Skip to content

Jaun Eliya

پوچھ نہ وصل کا

پوچھ نہ وصل کا حساب حال ہے اب بہت خراب

رشتۂ جسم و جاں کے بیچ جسم حرام ہو گیا

Explanation: یہ روحانی محبت کی بلندی اور جسمانی کشش سے بیزاری کا بیان ہے کہ محبت اس قدر خالص ہو گئی ہے کہ اب روحانیت کے بیچ جسمانی وصل اور لمس گناہ یا حرام محسوس ہوتا ہے۔

اس کے ہونٹھوں پہ

اس کے ہونٹھوں پہ رکھ کے ہونٹھ اپنے

بات ہی ہم تمام کر رہے ہیں

Explanation: جب لفظوں کی ضرورت ختم ہو جائے تو جسمانی قربت (بوسہ) ہی اظہار کا سب سے طاقتور ذریعہ بن جاتا ہے، جس سے محبوب کے تمام شکوے اور دوریاں ایک ہی پل میں ختم کر دی جاتی ہیں۔

دو جہاں سے گزر

دو جہاں سے گزر گیا پھر بھی

میں رہا خود کو عمر بھر درپیش

Explanation: انسان کی سب سے بڑی جنگ اس کی اپنی ذات سے ہوتی ہے، شاعر کہتا ہے کہ میں نے دنیا اور آخرت کی فکر چھوڑ دی، مگر پھر بھی میری اپنی انا اور میری ذات میرے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ بنی رہی۔

کس سے اظہار مدعا

کس سے اظہار مدعا کیجے

آپ ملتے نہیں ہیں کیا کیجے

Explanation: جب وہ واحد شخص ہی پاس موجود نہ ہو جسے شاعر اپنے دل کا درد بتا سکے، تو پھر وہ اپنی کیفیت کس کو جا کر سنائے، یہ انتہائی مجبوری اور تنہائی کا شعر ہے۔

جونؔ جنوب زرد کے

جونؔ جنوب زرد کے خاک بسر یہ دکھ اٹھا

موج شمال سبز جاں آئی تھی اور چلی گئی

Explanation: جنوب کی خزاں اور پیلے پن میں رہنے والے شاعر کو تھوڑی دیر کے لیے ایک ہری بھری بہار (محبوب) نصیب ہوئی تھی، مگر وہ خوشی کا جھونکا چند لمحے رک کر فوراً ہی واپس چلا گیا۔

رکھو دیر و حرم

رکھو دیر و حرم کو اب مقفل

کئی پاگل یہاں سے بھاگ نکلے

Explanation: مذہبی شدت پسندی اور عقیدوں کی بندشوں پر بغاوت ہے کہ مساجد اور مندروں (روایتی عقیدوں) کو تالے لگا دو، کیونکہ شعور پانے والے بہت سے آزاد ذہن ان جھوٹی قیدوں کو توڑ کر فرار ہو چکے ہیں۔

آپ اپنی گلی کے

آپ اپنی گلی کے سائل کو

کم سے کم پر سوال تو رکھئے

Explanation: محبوب کی درگاہ پر کھڑے فقیر (عاشق) کی التجا ہے کہ وہ اپنے در کے بھکاری کی کچھ تو عزت رکھے اور اسے بالکل ہی نظر انداز کرنے کے بجائے کم از کم اس کی بات تو سن لے۔

بہت کترا رہے ہو

بہت کترا رہے ہو مغبچوں سے

گناہ ترک بادہ کر لیا کیا

Explanation: شاعر ایک شرابی دوست سے طنز کر رہا ہے کہ تم آج کل میخانے میں کام کرنے والے نوجوانوں (مغبچوں) سے بچ کر چل رہے ہو، کیا تم نے شراب چھوڑنے کا بہت بڑا گناہ کر لیا ہے؟

مرہم ہجر تھا عجب

مرہم ہجر تھا عجب اکسیر

اب تو ہر زخم بھر گیا ہوگا

Explanation: محبوب کا بچھڑنا ایک ایسا کڑوا مگر طاقتور علاج تھا جس نے عاشق کی تمام تر توقعات اور امیدوں کا خاتمہ کر کے اسے بے حس کر دیا، جس کی وجہ سے اس کے باقی تمام زخموں کی تکلیف ختم ہو گئی۔

سوچا ہے کہ اب

سوچا ہے کہ اب کار مسیحا نہ کریں گے

وہ خون بھی تھوکے گا تو پروا نہ کریں گے

Explanation: محبوب کی بے رخی اور دھوکے سے تنگ آ کر شاعر نے دل سخت کر لیا ہے اور قسم کھاتا ہے کہ اب اگر وہ بیمار ہو کر خون بھی تھوکے تو میں اس کی کوئی تیمار داری یا فکر نہیں کروں گا۔

ہم ترا ہجر منانے

ہم ترا ہجر منانے کے لیے نکلے ہیں

شہر میں آگ لگانے کے لیے نکلے ہیں

Explanation: عاشق کے سینے میں جدائی کی آگ اتنی شدید بھڑک اٹھی ہے کہ وہ اپنے اس ہجر کے تہوار کو پرامن طریقے سے منانے کے بجائے، پورے شہر کے سکون کو آگ لگا کر تباہ کرنے پر تل گیا ہے۔

مری شراب کا شہرہ

مری شراب کا شہرہ ہے اب زمانے میں

سو یہ کرم ہے تو کس کا ہے اب بھی آ جاؤ

Explanation: شاعر کی شدید مے نوشی اور بربادی کی خبر پورے معاشرے میں پھیل چکی ہے، وہ محبوب کو یاد دلاتا ہے کہ مجھے اس حال تک پہنچانے والے تم ہی ہو، کم از کم اب تو میری حالت دیکھنے آ جاؤ۔

یہ پیہم تلخ کامی

یہ پیہم تلخ کامی سی رہی کیا

محبت زہر کھا کر آئی تھی کیا

Explanation: محبت میں ملنے والے مسلسل دکھوں اور ناکامیوں پر شاعر سوچتا ہے کہ کیا یہ محبت شروع سے ہی اتنی زہریلی اور تباہ کن تھی جس نے میری پوری زندگی میں کڑواہٹ گھول دی۔

رہن سرشاریٔ فضا کے

رہن سرشاریٔ فضا کے ہیں

آج کے بعد ہم ہوا کے ہیں

Explanation: دنیاوی رشتوں اور بندشوں سے مکمل طور پر آزاد ہونے کا اعلان ہے کہ آج کے بعد ہم نے خود کو اس کائنات کی کھلی ہوا اور مست فضاؤں کے حوالے کر دیا ہے، ہمارا کسی انسان سے تعلق نہیں۔

کسی کے بن کسی

کسی کے بن کسی کی یاد کے بن

جیئے جانے کی ہمت ہے نہیں تو

Explanation: انسان کی مجبوری کا بیان ہے کہ کوئی بھی انسان مکمل طور پر تنہا زندہ نہیں رہ سکتا، اسے جینے کے لیے کسی کی موجودگی یا کم از کم کسی کی یادوں کے سہارے کی ضرورت لازمی ہوتی ہے۔

انقلاب ایک خواب ہے

انقلاب ایک خواب ہے سو ہے

دل کی دنیا خراب ہے سو ہے

Explanation: سماجی تبدیلی (انقلاب) کی امیدیں ٹوٹنے کے بعد شاعر حقیقت تسلیم کرتا ہے کہ انقلاب اب صرف ایک جھوٹا خواب بن کر رہ گیا ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ غریبوں کے دلوں کی دنیا بدستور تباہ ہے۔

کتنی وحشت ہے درمیان

کتنی وحشت ہے درمیان ہجوم

جس کو دیکھو گیا ہوا ہے کہیں

Explanation: جدید دور کی بھیڑ میں انسان کے کھو جانے کی تصویر کشی ہے کہ انسانوں کے ہجوم میں بھی ہر شخص ذہنی طور پر کہیں اور بھٹک رہا ہے، اور جسمانی موجودگی کے باوجود سب کے اندر ایک خوفناک ویرانی ہے۔

دل اب دنیا پہ

دل اب دنیا پہ لعنت کر کہ اس کی

بہت خدمت گزاری ہو گئی ہے

Explanation: دنیا داری نبھاتے نبھاتے تھک جانے پر شاعر اپنے دل سے مخاطب ہے کہ اب اس مطلب پرست دنیا سے بغاوت کر دے، کیونکہ ہم نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ اس کی جھوٹی خدمت میں ضائع کر دیا ہے۔

کیا ہوئے صورت نگاراں

کیا ہوئے صورت نگاراں خواب کے

خواب کے صورت نگاراں کیا ہوئے

Explanation: شاعر ان لوگوں کو تلاش کر رہا ہے جو ماضی میں خوبصورت خوابوں (نظریات اور امیدوں) کی تصویریں بنایا کرتے تھے، اب وہ خواب بھی ختم ہو گئے اور ان خوابوں کو دیکھنے والے بھی کہیں کھو گئے۔

سینہ دہک رہا ہو

سینہ دہک رہا ہو تو کیا چپ رہے کوئی

کیوں چیخ چیخ کر نہ گلا چھیل لے کوئی

Explanation: ظلم سہتے ہوئے خاموشی توڑنے کا پیغام ہے کہ جب انسان کے دل میں غم اور غصے کی آگ بھڑک رہی ہو، تو پھر اسے ہر حد پار کر کے اپنی چیخوں سے اس درد کا بھرپور اظہار کرنا چاہیے۔