Skip to content

Jaun Eliya

مجھ کو یہ ہوش

مجھ کو یہ ہوش ہی نہ تھا تو مرے بازوؤں میں ہے

یعنی تجھے ابھی تلک میں نے رہا نہیں کیا

Explanation: محبوب کو بچھڑے ہوئے عرصہ گزر گیا ہے لیکن شاعر آج بھی خیالات اور یادوں کی گرفت میں محبوب کو اتنی شدت سے محسوس کرتا ہے کہ گویا اس نے محبوب کو ابھی تک اپنی بانہوں سے جدا ہی نہیں کیا۔

زمانہ تھا وہ دل

زمانہ تھا وہ دل کی زندگی کا

تری فرقت کے دن لاؤں کہاں سے

Explanation: شاعر حسرت سے یاد کرتا ہے کہ وہ وقت اور تھا جب دل زندہ تھا اور تیرے ہجر میں تڑپتا تھا، اب تو دل میں اتنی جان بھی نہیں بچی کہ دوبارہ اس جدائی کے دکھ کو محسوس کر سکے۔

حملہ ہے چار سو

حملہ ہے چار سو در و دیوار شہر کا

سب جنگلوں کو شہر کے اندر سمیٹ لو

Explanation: جدید شہری زندگی کی گھٹن اور دیواروں کی قید نے انسان کی فطری آزادی کو چھین لیا ہے، شاعر جنگلوں (آزادی اور وسعت) کو شہر کے اندر لانے کی التجا کرتا ہے تاکہ اس گھٹن سے نجات ملے۔

ہم کو ہرگز نہیں

ہم کو ہرگز نہیں خدا منظور

یعنی ہم بے طرح خدا کے ہیں

Explanation: یہ عشق کی انتہائی گہری اور الٹی منطق ہے کہ ہم خدا (یا محبوب) کے وجود اور حکمرانی سے انکاری ہیں، کیونکہ دراصل ہم اتنی شدت سے اس کے غلام ہو چکے ہیں کہ ہمیں اپنی ذات کی نفی کرنی پڑ رہی ہے۔

یہ غم کیا دل

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو

کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو

Explanation: شاعر کو خود بھی اپنی بے وجہ اداسی کی سمجھ نہیں آ رہی، وہ سوچتا ہے کہ نہ مجھے کسی سے کوئی خاص شکوہ ہے اور نہ ہی یہ درد دل کی عادت ہے، پھر نجانے یہ گہرا دکھ کہاں سے آیا ہے۔

ایک قتالہ چاہئے ہم

ایک قتالہ چاہئے ہم کو

ہم یہ اعلان عام کر رہے ہیں

Explanation: محبت میں مر مٹنے کا بے باک اعلان ہے، شاعر علی الاعلان کہہ رہا ہے کہ اسے ایسی قاتل عورت (محبوبہ) کی تلاش ہے جو اس کے دل کو بری طرح توڑے اور اسے تباہ کر دے۔

کچھ تو رشتہ ہے

کچھ تو رشتہ ہے تم سے کم بختوں

کچھ نہیں کوئی بد دعا بھیجو

Explanation: توجہ اور تعلق کی شدید بھوک ہے، شاعر اپنے بے وفا دوستوں یا محبوبوں سے کہتا ہے کہ اگر پیار کا رشتہ ختم ہو گیا ہے تو کوئی بات نہیں، کم از کم مجھے کوئی بددعا ہی دے دو تاکہ رابطہ قائم رہے۔

حسن کہتا تھا چھیڑنے

حسن کہتا تھا چھیڑنے والے

چھیڑنا ہی تو بس نہیں چھو بھی

Explanation: یہ حسن کی اپنی ایک شرارت اور غرور ہے جو عاشق کو دعوت دے رہا ہے کہ محض دور سے دیکھنا یا چھیڑنا کافی نہیں، اگر ہمت ہے تو میرے قریب آ کر مجھے چھو کر دکھاؤ۔

اب کہ جب جانانہ

اب کہ جب جانانہ تم کو ہے سبھی پر اعتبار

اب تمہیں جانانہ مجھ پر اعتبار آیا تو کیا

Explanation: جب محبوب نے دنیا کے ہر شخص پر بھروسہ کر کے دھوکہ کھا لیا اور آخر میں تھک ہار کر شاعر پر یقین کیا، تو شاعر کہتا ہے کہ ایسی مجبوری کے اعتبار کا اب مجھے کوئی فائدہ نہیں۔

ان لبوں کا لہو

ان لبوں کا لہو نہ پی جاؤں

اپنی تشنہ لبی سے خطرہ ہے

Explanation: وصل کے لمحے میں عاشق کی دیوانگی کا ذکر ہے کہ اس کے اندر پیار کی اتنی شدید پیاس بھڑکی ہوئی ہے کہ اسے ڈر ہے کہ وہ وحشت میں آ کر محبوب کے نازک ہونٹوں کو خون آلود نہ کر دے۔

رائیگاں وصل میں بھی

رائیگاں وصل میں بھی وقت ہوا

پر ہوا خوب رائیگاں جاناں

Explanation: ملاقات کے لمحات اگرچہ دنیاوی لحاظ سے کوئی منافع بخش کام نہیں تھے اور وہ وقت ضائع ہی ہوا، لیکن شاعر کہتا ہے کہ محبوب کے ساتھ وہ وقت ضائع کرنے میں بھی ایک زبردست لطف اور مزہ آیا۔

میں لے کے دل

میں لے کے دل کے رشتے گھر سے نکل چکا ہوں

دیوار و در کے رشتے دیوار و در میں ہوں گے

Explanation: شاعر مادی دنیا، جائیداد اور خون کے رسمی رشتوں کو چھوڑ کر محبت کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا ہے، اس کے نزدیک سچے دل کا رشتہ ان مکانوں کی دیواروں سے بہت بلند ہے۔

اک حسن بے مثال

اک حسن بے مثال کی تمثیل کے لیے

پرچھائیوں پہ رنگ گراتا رہا ہوں میں

Explanation: کامل حسن کو پانے کی بے سود کوششوں کا بیان ہے، شاعر نے ایک ان دیکھے اور مثالی حسن کو تصویروں یا لفظوں میں ڈھالنے کے لیے محض سایوں میں رنگ بھرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔

ہائے وہ اس کا

ہائے وہ اس کا موج خیز بدن

میں تو پیاسا رہا لب جو بھی

Explanation: محبوب کے جسمانی حسن اور اپنی محرومی کا ذکر ہے کہ محبوب کا قرب ایک بہتے ہوئے دریا کی طرح تھا، لیکن شاعر کو دریا کے کنارے بیٹھ کر بھی اس سے پیاس بجھانے (وصل) کی ہمت نہ ہوئی۔

شاید وہ دن پہلا

شاید وہ دن پہلا دن تھا پلکیں بوجھل ہونے کا

مجھ کو دیکھتے ہی جب اس کی انگڑائی شرمائی ہے

Explanation: یہ محبوب کے دل میں محبت جاگنے کے پہلے دن کی خوبصورت نشانی ہے جب وہ شاعر کو دیکھ کر بے تکلف انگڑائی لیتے ہوئے اچانک شرما گیا اور اس کی پلکیں حیا سے جھک گئیں۔

نہ رکھا ہم نے

نہ رکھا ہم نے بیش و کم کا خیال

شوق کو بے حساب ہی لکھا

Explanation: عشق میں نفع نقصان اور حدود کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی، شاعر کہتا ہے کہ ہم نے محبت میں حساب کتاب نہیں کیا بلکہ اپنے دیوانے پن کو لامحدود اور بے حساب انداز میں ہی نبھایا۔

شیشے کے اس طرف

شیشے کے اس طرف سے میں سب کو تک رہا ہوں

مرنے کی بھی کسی کو فرصت نہیں ہے مجھ میں

Explanation: یہ انسان کے اندر موجود مختلف کرداروں کی الجھن ہے، شاعر محسوس کرتا ہے کہ وہ ایک شیشے کے پیچھے سے اپنے اندر کی بکھری ہوئی ذاتوں کو دیکھ رہا ہے جو مرنے کو بھی تیار نہیں۔

ثابت ہوا سکون دل

ثابت ہوا سکون دل و جاں کہیں نہیں

رشتوں میں ڈھونڈھتا ہے تو ڈھونڈا کرے کوئی

Explanation: تمام عمر کے تلخ تجربات کے بعد شاعر اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ دنیا کے کسی رشتے میں حقیقی دلی اور روحانی سکون نہیں ملتا، اگر کوئی اب بھی انہیں رشتوں میں ڈھونڈتا ہے تو وہ بیوقوف ہے۔

اے صبح میں اب

اے صبح میں اب کہاں رہا ہوں

خوابوں ہی میں صرف ہو چکا ہوں

Explanation: انسان کی توانائیاں اور عمر خواب دیکھنے اور تخیلاتی دنیا میں ہی ضائع ہو گئی ہیں، شاعر نئی صبح (حقیقی زندگی) سے معذرت کرتا ہے کہ مجھ میں اب جینے کی رمق باقی نہیں رہی۔

مجھے غرض ہے مری

مجھے غرض ہے مری جان غل مچانے سے

نہ تیرے آنے سے مطلب نہ تیرے جانے سے

Explanation: یہ عاشق کی اس دیوانگی کا ذکر ہے جہاں اسے محبوب کے ملنے یا بچھڑنے سے فرق نہیں پڑتا، بلکہ اسے صرف عشق کے اس پاگل پن اور شور شرابے کی عادت پڑ چکی ہے۔