Skip to content

Jaun Eliya

یارو کچھ تو ذکر

یارو کچھ تو ذکر کرو تم اس کی قیامت بانہوں کا

وہ جو سمٹتے ہوں گے ان میں وہ تو مر جاتے ہوں گے

Explanation: محبوب کے حسن اور اس کے لمس کی دلفریبی کا تذکرہ ہے، شاعر کہتا ہے کہ اس کی بانہوں میں اتنی قیامت خیز کشش ہے کہ جو شخص اس کی آغوش میں جاتا ہوگا وہ محبت کی شدت سے وہیں جان دے دیتا ہوگا۔

علاج یہ ہے کہ

علاج یہ ہے کہ مجبور کر دیا جاؤں

وگرنہ یوں تو کسی کی نہیں سنی میں نے

Explanation: شاعر اپنی باغیانہ اور آزاد فطرت کا اعتراف کرتا ہے کہ میں کسی کی نصیحت یا حکم آسانی سے نہیں مانتا، مجھ سے کوئی کام کروانے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ مجھے حالات کے تحت مجبور کر دیا جائے۔

ایک ہی حادثہ تو

ایک ہی حادثہ تو ہے اور وہ یہ کہ آج تک

بات نہیں کہی گئی بات نہیں سنی گئی

Explanation: یہ انسانوں کے درمیان رابطے کے فقدان اور غلط فہمیوں کا نوحہ ہے کہ زندگی کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ جو دلی جذبات بتانے چاہیے تھے وہ کبھی بتائے نہ جا سکے، اور جو سننے چاہیے تھے وہ سنے نہ جا سکے۔

اس گلی نے یہ

اس گلی نے یہ سن کے صبر کیا

جانے والے یہاں کے تھے ہی نہیں

Explanation: یہ ہجرت، موت یا محبوب کے جانے کا استعارہ ہے کہ جب کوئی اپنا چھوڑ کر چلا جاتا ہے، تو انسان خود کو یہ کہہ کر تسلی دے لیتا ہے کہ شاید وہ شخص ہمارا تھا ہی نہیں اور اسے جانا ہی تھا۔

اور تو کیا تھا

اور تو کیا تھا بیچنے کے لئے

اپنی آنکھوں کے خواب بیچے ہیں

Explanation: مفاد پرستی کے دور میں غربت یا مجبوری کا بیان ہے کہ جب انسان کے پاس دنیا میں دینے کے لیے کچھ نہیں بچتا، تو وہ اپنی بقا کی خاطر اپنے روشن مستقبل کے خوابوں اور اصولوں کا بھی سودا کر لیتا ہے۔

دل کی تکلیف کم

دل کی تکلیف کم نہیں کرتے

اب کوئی شکوہ ہم نہیں کرتے

Explanation: جب درد کی شدت حد سے بڑھ جائے تو انسان شکایت کرنا چھوڑ دیتا ہے، شاعر کہتا ہے کہ چونکہ شکوہ کرنے سے دل کا درد کم نہیں ہوتا، اس لیے ہم نے خاموشی اختیار کر لی ہے۔

اب مری کوئی زندگی

اب مری کوئی زندگی ہی نہیں

اب بھی تم میری زندگی ہو کیا

Explanation: شاعر خود سے اور محبوب سے ایک تلخ سوال کرتا ہے کہ جب میری اپنی زندگی تباہ اور بے مقصد ہو چکی ہے، تو کیا اس بربادی کے بعد بھی تم خود کو میری زندگی کہلانا پسند کرو گے؟

بن تمہارے کبھی نہیں

بن تمہارے کبھی نہیں آئی

کیا مری نیند بھی تمہاری ہے

Explanation: محبوب کی یاد کا ایسا غلبہ ہے کہ اس کی قربت یا تصور کے بغیر شاعر کو نیند تک نہیں آتی، اور وہ حیرت سے پوچھتا ہے کہ میری اپنی نیند بھی تمہاری محتاج کیوں بن گئی ہے۔

زندگی ایک فن ہے

زندگی ایک فن ہے لمحوں کو

اپنے انداز سے گنوانے کا

Explanation: جون ایلیا کا زندگی کے بارے میں انتہائی منفرد فلسفہ ہے کہ زندگی کوئی عظیم مقصد پانے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک فن ہے کہ انسان کس طرح اپنی مرضی اور اپنے طریقے سے وقت کو ضائع کرتا ہے۔

تمہارا ہجر منا لوں

تمہارا ہجر منا لوں اگر اجازت ہو

میں دل کسی سے لگا لوں اگر اجازت ہو

Explanation: شاعر طنزیہ اور بے بسی کے عالم میں محبوب سے مخاطب ہے کہ تم تو بچھڑ گئے، کیا اب میں تمہاری یاد سے نکل کر کسی اور سے دل لگا لوں تاکہ اس جدائی کے دکھ کو بھلا سکوں۔

حاصل کن ہے یہ

حاصل کن ہے یہ جہان خراب

یہی ممکن تھا اتنی عجلت میں

Explanation: خدا کی تخلیق (دنیا) پر ایک گہرا شاعرانہ طنز ہے کہ اللہ نے کائنات کو 'کن' (ہوجا) کہہ کر جلد بازی میں بنایا، اسی لیے یہ دنیا اتنی نامکمل، خامیوں سے بھری اور برباد ہے۔

میری بانہوں میں بہکنے

میری بانہوں میں بہکنے کی سزا بھی سن لے

اب بہت دیر میں آزاد کروں گا تجھ کو

Explanation: وصل کے عالم کا رومانوی اور شدید جذباتی اظہار ہے کہ محبوب جب محبت میں قریب آیا ہے تو عاشق اسے اپنی قید میں اس قدر مضبوطی سے جکڑ لے گا کہ اسے جلدی جانے نہیں دے گا۔

ہاں ٹھیک ہے میں

ہاں ٹھیک ہے میں اپنی انا کا مریض ہوں

آخر مرے مزاج میں کیوں دخل دے کوئی

Explanation: اپنی ذات کی آزادی اور خود مختاری کا دفاع ہے، شاعر دنیا سے کہتا ہے کہ بے شک میں مغرور اور انا پرست ہوں، مگر یہ میری زندگی ہے اور کسی کو میری ذات پر تنقید کا کوئی حق نہیں۔

میں رہا عمر بھر

میں رہا عمر بھر جدا خود سے

یاد میں خود کو عمر بھر آیا

Explanation: یہ خود فراموشی اور باطنی کشمکش کا بیان ہے کہ انسان دوسروں کی خاطر اپنی اصلی ذات سے اتنا دور ہو گیا کہ ساری عمر وہ خود اپنی ہی حقیقی پہچان اور سکون کو ترستا رہا۔

میری ہر بات بے

میری ہر بات بے اثر ہی رہی

نقص ہے کچھ مرے بیان میں کیا

Explanation: شاعر کو اس بات کا شدید دکھ ہے کہ اس کی التجائیں اور دل کی باتیں محبوب پر کوئی اثر نہیں کر رہیں، اور وہ خود سے سوال کرتا ہے کہ کیا میرے جذبات بتانے کے انداز میں کوئی کمی ہے۔

اب نہیں کوئی بات

اب نہیں کوئی بات خطرے کی

اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے

Explanation: یہ معاشرے کی نفسا نفسی اور بداعتمادی پر گہرا طنز ہے کہ جب ہر انسان دوسرے انسان کا دشمن بن جائے اور کسی پر بھروسہ نہ رہے، تو یہ تباہی اتنی عام ہو جاتی ہے کہ خطرہ محسوس ہونا بند ہو جاتا ہے۔

کوئی مج مجھ تک

کوئی مج مجھ تک پہنچ نہیں پاتا

اتنا آسان ہے پتا میرا

Explanation: شاعر اپنی گہری تنہائی اور سادگی کا ذکر کرتا ہے کہ میں اتنی سیدھی اور کھلی کتاب ہوں کہ میرا پتہ تلاش کرنا بہت آسان ہے، مگر پھر بھی اس مفاد پرست دنیا میں کوئی مجھے سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا۔

ہیں دلیلیں ترے خلاف

ہیں دلیلیں ترے خلاف مگر

سوچتا ہوں تری حمایت میں

Explanation: عقل اور دل کی جنگ ہے کہ محبوب کے ظالمانہ رویے کے ثبوت عقل کے پاس موجود ہیں، لیکن محبت کی وجہ سے دل پھر بھی محبوب کو سچا ماننے اور اس کا ساتھ دینے پر مجبور ہے۔

جان لیوا تھیں خواہشیں

جان لیوا تھیں خواہشیں ورنہ

وصل سے انتظار اچھا تھا

Explanation: شاعر کو وصل (ملاقات) کے بعد وہ سکون نہیں ملا جس کی اسے توقع تھی، وہ کہتا ہے کہ ملنے کے بعد کی اداسی سے وہ انتظار کا وقت بہتر تھا جس میں کم از کم امید کی کشش تو باقی تھی۔

نہیں دنیا کو جب

نہیں دنیا کو جب پروا ہماری

تو پھر دنیا کی پروا کیوں کریں ہم

Explanation: یہ دنیا سے بے نیازی اور خودداری کا اظہار ہے کہ جس معاشرے کو ہمارے جینے مرنے اور ہمارے دکھ درد کا احساس نہیں، ہمیں بھی اس کی رسومات اور پرواہ کو ترک کر دینا چاہیے۔