Explanation: سچے اور دیوانے عاشقوں (یا حق پرستوں) کا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کسی منافقت کی پرواہ نہیں کرتے، جس کی وجہ سے شہر کا ہر شخص ان سے ناراض رہتا ہے اور کوئی ان کا ساتھ نہیں دیتا۔
حسن سے عرض شوق
حسن سے عرض شوق نہ کرنا حسن کو زک پہنچانا ہے
ہم نے عرض شوق نہ کر کے حسن کو زک پہنچائی ہے
Explanation: محبوب کو اپنی خوبصورتی پر بہت غرور تھا اور اسے تعریف کی عادت تھی، مگر شاعر نے جان بوجھ کر اس کے حسن کی تعریف یا محبت کا اظہار نہ کر کے، اس کے غرور کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔
مہذب آدمی پتلون کے
مہذب آدمی پتلون کے بٹن تو لگا
کہ ارتقا ہے عبارت بٹن لگانے سے
Explanation: یہ مغربی تہذیب اور نام نہاد ترقی یافتہ انسان پر ایک انتہائی سخت، ننگا اور تلخ طنز ہے کہ کیا تہذیب کا سارا ارتقاء صرف لباس اور ظاہری رکھ رکھاؤ تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔
میرے تیور بجھ گئے
میرے تیور بجھ گئے میری نگاہیں جل گئی
اب کوئی آئینہ رو آئینہ دار آیا تو کیا
Explanation: مسلسل انتظار میں شاعر کی آنکھوں کی بینائی اور چہرے کی چمک ختم ہو چکی ہے، اب اگر کوئی بے حد حسین (آئینے کی طرح روشن) محبوب لوٹ کر آ بھی جائے تو شاعر کے لیے وہ بے کار ہے۔
تیغ تو جونؔ پھینک
تیغ تو جونؔ پھینک دیجے مگر
ہاتھ میں اپنے ڈھال تو رکھئے
Explanation: اپنے دفاع کی حکمتِ عملی ہے کہ اگرچہ دنیا سے لڑائی ترک کر کے اپنی تلوار پھینک دی ہے، مگر پھر بھی لوگوں کے حملوں اور سازشوں سے بچنے کے لیے اپنا دفاعی ہتھیار (ڈھال) پاس رکھنا ضروری ہے۔
پاس حیات کا خیال
پاس حیات کا خیال ہم کو بہت برا لگا
پس بہ ہجوم معرکہ جان کے بے سپر گئے
Explanation: جان بچانے کی بزدلی شاعر کو بالکل پسند نہ آئی، اس لیے اس نے اپنی خودداری کی خاطر دشمنوں کی بھیڑ میں بغیر کسی ڈھال یا ہتھیار کے کود کر موت کا سامنا کیا۔
تیرا خیال خواب خواب
تیرا خیال خواب خواب خلوت جاں کی آب و تاب
جسم جمیل و نوجواں شام بخیر شب بخیر
Explanation: یہ ایک انتہائی نرم اور رومانوی کیفیت ہے جس میں شاعر اپنے خوبصورت محبوب کے خیالوں میں کھو کر اسے اپنے دل کی تنہائیوں میں محبت بھرا 'شب بخیر' کہہ رہا ہے۔
لمحہ بہ لمحہ دم
لمحہ بہ لمحہ دم بہ دم آن بہ آن رم بہ رم
میں بھی گزشتگاں میں ہوں تو بھی گزشتگاں میں ہے
Explanation: وقت کی مسلسل اور بے رحم رفتار کا بیان ہے کہ وقت ہر سیکنڈ تیزی سے گزر رہا ہے، اور دیکھتے ہی دیکھتے ہم دونوں بھی ماضی کی کہانی اور مرے ہوئے لوگوں میں شامل ہو جائیں گے۔
ہے یہ وجود کی
ہے یہ وجود کی نمود اپنی نفس نفس گریز
وقت کی ساری بستیاں، اپنی ہزیمتوں میں ہیں
Explanation: انسان کی زندگی ایک مسلسل فرار کا نام ہے جہاں ہر سانس ہمیں موت کے قریب کر رہی ہے، اور دنیا کی تمام بستیاں بالآخر وقت کے ہاتھوں شکست اور تباہی کا شکار ہو جاتی ہیں۔
ہم نفسان وضع دار
ہم نفسان وضع دار مستمعان برد بار
ہم تو تمہارے واسطے ایک وبال ہو گئے
Explanation: شاعر اپنے وضع دار دوستوں اور برداشت کرنے والے سامعین سے معذرت خواہ ہے کہ میری باغیانہ اور تلخ باتوں نے ان مہذب لوگوں کی پرسکون زندگی میں خواہ مخواہ کی مصیبت کھڑی کر دی ہے۔
مرے حریف مری یکہ
مرے حریف مری یکہ تازیوں پہ نثار
تمام عمر حلیفوں سے جنگ کی میں نے
Explanation: یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ شاعر کے بہادرانہ اور اکیلے جنگ لڑنے پر اس کے دشمن بھی تعریف کرتے رہے، جبکہ اسے ساری عمر دشمنوں کے بجائے اپنے دوستوں اور حمایتیوں (منافقوں) سے لڑنا پڑا۔
ایک سرود روشنی نیمۂ
ایک سرود روشنی نیمۂ شب کا خواب تھا
ایک خموش تیرگی سانحہ آشنا بھی تھی
Explanation: آدھی رات کے وقت زندگی کی امید اور موت کی تاریکی کے درمیان کی کشمکش کا بیان ہے، جہاں روشنی ایک خواب لگتی ہے جبکہ اندھیرا کسی بڑے اور خوفناک حادثے سے واقف معلوم ہوتا ہے۔
بے ستوں اک نواحی
بے ستوں اک نواحی میں ہے شہر دل کی
تیشہ انعام کریں اور کوئی فرہاد رکھیں
Explanation: شاعر کے دل کی دنیا بے ستون (عشق کا پہاڑ) بن چکی ہے، اب اسے توڑنے اور راستہ بنانے کے لیے کسی ایسے دیوانے عاشق (فرہاد) اور تیشے (درد) کی ضرورت ہے جو اس دل کو فتح کر سکے۔
بے دلی کیا یوں
بے دلی کیا یوں ہی دن گزر جائیں گے
صرف زندہ رہے ہم تو مر جائیں گے
Explanation: بغیر کسی جذبے، محبت یا مقصد کے محض سانس لینے سے شاعر بیزار ہے، وہ کہتا ہے کہ اگر زندگی میں کوئی جوش نہیں اور ہم یونہی بے دلی سے زندہ رہے تو یہ احساس ہمیں مار دے گا۔
وہ منکر ہے تو
وہ منکر ہے تو پھر شاید ہر اک مکتوب شوق اس نے
سر انگشت حنائی سے خلاؤں میں لکھا ہوگا
Explanation: اگرچہ محبوب اب محبت کا انکار کر رہا ہے، لیکن شاعر کو یاد ہے کہ وہ محبوب کبھی اپنی مہندی لگی انگلیوں سے ہواؤں میں شاعر کے لیے محبت کے پوشیدہ پیام اور خطوط لکھا کرتا تھا۔
اس کی چشم نیم
اس کی چشم نیم وا سے پوچھیو
وہ ترے مژگاں شماراں کیا ہوئے
Explanation: محبوب کی نشیلی اور آدھی کھلی ہوئی آنکھوں کا سحر اتنا گہرا ہے کہ جو عاشق بھی ان کی پلکوں کو گننے اور قریب سے دیکھنے کی کوشش کرتا تھا، وہ ہمیشہ کے لیے اس نظر میں غرق ہو گیا۔
طفلان کوچہ گرد کے
طفلان کوچہ گرد کے پتھر بھی کچھ نہیں
سودا بھی ایک وہم ہے اور سر بھی کچھ نہیں
Explanation: دیوانگی اور جنون کی آخری حد ہے جہاں گلی کے بچوں کے مارے ہوئے پتھروں کی کوئی تکلیف محسوس نہیں ہوتی، اور خود عشق کا جنون اور سر کا کٹ جانا بھی اب معمولی بات لگتی ہے۔
آج لب گہر فشاں
آج لب گہر فشاں آپ نے وا نہیں کیا
تذکرۂ خجستۂ آب و ہوا نہیں کیا
Explanation: محبوب کی خاموشی پر شاعر التجا کر رہا ہے کہ آج تم نے اپنے موتی برسانے والے ہونٹوں کو نہیں کھولا، اور نہ ہی معمول کی ادھر ادھر کی کوئی میٹھی بات کر کے محفل کی فضا کو تازہ کیا۔
وہ جو تھے شہر
وہ جو تھے شہر تحیر ترے پر فن معمار
وہی پر فن تجھے ڈھانے کے لیے نکلے ہیں
Explanation: جن انسانوں نے اس تہذیب، شہر یا رشتے کو بڑی محنت اور فنکاری کے ساتھ تعمیر کر کے خوبصورت بنایا تھا، آج وہی لوگ بڑی مکاری اور ہنر کے ساتھ اسے برباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
اے طراحدار عشوہ طراز
اے طراحدار عشوہ طراز دیار ناز
رخصت ہوا ہوں تیرے لیے دل گلی سے میں
Explanation: محبوب کی نخرے باز اور حسین فطرت کی تعریف کرتے ہوئے شاعر بتاتا ہے کہ میں تیرے اس غرور اور حسن کی وجہ سے اپنے دل کی گلی کو ہمیشہ کے لیے ویران چھوڑ کر جا رہا ہوں۔