Skip to content

Jaun Eliya

کتنے عیش سے رہتے

کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے

جانے کیسے لوگ وہ ہوں گے جو اس کو بھاتے ہوں گے

Explanation: شاعر حسد اور تجسس میں ان لوگوں کے بارے میں سوچ رہا ہے جنہیں اس کے محبوب کی قربت نصیب ہوئی ہے، وہ یقینا دنیا کے سب سے خوش قسمت اور مغرور لوگ ہوں گے۔

اے شخص میں تیری

اے شخص میں تیری جستجو سے

بے زار نہیں ہوں تھک گیا ہوں

Explanation: محبت کی مسلسل ناکام کوششوں کا کرب ہے کہ شاعر نے محبوب سے نفرت نہیں کی اور نہ ہی محبت سے بیزار ہوا ہے، بلکہ وہ محض اس کی تلاش اور اذیت سہہ سہہ کر اندر سے تھک چکا ہے۔

مجھ کو عادت ہے

مجھ کو عادت ہے روٹھ جانے کی

آپ مجھ کو منا لیا کیجے

Explanation: یہ محبت میں نخرے اور ناز دکھانے کا بہت معصومانہ انداز ہے، شاعر محبوب سے لاڈ میں کہتا ہے کہ میرا مزاج جلدی ناراض ہونے والا ہے، اس لیے تمہاری ذمہ داری ہے کہ مجھے پیار سے منا لیا کرو۔

بولتے کیوں نہیں مرے

بولتے کیوں نہیں مرے حق میں

آبلے پڑ گئے زبان میں کیا

Explanation: شاعر اپنے دوستوں اور معاشرے کی خاموشی پر غصے کا اظہار کر رہا ہے کہ جب میرے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے تو سب چپ کیوں ہیں، کیا سچ بولنے سے تمہاری زبانوں میں چھالے پڑ جائیں گے؟

نیا اک رشتہ پیدا

نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم

بچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم

Explanation: جدائی کو پرسکون طریقے سے قبول کرنے کا مشورہ ہے، شاعر کہتا ہے کہ جب تعلق ٹوٹنا ہی طے ہو گیا ہے تو اسے دشمنی اور جھگڑے کا روپ دے کر ایک نیا تلخ رشتہ کیوں بنایا جائے۔

یاد اسے انتہائی کرتے

یاد اسے انتہائی کرتے ہیں

سو ہم اس کی برائی کرتے ہیں

Explanation: یہ انسان کی ایک عجیب نفسیاتی کیفیت ہے کہ جب وہ کسی شخص کو بہت زیادہ شدت سے یاد کرتا ہے اور اسے پا نہیں سکتا، تو وہ اپنی جھنجھلاہٹ اور درد چھپانے کے لیے اس کی برائیاں شروع کر دیتا ہے۔

اب تو ہر بات

اب تو ہر بات یاد رہتی ہے

غالباً میں کسی کو بھول گیا

Explanation: جب انسان کسی کے عشق میں ہوتا ہے تو اسے دنیا کی ہر چیز بھول جاتی ہے، لیکن شاعر طنزیہ طور پر کہتا ہے کہ اب چونکہ مجھے روزمرہ کی ہر بات یاد رہتی ہے، اس کا مطلب ہے میں اس محبوب کی یادوں سے آزاد ہو گیا ہوں۔

اس کے ہونٹوں پہ

اس کے ہونٹوں پہ رکھ کے ہونٹ اپنے

بات ہی ہم تمام کر رہے ہیں

Explanation: یہ قربت کے انتہائی گہرے اور رومانوی لمحے کا بیان ہے کہ جب زبان سے اظہارِ محبت ناکافی ہو جائے، تو عاشق محبوب کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ کر بغیر کچھ کہے اپنے دل کی ساری بات مکمل کر لیتا ہے۔

ایک ہی تو ہوس

ایک ہی تو ہوس رہی ہے ہمیں

اپنی حالت تباہ کی جائے

Explanation: جون ایلیا کا مخصوص تخریبی انداز ہے کہ عام انسان کو دنیاوی ترقی کی ہوس ہوتی ہے، مگر عاشق یا حساس انسان کی واحد خواہش اور جنون صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ محبت کے دکھ میں اپنی ہی ذات کو برباد کرے۔

کام کی بات میں

کام کی بات میں نے کی ہی نہیں

یہ مرا طور زندگی ہی نہیں

Explanation: دنیاوی لوگوں پر طنز ہے جو ہر چیز میں منافع اور مطلب (کام کی بات) تلاش کرتے ہیں، شاعر کہتا ہے کہ میری زندگی کا انداز درویشانہ ہے اور میرا مادی فائدے والی باتوں سے کوئی تعلق نہیں۔

آج مجھ کو بہت

آج مجھ کو بہت برا کہہ کر

آپ نے نام تو لیا میرا

Explanation: یہ عاشق کی وہ کیفیت ہے جہاں اسے محبوب کی بے توجہی سے زیادہ اس کی گالیاں بھی گوارا ہوتی ہیں، کہ چلو برا بھلا ہی سہی، کم از کم اس بہانے تمہاری زبان پر میرا نام تو آیا۔

جرم میں ہم کمی

جرم میں ہم کمی کریں بھی تو کیوں

تم سزا بھی تو کم نہیں کرتے

Explanation: محبوب یا خدا سے شکوہ ہے کہ جب تم ہماری چھوٹی چھوٹی غلطیوں پر اتنی کڑی سزائیں دیتے ہو اور ظلم کم نہیں کرتے، تو پھر ہم گناہوں اور بغاوت سے باز کیوں آئیں۔

یہ کافی ہے کہ

یہ کافی ہے کہ ہم دشمن نہیں ہیں

وفا داری کا دعویٰ کیوں کریں ہم

Explanation: رشتے کی سچائی کا اعتراف ہے کہ ہم جھوٹے دعوے نہیں کرتے، محبت اور وفا شاید اب ہمارے درمیان نہیں، لیکن یہی بہت غنیمت ہے کہ ہم ایک دوسرے کے جانی دشمن نہیں بنے۔

اپنا رشتہ زمیں سے

اپنا رشتہ زمیں سے ہی رکھو

کچھ نہیں آسمان میں رکھا

Explanation: یہ انسان کو حقیقت پسند ہونے کی دعوت ہے کہ آسمانی یا خیالی امیدوں (معجزوں) پر جینے کے بجائے، زمینی حقیقتوں کا سامنا کرو اور اس دنیا کی تلخ سچائیوں میں ہی جینا سیکھو۔

ہو رہا ہوں میں

ہو رہا ہوں میں کس طرح برباد

دیکھنے والے ہاتھ ملتے ہیں

Explanation: شاعر کی زندگی اور اس کے ہنر کی تباہی اس قدر خوفناک اور عبرت ناک ہے کہ دوسرے لوگ اسے برباد ہوتا دیکھ کر افسوس سے ہاتھ ملتے ہیں، مگر اسے بچانے کوئی نہیں آتا۔

شوق ہے اس دل

شوق ہے اس دل درندہ کو

آپ کے ہونٹ کاٹ کھانے کا

Explanation: یہ محبت اور دیوانگی کی وہ شدید اور پاگل پن کی حد ہے جہاں انسان کا جذبہ ایک وحشیانہ شکل اختیار کر لیتا ہے اور وہ محبوب کو پوری طرح اپنے اندر جذب کر لینا چاہتا ہے۔

اپنے سب یار کام

اپنے سب یار کام کر رہے ہیں

اور ہم ہیں کہ نام کر رہے ہیں

Explanation: معاشرے کے دوہرے معیار پر طنز ہے کہ دوست اپنے دنیاوی فائدے اور مادی ترقی (کام) میں لگے ہوئے ہیں، جبکہ شاعر کا مقصد دولت کمانا نہیں بلکہ فن اور سچائی سے اپنا نام پیدا کرنا ہے۔

اتنا خالی تھا اندروں

اتنا خالی تھا اندروں میرا

کچھ دنوں تو خدا رہا مجھ میں

Explanation: شاعر اپنے دل کی گہری ویرانی کو بیان کرتا ہے کہ میرے اندر دنیا کی کوئی خواہش یا دکھ نہیں تھا، اور اس مکمل خالی پن کی وجہ سے مجھے کچھ دن ایسا لگا جیسے میرے اندر خدا کی ذات آ گئی ہو۔

جاتے جاتے آپ اتنا

جاتے جاتے آپ اتنا کام تو کیجے مرا

یاد کا سارا سر و ساماں جلاتے جائیے

Explanation: محبوب کے چھوڑ جانے کا دکھ ہے کہ اگر تم جا ہی رہے ہو، تو پھر مہربانی کر کے اپنی تمام نشانیاں اور یادیں بھی تباہ کر جاؤ تاکہ مجھے بعد میں تمہاری یاد میں تڑپنا نہ پڑے۔

مل رہی ہو بڑے

مل رہی ہو بڑے تپاک کے ساتھ

مجھ کو یکسر بھلا چکی ہو کیا

Explanation: ماضی کے محبوب کی بہت زیادہ گرمجوشی اور رسمی رویے کو دیکھ کر شاعر کو تکلیف ہوتی ہے کہ اتنے خلوص سے تو اجنبی ملتے ہیں، کیا تم ہمارے پرانے گہرے رشتے کو بالکل ہی بھول گئی ہو۔