گرفتہ ہی سہی بزم سجا لی جائے

یاد جاناں سے کوئی شام نہ خالی جائے

Explanation: شاعر کہتا ہے کہ چاہے دل اداس ہی کیوں نہ ہو، لیکن محبوب کی یادوں کی محفل سجا لینی چاہیے تاکہ زندگی کی کوئی بھی شام اس کی یاد کے بنا نہ گزرے۔

جز ترے کوئی بھی

جز ترے کوئی بھی دن رات نہ جانے میرے

تو کہاں ہے مگر اے دوست پرانے میرے

Explanation: شاعر اس گہرے دوست یا محبوب کو یاد کر رہا ہے جو اس کی زندگی کے تمام رازوں اور حالات سے واقف تھا، اور اب اس کی عدم موجودگی میں شاعر اکیلا پڑ گیا ہے۔

ہمیشہ کے لیے مجھ

ہمیشہ کے لیے مجھ سے بچھڑ جا

یہ منظر بارہا دیکھا نہ جائے

Explanation: شاعر محبوب کے بار بار روٹھنے اور ملنے کے اذیت ناک کھیل سے تنگ آ کر کہتا ہے کہ روز روز کی اس تکلیف سے بہتر ہے کہ تو مجھ سے ایک ہی بار ہمیشہ کے لیے دور ہو جا۔

یوں تو پہلے بھی

یوں تو پہلے بھی ہوئے اس سے کئی بار جدا

لیکن اب کے نظر آتے ہیں کچھ آثار جدا

Explanation: محبوب سے وقتی ناراضگیاں تو پہلے بھی ہوتی رہی ہیں، لیکن اس بار جدائی کی نوعیت کچھ ایسی ہے کہ شاعر کو لگ رہا ہے کہ یہ رشتہ اب ہمیشہ کے لیے ختم ہونے والا ہے۔

ساقی یہ خموشی بھی

ساقی یہ خموشی بھی تو کچھ غور طلب ہے

ساقی ترے مے خوار بڑی دیر سے چپ ہیں

Explanation: یہ دراصل معاشرے کے پسے ہوئے طبقے (یا عاشقانِ حق) کی طویل خاموشی کی طرف اشارہ ہے، جو کسی بڑے طوفان یا شدید مایوسی کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔

کٹھن ہے راہ گزر

کٹھن ہے راہ گزر تھوڑی دور ساتھ چلو

بہت کڑا ہے سفر تھوڑی دور ساتھ چلو

Explanation: شاعر زندگی کی مشکلات کے کٹھن سفر میں محبوب سے التجا کر رہا ہے کہ اگر ہمیشہ کے لیے نہیں تو کچھ لمحوں کے لیے اس مشکل سفر میں اس کا سہارا بن جائے۔

اب ترا ذکر بھی

اب ترا ذکر بھی شاید ہی غزل میں آئے

اور سے اور ہوئے درد کے عنواں جاناں

Explanation: زمانے کے غموں نے شاعر کو اس حد تک الجھا دیا ہے کہ اب اس کی شاعری کا موضوع محبوب کی محبت نہیں، بلکہ زندگی کے دیگر تلخ اور کٹھن مسائل بن گئے ہیں۔

ہم کو اس شہر

ہم کو اس شہر میں تعمیر کا سودا ہے جہاں

لوگ معمار کو چن دیتے ہیں دیوار کے ساتھ

Explanation: شاعر معاشرے کی جاہلیت اور احسان فراموشی کا ذکر کرتا ہے جہاں بہتری لانے والوں یا حق پرستوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھنے کے بجائے ظلم کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

اس سے بڑھ کر

اس سے بڑھ کر کوئی انعام ہنر کیا ہے فرازؔ

اپنے ہی عہد میں ایک شخص فسانہ بن جائے

Explanation: شاعر کے نزدیک سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ کوئی شخص اپنی زندگی میں ہی اپنے فن اور کمال کی بدولت لوگوں کے لیے ایک لیجنڈ (داستان) کی حیثیت اختیار کر جائے۔

جو غزل آج ترے

جو غزل آج ترے ہجر میں لکھی ہے وہ کل

کیا خبر اہل محبت کا ترانہ بن جائے

Explanation: شاعر کو اپنے جذبوں کی سچائی پر کامل یقین ہے کہ اس نے آج جدائی کے جس دکھ میں ڈوب کر جو اشعار لکھے ہیں، وہ آنے والے وقت میں محبت کرنے والوں کی زبان پر گونجیں گے۔