Skip to content

Jaun Eliya

میں بھی بہت عجیب

میں بھی بہت عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بس

خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں

Explanation: شاعر اپنی ذات کی پیچیدگی اور بے حسی پر حیران ہے کہ اس نے اپنی ہی زندگی اور محبت کو اپنے ہاتھوں سے برباد کر دیا، اور سب سے عجیب بات یہ ہے کہ اسے اس تباہی کا کوئی دکھ بھی نہیں۔

جو گزاری نہ جا

جو گزاری نہ جا سکی ہم سے

ہم نے وہ زندگی گزاری ہے

Explanation: زندگی کی اذیت کا گہرا نوحہ ہے کہ جو حالات اور دکھ برداشت کے قابل نہیں تھے، ہم نے جیتے جی ان ناممکن حالات اور مسلسل کرب کے ساتھ اپنی پوری زندگی کاٹ دی ہے۔

یہ مجھے چین کیوں

یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا

ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا

Explanation: ایک شخص کے بچھڑنے پر شاعر اپنے دل کی مسلسل بے چینی پر خود سے سوال کرتا ہے کہ کیا اس دنیا میں صرف وہی ایک انسان تھا، پھر کیوں اس کے جانے سے میرا سارا سکون چھن گیا۔

میں جو ہوں جونؔ

میں جو ہوں جونؔ ایلیا ہوں جناب

اس کا بے حد لحاظ کیجئے گا

Explanation: یہ شعر جون ایلیا کی اپنی مخصوص انا، منفرد مزاج اور خودداری کا اعلان ہے، جہاں وہ دنیا کو متنبہ کرتے ہیں کہ میرے ساتھ عام لوگوں جیسا سلوک نہ کیا جائے، میں جون ایلیا ہوں۔

یوں جو تکتا ہے

یوں جو تکتا ہے آسمان کو تو

کوئی رہتا ہے آسمان میں کیا

Explanation: محبوب کی بے توجہی پر طنز ہے کہ تم جس طرح نظریں چرا کر مسلسل آسمان کی طرف دیکھے جا رہے ہو، کیا تمہارا کوئی چاہنے والا اس دنیا کی بجائے آسمان پر رہتا ہے؟

کتنی دل کش ہو

کتنی دل کش ہو تم کتنا دلجو ہوں میں

کیا ستم ہے کہ ہم لوگ مر جائیں گے

Explanation: یہ شعر زندگی کے عارضی ہونے کا خوبصورت ماتم ہے کہ تمہارا حسن اور میری سچی محبت دونوں کتنے شاندار ہیں، لیکن کتنا بڑا المیہ ہے کہ ایک دن ہم دونوں ہی موت کی وادی میں اتر جائیں گے۔

ساری دنیا کے غم

ساری دنیا کے غم ہمارے ہیں

اور ستم یہ کہ ہم تمہارے ہیں

Explanation: عاشق کی اذیت کا بیان ہے کہ دنیا کی ہر تکلیف اور غم ویسے ہی ہمارے نصیب میں ہے، اور سب سے بڑا دکھ یہ ہے کہ اس اذیت ناک کیفیت میں بھی ہمارا دل تمہاری محبت کا غلام ہے۔

زندگی کس طرح بسر

زندگی کس طرح بسر ہوگی

دل نہیں لگ رہا محبت میں

Explanation: شاعر زندگی کی بے مقصدی کا ذکر کرتا ہے کہ جب انسان کا دل محبت جیسے عظیم اور خوبصورت جذبے سے بھی اکتا جائے، تو پھر وہ یہ طویل زندگی کس سہارے کے تحت گزارے گا۔

کس لیے دیکھتی ہو

کس لیے دیکھتی ہو آئینہ

تم تو خود سے بھی خوب صورت ہو

Explanation: محبوب کی خوبصورتی کی انتہائی شاندار تعریف کی گئی ہے کہ آئینہ تو محض تمہارا عکس دکھاتا ہے، لیکن حقیقت میں تم اتنی حسین ہو کہ تمہارا اپنا عکس بھی تمہاری خوبصورتی کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔

کون اس گھر کی

کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے

روز اک چیز ٹوٹ جاتی ہے

Explanation: یہ دل کی مسلسل ٹوٹ پھوٹ اور مایوسیوں کا استعارہ ہے کہ جب انسان کے اندر (گھر) میں روزانہ امیدیں اور رشتے ٹوٹ رہے ہوں، تو وہ اس مسلسل تباہی کو کیسے سنبھالے۔

بہت نزدیک آتی جا

بہت نزدیک آتی جا رہی ہو

بچھڑنے کا ارادہ کر لیا کیا

Explanation: محبت کی نفسیات کا گہرا پہلو ہے کہ رشتے ختم ہونے سے پہلے اکثر شدت اختیار کر لیتے ہیں، شاعر محبوب کی غیر معمولی قربت کو دیکھ کر ڈر جاتا ہے کہ کہیں یہ تعلق ختم ہونے کی علامت تو نہیں۔

کیا ستم ہے کہ

کیا ستم ہے کہ اب تری صورت

غور کرنے پہ یاد آتی ہے

Explanation: محبت کی شدت کم ہونے کا دکھ ہے کہ ایک وقت تھا جب تمہارا چہرہ ہر پل نظروں میں رہتا تھا، اور آج یہ ستم ہے کہ تمہیں یاد کرنے کے لیے مجھے اپنے ذہن پر زور ڈالنا پڑتا ہے۔

کیسے کہیں کہ تجھ

کیسے کہیں کہ تجھ کو بھی ہم سے ہے واسطہ کوئی

تو نے تو ہم سے آج تک کوئی گلہ نہیں کیا

Explanation: شاعر محبت میں شکوے کی اہمیت بتاتا ہے، کہ سچی محبت میں ناراضگی اور شکوے لازمی ہوتے ہیں، اگر تم نے کبھی مجھ سے کوئی گلہ ہی نہیں کیا تو اس کا مطلب ہے تمہیں مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔

وہ جو نہ آنے

وہ جو نہ آنے والا ہے نا اس سے مجھ کو مطلب تھا

آنے والوں سے کیا مطلب آتے ہیں آتے ہوں گے

Explanation: دنیا کی محفلوں سے بیزاری اور ایک شخص سے گہری محبت کا اظہار ہے، کہ میری تمام تر توجہ اور محبت صرف اسی ایک شخص کے لیے تھی جو نہیں آیا، باقی دنیا کے آنے جانے سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

کیا تکلف کریں یہ

کیا تکلف کریں یہ کہنے میں

جو بھی خوش ہے ہم اس سے جلتے ہیں

Explanation: جون ایلیا اپنے مخصوص بے باک انداز میں انسانی نفسیات کا سچ بیان کرتے ہیں کہ جو انسان خود اندر سے ٹوٹا ہوا اور دکھی ہو، وہ کسی دوسرے کو خوش دیکھ کر بے ساختہ حسد محسوس کرتا ہے۔

کیا کہا عشق جاودانی

کیا کہا عشق جاودانی ہے!

آخری بار مل رہی ہو کیا

Explanation: شاعر محبوب کی چکنی چپڑی باتوں پر شک کر رہا ہے کہ آج تم ہمیشہ کی محبت اور لازوال عشق کی جو قسمیں کھا رہی ہو، کیا دراصل یہ تمہاری مجھ سے آخری ملاقات ہے؟

مستقل بولتا ہی رہتا

مستقل بولتا ہی رہتا ہوں

کتنا خاموش ہوں میں اندر سے

Explanation: یہ انسان کے ظاہری رویے اور باطنی کیفیت کے تضاد کا انتہائی خوبصورت اظہار ہے، کہ میرا مسلسل بولنا اور ہنسنا دراصل میرے اندر کی خوفناک تنہائی اور گہری خاموشی کو چھپانے کی ایک کوشش ہے۔

ہم کو یاروں نے

ہم کو یاروں نے یاد بھی نہ رکھا

جونؔ یاروں کے یار تھے ہم تو

Explanation: دوستوں کی بے وفائی کا شکوہ ہے کہ جون ایلیا جنہوں نے ساری زندگی دوستوں کی خاطر خود کو وقف کر دیا اور دوستی نبھائی، انہی دوستوں نے انہیں مشکل وقت میں مکمل طور پر بھلا دیا۔

مجھے اب تم سے

مجھے اب تم سے ڈر لگنے لگا ہے

تمہیں مج مجھ سے محبت ہو گئی کیا

Explanation: یہ محبت کے انجام کا خوف ہے، شاعر محبت میں اتنے دکھ جھیل چکا ہے کہ جب محبوب اس سے سچی محبت کا اظہار کرتا ہے، تو خوش ہونے کے بجائے شاعر کو مستقبل کی تباہی کا ڈر لگنے لگتا ہے۔

سوچتا ہوں کہ اس

سوچتا ہوں کہ اس کی یاد آخر

اب کسے رات بھر جگاتی ہے

Explanation: محبوب کے دور جانے کے بعد ایک بے چین سی سوچ ہے کہ جس محبوب کی یادیں کبھی مجھے راتوں کو سونے نہیں دیتی تھیں، اب میرے بعد وہ یادیں کس شخص کی نیندیں اڑا رہی ہوں گی۔