Skip to content

Jaun Eliya

ہم کہاں اور تم

ہم کہاں اور تم کہاں جاناں

ہیں کئی ہجر درمیاں جاناں

Explanation: محبوب سے اس قدر شدید فاصلے پیدا ہو گئے ہیں کہ شاعر کہتا ہے کہ ہمارے ملنے کا اب کوئی امکان نہیں، ہمارے درمیان اتنی دوریاں اور رکاوٹیں آ چکی ہیں جو ختم نہیں ہو سکتیں۔

فلاں سے تھی غزل

فلاں سے تھی غزل بہتر فلاں کی

فلاں کے زخم اچھے تھے فلاں سے

Explanation: دنیا کی فضول بحثوں اور ادبی محفلوں کی منافقت پر طنز ہے جہاں لوگ دوسروں کے دکھوں اور شاعری کا محض موازنہ کرتے رہتے ہیں، جبکہ انہیں کسی کے اصل درد سے کوئی ہمدردی نہیں ہوتی۔

ٹھیک ہے خود کو

ٹھیک ہے خود کو ہم بدلتے ہیں

شکریہ مشورت کا چلتے ہیں

Explanation: یہ طنزیہ اور تلخ الوداعی انداز ہے، جب کوئی نصیحت کرنے والا شاعر کے زخموں کو سمجھنے کے بجائے اسے بدلنے کا مشورہ دیتا ہے تو وہ انتہائی خفگی کے ساتھ اس کا مشورہ مان کر وہاں سے چلا جاتا ہے۔

کیا ہے جو بدل

کیا ہے جو بدل گئی ہے دنیا

میں بھی تو بہت بدل گیا ہوں

Explanation: شاعر کو دنیا کی بے حسی اور لوگوں کے بدلنے کا دکھ نہیں، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ تلخ حالات اور دکھوں نے خود اس کی اپنی ذات اور فطرت کو بھی مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے۔

اب تم کبھی نہ

اب تم کبھی نہ آؤ گے یعنی کبھی کبھی

رخصت کرو مجھے کوئی وعدہ کیے بغیر

Explanation: شاعر محبوب کے جھوٹے وعدوں سے تنگ آ چکا ہے، وہ جانتا ہے کہ محبوب کبھی لوٹ کر نہیں آئے گا، اس لیے وہ التجا کرتا ہے کہ اس بار مجھے جھوٹی امید دیے بغیر صاف لفظوں میں ہمیشہ کے لیے رخصت کر دو۔

ہمارے زخم تمنا پرانے

ہمارے زخم تمنا پرانے ہو گئے ہیں

کہ اس گلی میں گئے اب زمانے ہو گئے ہیں

Explanation: ایک طویل عرصہ گزرنے کے بعد محبت کی خواہش اور اس سے جڑے دکھ کی شدت میں کمی آ گئی ہے، کیونکہ اب محبوب کی گلی سے گزرے اور اس درد کو تازہ کیے بہت وقت بیت چکا ہے۔

کل کا دن ہائے

کل کا دن ہائے کل کا دن اے جونؔ

کاش اس رات ہم بھی مر جائیں

Explanation: مستقبل میں آنے والے کسی شدید دکھ یا محبوب کے بچھڑنے کے خوف نے شاعر کو اتنا ہراساں کر دیا ہے کہ وہ اس تکلیف کا سامنا کرنے کے بجائے آج کی رات ہی موت کی خواہش کر رہا ہے۔

خرچ چلے گا اب

خرچ چلے گا اب مرا کس کے حساب میں بھلا

سب کے لئے بہت ہوں میں اپنے لئے ذرا نہیں

Explanation: شاعر کی زندگی دوسروں کے کام آتے اور لٹتے گزر گئی، اب وہ خود سے سوال کرتا ہے کہ جو شخص سب کے لیے اتنا کچھ کرتا رہا، آج اس کے اپنے لیے کچھ بھی نہیں بچا تو اب اس کی تنہائی کا سہارا کون بنے گا۔

چاند نے تان لی

چاند نے تان لی ہے چادر ابر

اب وہ کپڑے بدل رہی ہوگی

Explanation: یہ ایک انتہائی نفیس اور رومانوی تشبیہ ہے جس میں چاند کے بادلوں کے پیچھے چھپنے کو محبوب کے پردہ کرنے اور کپڑے بدلنے کی خلوت سے ملایا گیا ہے، جس میں فطرت بھی محبوب کے تقدس کا خیال رکھ رہی ہے۔

اپنے اندر ہنستا ہوں

اپنے اندر ہنستا ہوں میں اور بہت شرماتا ہوں

خون بھی تھوکا سچ مچ تھوکا اور یہ سب چالاکی تھی

Explanation: انسانی جذبات کے دکھاوے اور منافقت کا بیان ہے، شاعر نے اپنے دکھ کو سچا ثابت کرنے کے لیے خون تھوکنے جیسی انتہائی حد پار کی، مگر اندر سے وہ جانتا ہے کہ یہ سب اس کی ایک چال تھی اور اسے خود پر شرم آ رہی ہے۔

تو کیا سچ مچ

تو کیا سچ مچ جدائی مجھ سے کر لی

تو خود اپنے کو آدھا کر لیا کیا

Explanation: شاعر محبوب کو بتاتا ہے کہ ہم دو جسم اور ایک جان تھے، اگر تم نے واقعی مجھ سے جدائی کا فیصلہ کر لیا ہے تو اس کا مطلب ہے تم نے میری نہیں بلکہ خود اپنی ہی ذات کی تکمیل کو توڑ کر خود کو آدھا کر دیا ہے۔

میں اب ہر شخص

میں اب ہر شخص سے اکتا چکا ہوں

فقط کچھ دوست ہیں اور دوست بھی کیا

Explanation: دنیا کی تلخیوں نے شاعر کو انسانوں سے اس قدر بیزار کر دیا ہے کہ اب اسے کسی سے ملنا پسند نہیں، اور جو چند نام نہاد دوست بچے ہیں، وہ بھی کسی کام کے نہیں بلکہ صرف برائے نام دوست ہیں۔

اب تو اس کے

اب تو اس کے بارے میں تم جو چاہو وہ کہہ ڈالو

وہ انگڑائی میرے کمرے تک تو بڑی روحانی تھی

Explanation: محبوب کی بے وفائی کے بعد لوگ چاہے اسے جتنا بھی برا بھلا کہیں، مگر شاعر کو آج بھی وہ یاد ہے کہ جب وہ پہلی بار اس کے پاس آئی تھی تو اس کے حسن اور لمس میں ایک ناقابلِ فراموش پاکیزگی اور سحر تھا۔

مجھ کو تو کوئی

مجھ کو تو کوئی ٹوکتا بھی نہیں

یہی ہوتا ہے خاندان میں کیا

Explanation: خاندان کی بے حسی اور لاپروائی کا المیہ ہے، شاعر کہتا ہے کہ جب انسان بربادی کی طرف جا رہا ہو اور اس کے اپنے رشتے دار اسے روکنے کے بجائے خاموش تماشائی بنے رہیں، تو کیا خاندانی رشتوں کی یہی حقیقت ہوتی ہے؟

یہ وار کر گیا

یہ وار کر گیا ہے پہلو سے کون مجھ پر

تھا میں ہی دائیں بائیں اور میں ہی درمیاں تھا

Explanation: یہ انسان کا اپنی ہی ذات کے ہاتھوں تباہ ہونے کا دکھ ہے، شاعر کو محسوس ہوتا ہے کہ اس پر کسی اور نے نہیں بلکہ اس کی اپنی ہی اندرونی کشمکش، خود فریبی اور فیصلوں نے پیچھے سے خنجر سے وار کیا ہے۔

آئینوں کو زنگ لگا

آئینوں کو زنگ لگا

اب میں کیسا لگتا ہوں

Explanation: وقت گزرنے کے ساتھ تنہائی اس قدر گہری ہو چکی ہے کہ اب خود کو دیکھنے والا آئینہ بھی زنگ آلود ہو چکا ہے، اور اب کوئی ایسا شخص باقی نہیں رہا جو مجھے میری حقیقت یا میری خوبی بتا سکے۔

پڑی رہنے دو انسانوں

پڑی رہنے دو انسانوں کی لاشیں

زمیں کا بوجھ ہلکا کیوں کریں ہم

Explanation: انسانیت کی گراوٹ اور قتل و غارت پر ایک انتہائی سخت طنز ہے کہ ظالم اور درندے انسانوں کو مارنے کے بعد انہیں دفنانے کی تکلف بھی کیوں کر رہے ہیں، ان لاشوں کو یونہی گلنے سڑنے دو کیونکہ یہی اس زمین کی حقیقت بن چکی ہے۔

مجھے اب ہوش آتا

مجھے اب ہوش آتا جا رہا ہے

خدا تیری خدائی جا رہی ہے

Explanation: انسان جب علم، شعور اور بغاوت کی منازل طے کر کے خود شناسی پر پہنچتا ہے، تو اس کے ذہن سے توہمات، جھوٹے خوف اور روایتی عقائد کی حکمرانی (خدائی) ختم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

داد و تحسین کا

داد و تحسین کا یہ شور ہے کیوں

ہم تو خود سے کلام کر رہے ہیں

Explanation: شاعر کو اس بات پر حیرت ہے کہ اس نے تو صرف اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنے اور تنہائی مٹانے کے لیے خود کلامی (شاعری) کی تھی، اور دنیا نے اسے ایک عظیم فن سمجھ کر تالیاں بجانا شروع کر دیں۔

جسم میں آگ لگا

جسم میں آگ لگا دوں اس کے

اور پھر خود ہی بجھا دوں اس کو

Explanation: محبت میں ایک عجیب تخریبی جذبہ اور جنون ہے جس میں عاشق چاہتا ہے کہ وہ محبوب کی ذات پر پورا کنٹرول حاصل کر کے اسے درد کی انتہا تک لے جائے اور پھر اپنی ہی محبت سے اسے سکون بھی دے۔