وہ ہجوم دل زدگاں
وہ ہجوم دل زدگاں کہ تھا تجھے مژدہ ہو کہ بکھر گیا
ترے آستانے کی خیر ہو سر رہ غبار بھی اب نہیں
Explanation: محبوب کو مبارکباد دی جا رہی ہے کہ تیرے دروازے پر عاشقوں کی جو بھیڑ تھی وہ اب ٹوٹ چکی ہے، اور تیری گلی اب اتنی ویران ہو گئی ہے کہ وہاں کسی کے گزرنے کی دھول بھی باقی نہیں۔
معنئ جاودان جاں کچھ
معنئ جاودان جاں کچھ بھی نہیں مگر زیاں
سارے کلیم ہیں زبوں سارا کلام رنج ہے
Explanation: زندگی کی لاحاصلی کا کرب ہے کہ ہمیشہ زندہ رہنے کی خواہش محض ایک نقصان ہے، یہاں بولنے والا ہر شخص بھی برباد ہے اور دنیا کا تمام علم اور گفتگو محض رنج و غم کا پلندہ ہے۔
صد یاد یاد جونؔ
صد یاد یاد جونؔ وہ ہنگام دل کہ جب
ہم ایک گام کے نہ تھے پر ہفت خواں کے تھے
Explanation: جوانی کے جوش اور ہمت کی یاد ہے، جب ہم ایک قدم چلنے کے قابل بھی نہیں تھے لیکن ہمارے حوصلے اتنے بلند تھے کہ ہم ہفت خواں (سات کٹھن منزلوں) کو عبور کرنے کے ارادے رکھتے تھے۔
عشرت حال نو مبارک
عشرت حال نو مبارک ہو
آپ کو سال نو مبارک ہو
Explanation: یہ نئے سال پر دیا جانے والا ایک انتہائی سادہ مگر گہرا طنزیہ پیغام ہے جس میں شاعر بظاہر دعا دیتا ہے لیکن باطن میں نئے سال کے آغاز کو محض پرانے غموں کے نئے تسلسل کے طور پر دیکھتا ہے۔
یاد مت رکھیو یہ
یاد مت رکھیو یہ روداد ہماری ہرگز
ہم تھے وہ تاج محل جونؔ جو ڈھائے بھی گئے
Explanation: شاعر کہتا ہے کہ ہماری تباہی کی کہانی کو یاد رکھنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ جس طرح خوبصورت اور لاثانی تاج محل کو مٹانے کی کوششیں ہوئیں، ہم بھی اتنے ہی شاندار تھے اور اسی طرح بے دردی سے مٹائے گئے۔
یاد ایام کہ اک
یاد ایام کہ اک محفل جاں تھی کہ جہاں
ہاتھ کھینچے بھی گئے اور ملائے بھی گئ
Explanation: ماضی کی ان خوبصورت اور پررونق محفلوں کو یاد کیا جا رہا ہے جہاں زندگی پوری توانائی کے ساتھ موجود تھی، جہاں دوستوں کے ساتھ جھگڑے بھی ہوتے تھے اور صلح کے بعد ہاتھ بھی ملائے جاتے تھے۔
