Skip to content

Jaun Eliya

تمہاری یاد میں جینے

تمہاری یاد میں جینے کی آرزو ہے ابھی

کچھ اپنا حال سنبھالوں اگر اجازت ہو

Explanation: محبت کی ناکامی نے شاعر کو اس قدر تباہ کر دیا ہے کہ اب وہ محبوب سے اجازت مانگ رہا ہے کہ میں اپنی زندگی کو تھوڑا سا بہتر کر لوں، تاکہ کم از کم زندہ رہ کر تمہاری یاد تو منا سکوں۔

وفا اخلاص قربانی محبت

وفا اخلاص قربانی محبت

اب ان لفظوں کا پیچھا کیوں کریں ہم

Explanation: دنیا کی منافقت اور دھوکے سے مایوس ہو کر شاعر کہتا ہے کہ اب یہ تمام خوبصورت جذبے صرف کتابی باتیں رہ گئے ہیں، عملی زندگی میں ان کا کوئی وجود نہیں، اس لیے اب ان کے پیچھے بھاگنا بے وقوفی ہے۔

اب جو رشتوں میں

اب جو رشتوں میں بندھا ہوں تو کھلا ہے مجھ پر

کب پرند اڑ نہیں پاتے ہیں پروں کے ہوتے

Explanation: خاندانی اور معاشرتی ذمہ داریوں نے انسان کو قید کر دیا ہے، شاعر کہتا ہے کہ اب مجھے احساس ہوا ہے کہ انسان کے پاس اڑنے کی صلاحیت ہونے کے باوجود وہ رشتوں کے بوجھ کی وجہ سے کیوں اڑ نہیں پاتا۔

گنوائی کس کی تمنا

گنوائی کس کی تمنا میں زندگی میں نے

وہ کون ہے جسے دیکھا نہیں کبھی میں نے

Explanation: یہ ایک وجودی اور صوفیانہ سوال ہے کہ انسان ساری زندگی ایک انجانی منزل، مثالی محبوب یا خدا کی تلاش میں اپنی زندگی قربان کر دیتا ہے جس کی حقیقت وہ خود بھی نہیں جانتا۔

ہر شخص سے بے

ہر شخص سے بے نیاز ہو جا

پھر سب سے یہ کہہ کہ میں خدا ہوں

Explanation: جب انسان دنیا کی تمام محتاجیوں، خوف اور امیدوں سے خود کو مکمل آزاد کر لے، تو وہ روحانی طور پر اتنی بلندی پر پہنچ جاتا ہے کہ اسے اپنے اندر خدائی صفات (بے نیازی) محسوس ہونے لگتی ہیں۔

زندگی کیا ہے اک

زندگی کیا ہے اک کہانی ہے

یہ کہانی نہیں سنانی ہے

Explanation: زندگی کے بے مقصدیت اور اذیت کا بیان ہے کہ یہ محض ایک درد بھری داستان ہے، جو اس قدر تکلیف دہ اور شرمناک ہے کہ شاعر اسے کسی اور کو سنانا بھی پسند نہیں کرتا۔

یہ بہت غم کی

یہ بہت غم کی بات ہو شاید

اب تو غم بھی گنوا چکا ہوں میں

Explanation: درد سہتے سہتے انسان ایسی بے حسی کی کیفیت میں پہنچ جاتا ہے جہاں اسے مزید تکلیف محسوس نہیں ہوتی، شاعر کہتا ہے کہ میرا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اب میرے دل میں دکھ کا احساس بھی مر گیا ہے۔

اپنے سر اک بلا

اپنے سر اک بلا تو لینی تھی

میں نے وہ زلف اپنے سر لی ہے

Explanation: محبت کو ایک خوبصورت مصیبت کہا گیا ہے، شاعر کہتا ہے کہ زندگی میں کوئی نہ کوئی پریشانی تو گلے پڑنی ہی تھی، اس لیے میں نے محبوب کے عشق کی مصیبت کو جان بوجھ کر اختیار کر لیا۔

شب جو ہم سے

شب جو ہم سے ہوا معاف کرو

نہیں پی تھی بہک گئے ہوں گے

Explanation: یہ ایک طنزیہ اور الٹا دعویٰ ہے، عموماً لوگ شراب پی کر بہکتے ہیں، لیکن شاعر کہتا ہے کہ کل رات جو مجھ سے غلطی ہوئی، اس کی وجہ یہ تھی کہ میں ہوش میں تھا، اگر پی ہوتی تو میں شاید صحیح حالت میں ہوتا۔

خموشی سے ادا ہو

خموشی سے ادا ہو رسم دوری

کوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم

Explanation: جدائی کے وقت کے وقار کا ذکر ہے کہ جب الگ ہونا مقدر بن چکا ہے، تو اس پر شور مچانے اور رو دھو کر دنیا کے سامنے تماشا بننے سے بہتر ہے کہ اسے خاموشی اور عزت سے قبول کر لیا جائے۔

رویا ہوں تو اپنے

رویا ہوں تو اپنے دوستوں میں

پر تجھ سے تو ہنس کے ہی ملا ہوں

Explanation: شاعر کی خودداری اور محبوب سے اپنی کمزوری چھپانے کا بیان ہے، کہ میں نے اپنے سارے آنسو تنہائی یا دوستوں کے سامنے بہائے ہیں، لیکن محبوب کے سامنے کبھی اپنی شکستگی ظاہر نہیں کی۔

سب میرے بغیر مطمئن

سب میرے بغیر مطمئن ہیں

میں سب کے بغیر جی رہا ہوں

Explanation: دنیا کی بے حسی اور اپنی تنہائی پر شاعر کا طنز ہے کہ لوگوں کو میرے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، اور میں نے بھی دنیا سے کٹ کر مکمل اکیلے جینے کی عادت ڈال لی ہے۔

اور کیا چاہتی ہے

اور کیا چاہتی ہے گردش ایام کہ ہم

اپنا گھر بھول گئے ان کی گلی بھول گئے

Explanation: زمانے کے ظالمانہ حالات نے شاعر کی زندگی کو اتنا تہہ و بالا کر دیا ہے کہ اس نے اپنا سکون (گھر) اور اپنا عشق (محبوب کی گلی) سب کچھ بھلا دیا ہے، اور اب وہ زمانے سے پوچھتا ہے کہ اب مزید کیا بربادی باقی ہے۔

مجھ سے اب لوگ

مجھ سے اب لوگ کم ہی ملتے ہیں

یوں بھی میں ہٹ گیا ہوں منظر سے

Explanation: جب انسان کامیاب نہ رہے یا عملی زندگی سے کنارہ کش ہو جائے تو دنیا اسے بھول جاتی ہے، شاعر اپنی تنہائی کا ذکر کرتا ہے کہ جب میں نے دنیا داری چھوڑی، تو دنیا نے بھی مجھ سے ملنا چھوڑ دیا۔

مجھ کو خواہش ہی

مجھ کو خواہش ہی ڈھونڈنے کی نہ تھی

مجھ میں کھویا رہا خدا میرا

Explanation: یہ ایک صوفیانہ خیال ہے کہ خدا تو انسان کے اپنے دل کے اندر ہی موجود ہے، لیکن شاعر کی غفلت اور دنیاوی ہوس یہ تھی کہ اس نے کبھی اپنے اندر جھانک کر اس رب کو تلاش کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔

آج بہت دن بعد

آج بہت دن بعد میں اپنے کمرے تک آ نکلا تھا

جوں ہی دروازہ کھولا ہے اس کی خوشبو آئی ہے

Explanation: ایک طویل عرصے بعد جب شاعر اپنی پرانی جگہ (کمرے) یا یادوں کی دنیا میں واپس لوٹا، تو محبوب کے ساتھ بیتے ہوئے لمحوں کی وہ তীব্র مہک نے اسے فوری طور پر گھیر لیا۔

ہماری ہی تمنا کیوں

ہماری ہی تمنا کیوں کرو تم

تمہاری ہی تمنا کیوں کریں ہم

Explanation: یہ برابری اور ضد کا ایک دلچسپ رویہ ہے جس میں شاعر محبوب سے کہتا ہے کہ جس طرح تم اپنے غرور میں مجھے نہیں مانگتے، تو میں کیوں اپنی خودداری گرا کر ہمیشہ تمہاری ہی خواہش کروں۔

جانیے اس سے نبھے

جانیے اس سے نبھے گی کس طرح

وہ خدا ہے میں تو بندہ بھی نہیں

Explanation: محبوب کو خدا کا درجہ دینے اور اپنی عاجزی کا بیان ہے، کہ جب محبوب اتنے بلند مقام اور غرور پر ہے، تو میرے جیسے ناچیز انسان کی اس کے ساتھ محبت کیسے قائم رہ سکتی ہے۔

تیغ بازی کا شوق

تیغ بازی کا شوق اپنی جگہ

آپ تو قتل عام کر رہے ہیں

Explanation: محبوب کے حسن اور اس کی قاتل نگاہوں پر طنز ہے کہ تمہارے تیروں (نظروں) سے ایک دو لوگ گھائل ہوں تو بات سمجھ آتی ہے، لیکن تم نے تو اپنے حسن سے پوری دنیا کا ہی قتلِ عام شروع کر رکھا ہے۔

میں جرم کا اعتراف

میں جرم کا اعتراف کر کے

کچھ اور ہے جو چھپا گیا ہوں

Explanation: انسانی نفسیات کی گہری چال ہے کہ کبھی کبھار انسان کسی چھوٹی سی غلطی کا اعتراف صرف اس لیے کر لیتا ہے تاکہ لوگوں کی توجہ ہٹ جائے اور اس کا اصل اور بڑا راز چھپا رہے۔